عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ [ عَنْ أَبِيهِ قُرَّةَ ] قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْقَادِسِيَّةِ بَعَثَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى صَاحِبِ فَارِسَ ، فَقَالَ : ابْعَثُوا مَعِي عَشَرَةً فَشَدَّ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ جَحْفَةً ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَوْهُ ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ : أَلْقُوا إِلَيَّ بُرْنُسًا فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ الْعِلْجُ : إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ الْعَرَبِ ، قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي حَمَلَكُمْ عَلَى الْجِيئَةِ إِلَيْنَا ، أَنْتُمْ قَوْمٌ لَا تَجِدُونَ فِي بِلَادِكُمْ مِنَ الطَّعَامِ مَا تَشْبَعُونَ مِنْهُ ، فَخُذُوا نُعْطِيكُمْ مِنَ الطَّعَامِ حَاجَتَكُمْ ، فَإِنَّا قَوْمٌ مَجُوسٌ ، وَإِنَّا نَكْرَهُ قَتْلَكُمْ ، وَإِنَّكُمْ تُنَجِّسُونَ عَلَيْنَا أَرْضَنَا . فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : وَاللَّهِ مَا ذَاكَ جَاءَ بِنَا ، وَلَكِنَّا كُنَّا قَوْمًا نَعْبُدُ الْحِجَارَةَ وَالْأَوْثَانَ فَإِذَا رَأَيْنَا حَجَرًا أَحْسَنَ مِنْ حَجَرٍ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا غَيْرَهُ ، وَلَا نَعْرِفُ رَبًّا ، حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِنَا ، فَدَعَانَا إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَاتَّبَعْنَاهُ ، وَلَمْ نَجِئْ لِطَعَامٍ ، وَأَمَرَنَا بِقِتَالِ عَدُوِّنَا مِمَّنْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ ، وَلَمْ نَجِئْ لِطَعَامٍ ، وَلَكِنَّا جِئْنَا نَقْتُلُ مُقَاتِلَتَكُمْ ، وَنَسْبِي ذَرَارِيَّكُمْ .
فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الطَّعَامِ ، فَإِنَّا كُنَّا لَعَمْرِي مَا نَجِدُ مِنَ الطَّعَامِ مَا نَشْبَعُ مِنْهُ ، وَرُبَّمَا لَمْ نَجِدْ رِيًّا مِنَ الْمَاءِ أَحْيَانًا ، فَجِئْنَا إِلَى أَرْضِكُمْ هَذِهِ ، فَوَجَدْنَا طَعَامًا كَثِيرًا ، فَلَا وَاللَّهِ لَا نَبْرَحُهَا حَتَّى تَكُونَ لَنَا أَوْ لَكُمْ . قَالَ الْعِلْجُ بِالْفَارِسِيَّةِ : صَدَقَ ، وَأَنْتَ تُفْقَأُ عَيْنُكَ غَدًا - بِالْفَارِسِيَّةِ - فَفُقِئَتْ عَيْنُهُ مِنَ الْغَدِ . أَصَابَتْهُ نُشَّابَةٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الطَّعَامِ ، فَإِنَّا كُنَّا لَعَمْرِي مَا نَجِدُ مِنَ الطَّعَامِ مَا نَشْبَعُ مِنْهُ ، وَرُبَّمَا لَمْ نَجِدْ رِيًّا مِنَ الْمَاءِ أَحْيَانًا ، فَجِئْنَا إِلَى أَرْضِكُمْ هَذِهِ ، فَوَجَدْنَا طَعَامًا كَثِيرًا ، فَلَا وَاللَّهِ لَا نَبْرَحُهَا حَتَّى تَكُونَ لَنَا أَوْ لَكُمْ . قَالَ الْعِلْجُ بِالْفَارِسِيَّةِ : صَدَقَ ، وَأَنْتَ تُفْقَأُ عَيْنُكَ غَدًا - بِالْفَارِسِيَّةِ - فَفُقِئَتْ عَيْنُهُ مِنَ الْغَدِ . أَصَابَتْهُ نُشَّابَةٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
