کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ نَظَرَ إِلَى مُسْلِمٍ نَظْرَةً يُخِيفُهُ فِيهَا بِغَيْرِ حَقٍّ ، أَخَافَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ ، ضَعَّفَهُ أَبُو عَرُوبَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مسلمان کی طرف اس طرح نظر کرے کہ اس کے ذریعے اسے خوف زدہ کر دے اور وہ ناحق طور پر ایسا کرے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوف کا شکار کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد أحمد بن عبدالرحمن بن عقال کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور ابوعروبہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10524
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ; أَنَّ رَجُلًا أَخَذَ نَعْلَيْ رَجُلٍ فَغَيَّبَهَا وَهُوَ يَمْزَحُ ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُرَوِّعُوا الْمُسْلِمَ ، فَإِنَّ رَوْعَةَ الْمُسْلِمِ ظُلْمٌ عَظِيمٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دوسرے شخص کے جوتے لئے ، اور انہیں چھپا دیا وہ شخص اس کے ساتھ مذاق کر رہا تھا اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی مسلمان کو پریشان نہ کرو کیونکہ مسلمان کو پریشان کرنا بڑا ظلم ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10525
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1523)»
وَعَنْ أَبِي حَسَنٍ - وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا - قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَجُلٌ وَنَسِيَ نَعْلَيْهِ ، فَأَخَذَهَا رَجُلٌ فَوَضَعَهُمَا تَحْتَهُ ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَقَالَ : نَعْلَيَّ . ¤ فَقَالَ الْقَوْمُ : مَا رَأَيْنَاهُمَا ، فَقَالَ : هُوَ ذِهْ ؟ فَقَالَ : " فَكَيْفَ بِرَوْعَةِ الْمُؤْمِنِ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا صَنَعْتُهُ لَاعِبًا ! فَقَالَ : " فَكَيْفَ بِرَوْعَةِ الْمُؤْمِنِ ؟ " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالحسن رضی اللہ عنہ ، جنہیں بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص اٹھ کر گیا وہ اپنے جوتے بھول گیا ایک اور شخص نے وہ جوتے لے لئے اور انہیں اپنے نیچے رکھ لیا پھر وہ شخص واپس آیا اور اس نے کہا: یہاں میرے جوتے تھے لوگوں نے کہا: ہم نے وہ نہیں دیکھے اس نے کہا: وہ یہیں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی مومن کو کیسے پریشان کیسے پریشان کیا جا سکتا ہے اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے مذاق کے طور پر ایسا کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی مومن کو کیسے پریشان کیا جا سکتا ہے ؟ یہ بات آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہاشمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10526
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (394/22)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَخَافَ مُؤْمِنًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُؤَمِّنَهُ مِنْ أَفْزَاعِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ الْوِصَابِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی مومن کو خوف زدہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس شخص کو قیامت کی خوف زدہ کرنے والی چیزوں سے محفوظ نہ رکھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حفص وصابی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10527
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1522)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَوْ مُؤْمِنٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی مسلمان ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) کسی مومن کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو پریشان کرے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10528
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1521)»
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ فَخَفَقَ رَجُلٌ عَنْ رَاحِلَتِهِ ، فَأَخَذَ رَجُلٌ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ، فَانْتَبَهَ الرَّجُلُ فَفَزِعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے ایک شخص اپنی سواری پر اونگھنے لگا ، تو دوسرے شخص نے اس کے ترکش میں سے ایک تیر لے لیا وہ شخص بیدار ہو گیا اور پریشان ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی شخص کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے ( یا پریشان کرے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10529
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ قَرْنٌ ، فَأَخَذَهَا بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : الْقَرْنُ ، فَكَأَنَّ بَعْضَ الْقَوْمِ ضَحِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُرَوِّعَنَّ مُسْلِمًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْعَبْدِيَّ فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَإِنْ كَانَ هُوَ الْمَكِّيَّ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی اس کے ساتھ ایک قرن تھا ( شاید سینگ مراد ہے ) حاضرین میں سے کسی نے وہ لے لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ، تو اس نے دیہاتی نے کہا: قرن کہاں ہے ، تو لوگوں میں سے کوئی ہنس پڑا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی مسلمان کو ہرگز پریشان نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابن عیینہ کی اسماعیل بن مسلم سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اگر تو وہ عبدی ہے ، تو پھر وہ صحیح کے رجال میں سے ہے ، اور اگر وہ مکی ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6487)»