حدیث نمبر: 10526
وَعَنْ أَبِي حَسَنٍ - وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا - قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ رَجُلٌ وَنَسِيَ نَعْلَيْهِ ، فَأَخَذَهَا رَجُلٌ فَوَضَعَهُمَا تَحْتَهُ ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَقَالَ : نَعْلَيَّ . ¤ فَقَالَ الْقَوْمُ : مَا رَأَيْنَاهُمَا ، فَقَالَ : هُوَ ذِهْ ؟ فَقَالَ : " فَكَيْفَ بِرَوْعَةِ الْمُؤْمِنِ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا صَنَعْتُهُ لَاعِبًا ! فَقَالَ : " فَكَيْفَ بِرَوْعَةِ الْمُؤْمِنِ ؟ " . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوالحسن رضی اللہ عنہ ، جنہیں بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص اٹھ کر گیا وہ اپنے جوتے بھول گیا ایک اور شخص نے وہ جوتے لے لئے اور انہیں اپنے نیچے رکھ لیا پھر وہ شخص واپس آیا اور اس نے کہا: یہاں میرے جوتے تھے لوگوں نے کہا: ہم نے وہ نہیں دیکھے اس نے کہا: وہ یہیں تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی مومن کو کیسے پریشان کیسے پریشان کیا جا سکتا ہے اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے مذاق کے طور پر ایسا کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی مومن کو کیسے پریشان کیا جا سکتا ہے ؟ یہ بات آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہاشمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10526
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (394/22)»