معاویہ بن قرہ نے اپنے والد سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ” جنگ قادسیہ کے موقع پر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فارس کے حکمران کو پیغام بھیجا ( کہ وہ اس کو ملنا چاہتے ہیں ) پھر سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے ساتھ دس آدمیوں کو بھیجو انہوں نے اپنا لباس پہنا اپنے ساتھ ڈھال رکھی اور پھر روانہ ہو گئے ، یہاں تک کہ فارس کے حکمران کے پاس آئے انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: میرے لئے برنس ڈال دو پھر وہ اس پر تشریف فرما ہوئے اہل ایران کے سردار نے کہا: تم عرب لوگ میں جانتا ہوں کہ تم لوگ کس وجہ سے ہماری طرف آئے ہو تم ایسے لوگ ہو کہ تمہیں اپنے علاقوں میں کھانے کے لئے اتنا کچھ نہیں ملتا کہ جس سے تم سیر ہو سکو تو تم آؤ ہم تمہیں تمہاری ضرورت کے مطابق اناج دے دیتے ہیں کیونکہ ہم مجوس لوگ ہیں ہم تمہیں قتل کرنے کو ناپسند کرتے ہیں ، اور تم نے ہمارے پاس آ کر ہماری سرزمین کو خراب کر دیا ہے ، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ہم اس وجہ سے نہیں آئے ہیں ہم ایسے لوگ تھے کہ ہم پتھروں کی اور بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے جب ہم کوئی پتھر دوسرے پتھر سے زیادہ بہتر دیکھتے تھے ، تو پہلے والے کو پھینک دیتے تھے اور دوسرے والے کو لے لیتے تھے ہمیں اپنے پروردگار کی معرفت ہی نہیں تھی ، یہاں تک کہ اللہ نے ہماری طرف رسول کو مبعوث کیا جو ہم میں سے ہی تھے انہوں نے ہمیں اسلام کی دعوت دی تو ہم نے ان کی پیروی کی ہم اناج لینے کے لئے نہیں آئے ہیں ہمارے دشمنوں میں سے جو شخص اسلام کو ترک کرتا ہے ہمیں اس کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ہم اناج کی خاطر نہیں آئے ہیں ہم تمہارے جنگجو لوگوں کو قتل کرنے کے لئے آئے ہیں ، اور تمہارے بال بچوں کو قیدی بنانے کے لئے آئے ہیں جہاں تک تم نے اناج کا ذکر کیا ہے ، تو مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ہمیں وہ اتنا نہیں ملتا کہ جس کے ذریعے ہم سیر ہو جائیں اور بعض اوقات ہمیں تسلی بخش پانی بھی نہیں ملتا اب ہم تمہاری سرزمین کی طرف آئے ہیں یہاں ہمیں بہت سا اناج ملتا ہے ، تو اللہ کی قسم ہم اس وقت تک یہاں رہیں گے جب تک یہ زمین یا تمہاری نہیں ہو جاتی یا ہماری نہیں ہو جاتی تو ایرانیوں کے سردار نے فارسی میں کہا: اس نے سچ کہا: ہے پھر اس نے فارسی میں کہا: کل تمہاری آنکھ پھوٹ جائے گی تو اگلے دن ان کی آنکھ پھوٹ گئی تھی اسے تیر لگا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ : كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَنَحْنُ مَعَ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : فَإِذَا لَقِيتُمُ الْعَدُوَّ فَلَا تَفِرُّوا ، وَإِذَا غَنِمْتُمْ فَلَا تَغُلُّوا .
