حدیث نمبر: 10530
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدَ أَنَّ أَعْرَابِيًّا صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ قَرْنٌ ، فَأَخَذَهَا بَعْضُ الْقَوْمِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ الْأَعْرَابِيُّ : الْقَرْنُ ، فَكَأَنَّ بَعْضَ الْقَوْمِ ضَحِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُرَوِّعَنَّ مُسْلِمًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْعَبْدِيَّ فَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ، وَإِنْ كَانَ هُوَ الْمَكِّيَّ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی اس کے ساتھ ایک قرن تھا ( شاید سینگ مراد ہے ) حاضرین میں سے کسی نے وہ لے لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا ، تو اس نے دیہاتی نے کہا: قرن کہاں ہے ، تو لوگوں میں سے کوئی ہنس پڑا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی مسلمان کو ہرگز پریشان نہ کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابن عیینہ کی اسماعیل بن مسلم سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اگر تو وہ عبدی ہے ، تو پھر وہ صحیح کے رجال میں سے ہے ، اور اگر وہ مکی ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6487)»