کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جادوگر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ جَارِيَةً لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَحَرَتْهَا فَاعْتَرَفَتْ بِهِ عَلَى نَفْسِهَا ، فَأَمَرَتْ حَفْصَةُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ فَقَتَلَهَا ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا عُثْمَانُ ، فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ : إِنَّهَا سَحَرَتْهَا وَاعْتَرَفَتْ بِهِ ، فَكَأَنَّ عُثْمَانَ أَنْكَرَ عَلَيْهَا مَا فَعَلَتْ دُونَ السُّلْطَانِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الْمَدَنِيِّينَ وَهِيَ ضَعِيفَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی کنیز نے ان پر جادو کر دیا پھر اس نے اپنے بارے میں اس چیز کا اعتراف بھی کر لیا تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عبدالرحمن بن یزید کو حکم دیا تو انہوں نے اس کنیز کو قتل کر دیا سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس حوالے سے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض کیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور انہوں نے بتایا کہ اس کنیز نے ان پر جادو کیا تھا اور اس کا اعتراف بھی کر لیا تھا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) یوں لگتا ہے کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس حوالے سے اعتراض کیا تھا کہ انہوں نے حاکم وقت کے بغیر خود ایسا کیا تھا ( یعنی اسے سزا دے دی تھی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسماعیل بن عیاش کی اہل مدینہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور
یہ روایت ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10689
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (187/23)»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَقَدَ لَهُ عَقْدًا فَجَعَلَهُ فِي بِئْرِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَأَتَاهُ مَلَكَانِ يَعُودَانِهِ ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَتَدْرِي مَا وَجَعُهُ ؟ قَالَ : فُلَانٌ يَدْخُلُ عَلَيْهِ عَقَدَ لَهُ عَقْدًا ، فَأَلْقَاهُ فِي بِئْرِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ ، فَلَوْ أَرْسَلَ إِلَيْهِ لَوَجَدَ الْمَاءَ أَصْفَرَ . ¤ قَالَ : فَبَعَثَ رَجُلًا فَأَخَذَ الْعَقْدَ فَحَلَّهُ فَبَرِئَ ، فَكَانَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا مِنْهُ ، وَلَمْ يُعَاتِبْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے گرہ لگائی اور اس گرہ والی چیز کو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے کنویں میں ڈال دیا ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا ) دو فرشتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کرنے کے لئے آئے ان میں سے ایک آپ کے سرہانے کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا پائنتی کی طرف بیٹھ گیا ان میں سے ایک نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ انہیں کیا تکلیف ہے دوسرے نے بتایا کہ فلاں شخص ان کے پاس آیا اور اس نے ان کے لئے گرہ لگائی اور اس چیز کو فلاں انصاری کے کنویں میں ڈال دیا ( یعنی ان پر جادو کر دیا ) اگر یہ اس کنویں کی طرف کسی کو بھیجیں تو وہ شخص وہاں کے پانی کو زرد پائے گا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا اس نے گرہوں والی چیز کو لیا اور اسے کھول دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک ہو گئے اس کے بعد بھی وہ ( جادو کرنے والا ) شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا رہا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اس حوالے سے کوئی بات ذکر نہیں کی اور اسے کوئی سزا نہیں دی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5011)»
وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ : سَحَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ، فَاشْتَكَى لِذَلِكَ أَيَّامًا ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْيَهُودِ سَحَرَكَ ، عَقَدَ لَكَ عَقْدًا . فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا فَاسْتَخْرَجَهَا ، فَجَعَلَ كُلَّمَا حَلَّ عُقْدَةً وَجَدَ لِذَلِكَ خِفَّةً . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ قِصَّةُ عَائِشَةَ مَعَ جَارِيَتِهَا فِي الطِّبِّ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا آپ اس کی وجہ سے کچھ دن بیمار رہے سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے : یہودیوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ پر جادو کیا ہے ، اور اس نے آپ کے لئے گرہیں لگائی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کی طرف بھیجا انہوں نے اس چیز کو نکالا تو وہ جیسے جیسے گرہ کھولتے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں بہتری ہوتی گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے طب سے متعلق باب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی کنیز کا واقعہ گزر چکا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10691
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5016)»