فَلَمَّا لَقِينَا الْعَدُوَّ ، قَالَ النُّعْمَانُ : أَمْهِلُوا الْقَوْمَ ، وَذَلِكَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَصْعَدَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَيَسْتَنْصِرَ ، فَقَاتَلَهُمْ ، فَانْقَضَّ النُّعْمَانُ ، فَقَالَ : سَجُّونِي ثَوْبًا ، وَأَقْبِلُوا عَلَى عَدُوِّكُمْ ، وَلَا أَهُولَنَّكُمْ . قَالَ : فَأَقْبَلْنَا عَلَيْهِمْ فَفَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْنَا ، وَأَتَى عُمَرَ الْخَبَرُ أَنَّهُ أُصِيبَ النُّعْمَانُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ ، وَرِجَالٌ لَا نَعْرِفُهُمْ . قَالَ : وَلَكِنَّ اللَّهَ يَعْرِفُهُمْ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
فَلَمَّا لَقِينَا الْعَدُوَّ ، قَالَ النُّعْمَانُ : أَمْهِلُوا الْقَوْمَ ، وَذَلِكَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَصْعَدَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَيَسْتَنْصِرَ ، فَقَاتَلَهُمْ ، فَانْقَضَّ النُّعْمَانُ ، فَقَالَ : سَجُّونِي ثَوْبًا ، وَأَقْبِلُوا عَلَى عَدُوِّكُمْ ، وَلَا أَهُولَنَّكُمْ . قَالَ : فَأَقْبَلْنَا عَلَيْهِمْ فَفَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْنَا ، وَأَتَى عُمَرَ الْخَبَرُ أَنَّهُ أُصِيبَ النُّعْمَانُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ ، وَرِجَالٌ لَا نَعْرِفُهُمْ . قَالَ : وَلَكِنَّ اللَّهَ يَعْرِفُهُمْ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ .
محمد محی الدین
ابوصلت بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خط لکھا ہم اس وقت سیدنا نعمان مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے فرمایا : جب تم دشمن کا سامنا کرو تو فرار نہ ہونا اور جب تمہیں مال غنیمت حاصل ہو ، تو خیانت نہ کرنا راوی کہتے ہیں : جب ہم نے دشمن کا سامنا کیا ، تو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں کو مہلت دو راوی کہتے ہیں : یہ جمعہ کے دن کی بات تھی ( سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس وقت تک مہلت دو ) جب تک امیر المؤمنین منبر پر بیٹھ کر مدد کی دعا نہیں کرتے پھر تم ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کرنا جب سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دینا اور دشمن پر حملہ آور ہو جانا اور میری وجہ سے پریشان نہ ہونا راوی کہتے ہیں تو ہم نے دشمن پر حملہ کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح نصیب کر دی جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں اطلاع ملی کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے فلاں صاحب شہید ہو گئے فلاں صاحب شہید ہو گئے ہیں ، اور ایسے لوگ شہید ہوئے ہیں ، جن سے ہم واقف نہیں ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ ان سے واقف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عُمَرَ شَاوَرَ الْهُرْمُزَانَ فِي أَصْبَهَانَ وَفَارِسَ وَأَذْرَبِيجَانَ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَصْبَهَانُ الرَّأْسُ ، وَفَارِسُ وَأَذْرَبِيجَانُ الْجَنَاحَانِ ، فَإِنْ قَطَعْتَ أَحَدَ الْجَنَاحَيْنِ ثَارَ الرَّأْسُ بِالْجَنَاحِ الْآخَرِ ، وَإِنْ قَطَعْتَ الرَّأْسَ وَقَعَ الْجَنَاحَانِ فَابْدَأْ بِالرَّأْسِ .
فَدَخَلَ عُمَرُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ يُصَلِّي فَانْتَظَرَهُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُسْتَعْمِلُكَ ، فَقَالَ : أَمَّا جَابِيًا فَلَا ، وَأَمَا غَازِيًا فَنَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّكَ غَازٍ .
فَسَرَّحَهُمْ وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ أَنْ يَمُدُّوهُ وَيَلْحَقُوا بِهِ فِيهِمْ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، وَالْأَشْعَثُ ، وَعَمْرُو بْنُ مَعْدِي كَرِبَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، فَأَتَاهُمُ النُّعْمَانُ ، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ نَهْرٌ .
