حدیث نمبر: 10690
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَقَدَ لَهُ عَقْدًا فَجَعَلَهُ فِي بِئْرِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَأَتَاهُ مَلَكَانِ يَعُودَانِهِ ، فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : أَتَدْرِي مَا وَجَعُهُ ؟ قَالَ : فُلَانٌ يَدْخُلُ عَلَيْهِ عَقَدَ لَهُ عَقْدًا ، فَأَلْقَاهُ فِي بِئْرِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ ، فَلَوْ أَرْسَلَ إِلَيْهِ لَوَجَدَ الْمَاءَ أَصْفَرَ . ¤ قَالَ : فَبَعَثَ رَجُلًا فَأَخَذَ الْعَقْدَ فَحَلَّهُ فَبَرِئَ ، فَكَانَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا مِنْهُ ، وَلَمْ يُعَاتِبْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے گرہ لگائی اور اس گرہ والی چیز کو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے کنویں میں ڈال دیا ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا ) دو فرشتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کرنے کے لئے آئے ان میں سے ایک آپ کے سرہانے کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا پائنتی کی طرف بیٹھ گیا ان میں سے ایک نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ انہیں کیا تکلیف ہے دوسرے نے بتایا کہ فلاں شخص ان کے پاس آیا اور اس نے ان کے لئے گرہ لگائی اور اس چیز کو فلاں انصاری کے کنویں میں ڈال دیا ( یعنی ان پر جادو کر دیا ) اگر یہ اس کنویں کی طرف کسی کو بھیجیں تو وہ شخص وہاں کے پانی کو زرد پائے گا ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا اس نے گرہوں والی چیز کو لیا اور اسے کھول دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک ہو گئے اس کے بعد بھی وہ ( جادو کرنے والا ) شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا رہا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے اس حوالے سے کوئی بات ذکر نہیں کی اور اسے کوئی سزا نہیں دی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10690
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5011)»