فَبَعَثَ إِلَيْهِمُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رَسُولًا ، وَمَلِكُهُمْ ذُو الْجَنَاحَيْنِ فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : مَا تَرَوْنَ أَجْلِسُ لَهُ فِي هَيْئَةِ الْحَرْبِ أَوْ فِي هَيْئَةِ الْمَلِكِ وَبَهْجَتِهِ ؟ فَقَالُوا : اقْعُدْ لَهُ فِي هَيْئَةِ الْمَلِكِ وَبَهْجَتِهِ . فَجَلَسَ لَهُ عَلَى هَيْئَةِ الْمَلِكِ وَبَهْجَتِهِ عَلَى سَرِيرٍ وَوَضَعَ التَّاجَ عَلَى رَأْسِهِ ، وَحَوْلَهُ سِمَاطَانِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الدِّيبَاجِ وَالْقِرَطَةُ وَالْأَسْوِرَةُ ، فَأَخَذَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يَضَعُ بَصَرَهُ ، وَبِيَدِهِ الرُّمْحُ وَالتُّرْسُ ، وَالنَّاسُ حَوْلَهُ عَلَى سِمَاطَيْنِ عَلَى بِسَاطٍ لَهُ ، فَجَعَلَ يَطْعَنُهُ بِرُمْحِهِ يَخْرِقُهُ لِكَيْ يَتَطَيَّرُونَ . فَقَالَ لَهُ ذُو الْجَنَاحَيْنِ : إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ أَصَابَكُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ ، فَإِذَا شِئْتُمْ مِرْنَاكُمْ ، وَرَجَعْتُمْ إِلَى بِلَادِكُمْ ؟ فَتَكَلَّمَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : إِنَّا كُنَّا مَعْشَرَ الْعَرَبِ نَأْكُلُ الْجِيَفَ وَالْمَيْتَةِ ، وَكَانَ النَّاسُ يَطَئُونَا وَلَا نَطَؤُهُمْ ، فَابْتَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولًا فِي شَرَفٍ مِنَّا ، أَوْسَطَنَا حَسَبًا ، وَأَصْدَقَنَا حَدِيثًا ، وَإِنَّهُ وَعَدَنَا أَنَّا هَاهُنَا سَيُفْتَحُ عَلَيْنَا ، فَقَدْ وَجَدْنَا جَمِيعَ مَا وَعَدَنَا حَقًّا ، وَإِنِّي أَرَى هُنَا بِزَّةً وَهَيْئَةً مَا أَرَى أَنَّ مَنْ بَعْدِي بِذَاهِبِينَ حَتَّى يَأْخُذُوهُ .
قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَقَالَتْ لِي نَفْسِي : لَوْ جَمَعْتَ جَرَامِيزَكَ ، فَوَثَبْتُ وَثْبَةً فَجَلَسْتُ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ ، فَزَجَرُوهُ وَوَطِئُوهُ ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ أَنَا اسْتَحْمَقْتُ ، فَإِنَّ هَذَا لَا يُفْعَلُ بِالرُّسُلِ ، وَلَا نَفْعَلُ هَذَا بِرُسُلِكُمْ إِذَا أَتَوْنَا .
فَقَالَ : إِنْ شِئْتُمْ قَطَعْنَا إِلَيْكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ قَطَعْتُمْ إِلَيْنَا ؟ فَقُلْتُ : بَلْ نَقْطَعُ إِلَيْكُمْ ، فَقَطَعْنَا إِلَيْهِمْ فَصَافَفْنَاهُمْ ، فَسَلْسَلُوا كُلَّ سَبْعَةٍ فِي سِلْسِلَةٍ ، وَكُلَّ خَمْسَةٍ فِي سِلْسِلَةٍ ; لِئَلَّا يَفِرُّوا .
قَالَ : فَرَامُونَا حَتَّى أَسْرَعُوا فِينَا ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ لِلنُّعْمَانِ : إِنَّ الْقَوْمَ أَسْرَعُوا فِينَا فَاحْمِلْ ، قَالَ : إِنَّكَ ذُو مَنَاقِبَ ، وَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا لَمْ نُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ ، وَيَنْزِلَ النَّصْرُ .
فَقَالَ النُّعْمَانُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اهْتَزُّوا ، فَأَمَّا الْهِزَّةُ الْأُولَى فَلْيَقْضِ الرَّجُلُ حَاجَتَهُ ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَلْيَنْظُرِ الرَّجُلُ فِي سِلَاحِهِ وَشِسْعِهِ ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَإِنِّي حَامِلٌ فَاحْمِلُوا ، وَإِنْ قُتِلَ أَحَدٌ فَلَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ ، وَإِنْ قُتِلْتُ فَلَا تَلْوُوا عَلَيَّ ، وَإِنِّي دَاعِي اللَّهَ بِدَعْوَتِي فَعَزَمْتُ عَلَى كُلِّ امْرِئٍ مِنْكُمْ لَمَّا أَمَّنَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ ارْزُقِ النُّعْمَانَ الْيَوْمَ شَهَادَةً بِنَصْرِ الْمُسْلِمِينَ ، وَافْتَحْ عَلَيْهِمْ ، فَأَمَّنَ الْقَوْمُ .
وَهَزَّ لِوَاءَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ حَمَلَ ، وَكَانَ أَوَّلَ صَرِيعٍ ، فَمَرَرْتُ بِهِ فَذَكَرْتُ عَزْمَتَهُ فَلَمْ أَلْوِ عَلَيْهِ ، وَأَعْلَمْتُ مَكَانَهُ ، فَكَانَ إِذَا قَتَلْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ شُغِلَ عَنَّا أَصْحَابُهُ يَجُرُّونَهُ ، وَوَقَعَ ذُو الْجَنَاحَيْنِ مِنْ بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ فَانْشَقَّ بَطْنُهُ ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ .
فَأَتَيْتُ مَكَانَ النُّعْمَانِ وَبِهِ رَمَقٌ فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، اكْتُبُوا بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ ، وَفَاضَتْ نَفْسُهُ ، فَاجْتَمَعُوا إِلَى الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا أُمَّ وَلَدِهِ ، فَقُلْنَا : هَلْ عَهِدَ إِلَيْكِ عَهْدًا ؟ قَالَتْ : لَا ، إِلَّا سَفَطًا فِيهِ كِتَابٌ ، فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ : إِنْ قُتِلَ فُلَانٌ فَفُلَانٌ ، وَإِنْ قُتِلَ فُلَانٌ فَفُلَانٌ ، وَإِنْ قُتِلَ فُلَانٌ فَفُلَانٌ .
قَالَ حَمَّادٌ : فَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ أَنَّهُ أَتَى عُمَرَ ، فَسَأَلَ عَنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، قَالَ : مَا فَعَلَ فُلَانٌ ؟ قُلْتُ : قُتِلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَآخَرُونَ لَا نَعْرِفُهُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : وَأَنَا لَا أَعْلَمُهُمْ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُهُمْ .
قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى قَوْلِهِ : فَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ . رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
فَدَخَلَ عُمَرُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِالنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ يُصَلِّي فَانْتَظَرَهُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي مُسْتَعْمِلُكَ ، فَقَالَ : أَمَّا جَابِيًا فَلَا ، وَأَمَا غَازِيًا فَنَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّكَ غَازٍ .
فَسَرَّحَهُمْ وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ أَنْ يَمُدُّوهُ وَيَلْحَقُوا بِهِ فِيهِمْ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، وَالْأَشْعَثُ ، وَعَمْرُو بْنُ مَعْدِي كَرِبَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، فَأَتَاهُمُ النُّعْمَانُ ، وَبَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ نَهْرٌ .
فَبَعَثَ إِلَيْهِمُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رَسُولًا ، وَمَلِكُهُمْ ذُو الْجَنَاحَيْنِ فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ : مَا تَرَوْنَ أَجْلِسُ لَهُ فِي هَيْئَةِ الْحَرْبِ أَوْ فِي هَيْئَةِ الْمَلِكِ وَبَهْجَتِهِ ؟ فَقَالُوا : اقْعُدْ لَهُ فِي هَيْئَةِ الْمَلِكِ وَبَهْجَتِهِ . فَجَلَسَ لَهُ عَلَى هَيْئَةِ الْمَلِكِ وَبَهْجَتِهِ عَلَى سَرِيرٍ وَوَضَعَ التَّاجَ عَلَى رَأْسِهِ ، وَحَوْلَهُ سِمَاطَانِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الدِّيبَاجِ وَالْقِرَطَةُ وَالْأَسْوِرَةُ ، فَأَخَذَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يَضَعُ بَصَرَهُ ، وَبِيَدِهِ الرُّمْحُ وَالتُّرْسُ ، وَالنَّاسُ حَوْلَهُ عَلَى سِمَاطَيْنِ عَلَى بِسَاطٍ لَهُ ، فَجَعَلَ يَطْعَنُهُ بِرُمْحِهِ يَخْرِقُهُ لِكَيْ يَتَطَيَّرُونَ . فَقَالَ لَهُ ذُو الْجَنَاحَيْنِ : إِنَّكُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ أَصَابَكُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ ، فَإِذَا شِئْتُمْ مِرْنَاكُمْ ، وَرَجَعْتُمْ إِلَى بِلَادِكُمْ ؟ فَتَكَلَّمَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : إِنَّا كُنَّا مَعْشَرَ الْعَرَبِ نَأْكُلُ الْجِيَفَ وَالْمَيْتَةِ ، وَكَانَ النَّاسُ يَطَئُونَا وَلَا نَطَؤُهُمْ ، فَابْتَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولًا فِي شَرَفٍ مِنَّا ، أَوْسَطَنَا حَسَبًا ، وَأَصْدَقَنَا حَدِيثًا ، وَإِنَّهُ وَعَدَنَا أَنَّا هَاهُنَا سَيُفْتَحُ عَلَيْنَا ، فَقَدْ وَجَدْنَا جَمِيعَ مَا وَعَدَنَا حَقًّا ، وَإِنِّي أَرَى هُنَا بِزَّةً وَهَيْئَةً مَا أَرَى أَنَّ مَنْ بَعْدِي بِذَاهِبِينَ حَتَّى يَأْخُذُوهُ .
قَالَ الْمُغِيرَةُ : فَقَالَتْ لِي نَفْسِي : لَوْ جَمَعْتَ جَرَامِيزَكَ ، فَوَثَبْتُ وَثْبَةً فَجَلَسْتُ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ ، فَزَجَرُوهُ وَوَطِئُوهُ ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ أَنَا اسْتَحْمَقْتُ ، فَإِنَّ هَذَا لَا يُفْعَلُ بِالرُّسُلِ ، وَلَا نَفْعَلُ هَذَا بِرُسُلِكُمْ إِذَا أَتَوْنَا .
فَقَالَ : إِنْ شِئْتُمْ قَطَعْنَا إِلَيْكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ قَطَعْتُمْ إِلَيْنَا ؟ فَقُلْتُ : بَلْ نَقْطَعُ إِلَيْكُمْ ، فَقَطَعْنَا إِلَيْهِمْ فَصَافَفْنَاهُمْ ، فَسَلْسَلُوا كُلَّ سَبْعَةٍ فِي سِلْسِلَةٍ ، وَكُلَّ خَمْسَةٍ فِي سِلْسِلَةٍ ; لِئَلَّا يَفِرُّوا .
قَالَ : فَرَامُونَا حَتَّى أَسْرَعُوا فِينَا ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ لِلنُّعْمَانِ : إِنَّ الْقَوْمَ أَسْرَعُوا فِينَا فَاحْمِلْ ، قَالَ : إِنَّكَ ذُو مَنَاقِبَ ، وَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا لَمْ نُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ ، وَيَنْزِلَ النَّصْرُ .
فَقَالَ النُّعْمَانُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اهْتَزُّوا ، فَأَمَّا الْهِزَّةُ الْأُولَى فَلْيَقْضِ الرَّجُلُ حَاجَتَهُ ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَلْيَنْظُرِ الرَّجُلُ فِي سِلَاحِهِ وَشِسْعِهِ ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَإِنِّي حَامِلٌ فَاحْمِلُوا ، وَإِنْ قُتِلَ أَحَدٌ فَلَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ ، وَإِنْ قُتِلْتُ فَلَا تَلْوُوا عَلَيَّ ، وَإِنِّي دَاعِي اللَّهَ بِدَعْوَتِي فَعَزَمْتُ عَلَى كُلِّ امْرِئٍ مِنْكُمْ لَمَّا أَمَّنَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ ارْزُقِ النُّعْمَانَ الْيَوْمَ شَهَادَةً بِنَصْرِ الْمُسْلِمِينَ ، وَافْتَحْ عَلَيْهِمْ ، فَأَمَّنَ الْقَوْمُ .
وَهَزَّ لِوَاءَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ حَمَلَ ، وَكَانَ أَوَّلَ صَرِيعٍ ، فَمَرَرْتُ بِهِ فَذَكَرْتُ عَزْمَتَهُ فَلَمْ أَلْوِ عَلَيْهِ ، وَأَعْلَمْتُ مَكَانَهُ ، فَكَانَ إِذَا قَتَلْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ شُغِلَ عَنَّا أَصْحَابُهُ يَجُرُّونَهُ ، وَوَقَعَ ذُو الْجَنَاحَيْنِ مِنْ بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ فَانْشَقَّ بَطْنُهُ ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ .
فَأَتَيْتُ مَكَانَ النُّعْمَانِ وَبِهِ رَمَقٌ فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، اكْتُبُوا بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ ، وَفَاضَتْ نَفْسُهُ ، فَاجْتَمَعُوا إِلَى الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا أُمَّ وَلَدِهِ ، فَقُلْنَا : هَلْ عَهِدَ إِلَيْكِ عَهْدًا ؟ قَالَتْ : لَا ، إِلَّا سَفَطًا فِيهِ كِتَابٌ ، فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ : إِنْ قُتِلَ فُلَانٌ فَفُلَانٌ ، وَإِنْ قُتِلَ فُلَانٌ فَفُلَانٌ ، وَإِنْ قُتِلَ فُلَانٌ فَفُلَانٌ .
قَالَ حَمَّادٌ : فَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ أَنَّهُ أَتَى عُمَرَ ، فَسَأَلَ عَنِ النُّعْمَانِ ، قَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، قَالَ : مَا فَعَلَ فُلَانٌ ؟ قُلْتُ : قُتِلَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَآخَرُونَ لَا نَعْرِفُهُمْ ، قَالَ : قُلْتُ : وَأَنَا لَا أَعْلَمُهُمْ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَعْلَمُهُمْ .
قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى قَوْلِهِ : فَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ . رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے اصبہان اور فارس اور آذربائی جان کے بارے میں مشورہ لیا تو اس نے عرض کی : اے امیر المؤمنین اصبہان سر ہے ، اور فارس اور آذربائی جان دو پر ہیں اگر آپ دو پروں میں سے ایک کو کاٹ دیں گے ، تو سر دوسرے پر کی طرف چلا جائے گا لیکن اگر آپ سر کاٹ دیں گے ، تو دونوں پر چلے جائیں گے ، تو آپ سر سے آغاز کریں راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے وہاں سیدنا نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کا انتظار کرتے رہے ، یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کر لی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو عامل مقرر کرنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا: اگر تو کوئی سرکاری ذمہ داری ہے ، تو پھر نہیں ، اور اگر جنگ میں حصہ لینا ہے ، تو پھر ٹھیک ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے جنگ میں حصہ لینا ہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں روانہ کیا اور اہل کوفہ کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ ان کی مدد کریں اور ان کے ساتھ مل جائیں ان لوگوں میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ سیدنا عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ موجود تھے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے ان کے اور ان لوگوں کے درمیان ایک دریا موجود تھا ۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف ایک قاصد بھیجا اس وقت دو پروں والا شخص ان کا حکمران تھا اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور یہ کہا: تم لوگ کیا سمجھتے ہو مجھے ان کے سامنے جنگ کی حالت میں بیٹھنا چاہیے یا ایک بادشاہ کی ہیئت میں بیٹھنا چاہیے جو تخت پر بیٹھا ہوتا ہے ، تو ان لوگوں نے مشورہ دیا کہ تم ان لوگوں کے سامنے ایک بادشاہ کی شان و شوکت کے ساتھ بیٹھو تو وہ ان کے لئے بادشاہ کی شان و شوکت کے ساتھ تخت پر بیٹھ گیا اس نے اپنے سر پر تاج رکھ لیا اس کے ارد گرد دو صفیں تھیں ان لوگوں نے ریشمی کپڑے اور بالیاں اور کنگن پہنے تھے ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا ، اور ڈھال تھی لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اس کے بچھونے کو نیزے کے ذریعے چبھو کر چیرنے لگے ، تاکہ وہ لوگ اس کے ذریعے فال حاصل کریں ذوالجناحین نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم عرب لوگ تمہیں شدید بھوک لاحق تھی جو تم چاہو ہم تمہیں کھانے کے لئے دینے کا حکم دیتے ہیں تم لوگ اپنے علاقوں کی طرف واپس چلے جاؤ ۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو انہوں نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ہم عرب لوگ مردار اور مردہ چیزیں کھایا کرتے تھے لوگ ہمیں دبا لیتے تھے ہم انہیں نہیں دباتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے میں سے ایک معزز خاندان میں رسول کو مبعوث کیا جو حسب کے اعتبار سے ہم میں سے تھے اور گفتگو کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے تھے انہوں نے ہمارے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ یہ علاقہ ہمارے لئے فتح ہو جائے گا ، تو انہوں نے ہمارے ساتھ جو بھی وعدے کیے ہیں وہ سب ہم نے حق پائے ہیں ، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہاں جو ریشم نظر آ رہا ہے ، اور جو شان و شوکت نظر آ رہی ہے میں نہیں سمجھتا یہ کہ میرے بعد رخصت ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ لوگ اسے اپنی گرفت میں لے لیں ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے دل نے مجھ سے کہا: کیا ہی اچھا ہو اگر تم ہمت جمع کرو ، تو میں نے چھلانگ لگائی اور اس کے ساتھ تخت پر بیٹھ گیا ان لوگوں نے مجھے ڈانٹا اور روندا تو میں نے کہا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ کیا میں احمق ہوں ، کیونکہ قاصدوں کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا ، اور جب تمہارے قاصد ہمارے پاس آئیں گے ، تو ہم بھی ان کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے اس نے کہا: اگر تم چاہو ، تو ہم دریا پار کر کے تمہاری طرف آ جاتے ہیں ، اور اگر تم چاہو ، تو تم دریا پار کر کے ہماری طرف آ جاؤ میں نے کہا: بلکہ ہم پار کر کے تمہاری طرف آئیں گے ، تو ہم دریا پار کر کے ان کی طرف گئے ہم نے ان کے مقابلے میں صف بنائی انہوں نے سات سات افراد کو ایک زنجیر میں اور پانچ پانچ افراد کو ایک زنجیر میں باندھ دیا تاکہ وہ فرار نہ ہوں ۔ انہوں نے ہم پر تیراندازی شروع کی ، یہاں تک کہ ہمارے بارے میں انہوں نے جلدی کی تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ لوگ ہماری طرف جلد بازی کر رہے ہیں ، تو آپ حملہ کر دیں انہوں نے کہا: آپ مناقب والی شخصیت ہیں لیکن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوا ہوں ہم دن کے ابتدائی حصے میں جنگ نہیں کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کو مؤخر کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا تھا ، اور ہوائیں چلنے لگتی تھیں اور مدد نازل ہوتی تھی پھر سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو تیار ہو جاؤ جب پہلی مرتبہ جھنڈے کو حرکت دی جائے گی تو ہر شخص اپنی ضرورت پوری کر لے جب دوسری مرتبہ حرکت دی جائے گی تو آدمی اپنے ہتھیار اور ساز و سامان کا جائزہ لے اور جب تیسری مرتبہ حرکت دی جائے گی ، تو میں حملہ کر دوں گا ، تم لوگ بھی حملہ کر دینا اگر کوئی ایک شخص مارا جاتا ہے ، تو کوئی شخص دوسرے کی خاطر نہ مڑے اور اگر میں قتل ہو جاتا ہوں تو تم پریشان نہ ہونا کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف جاؤں گا میں اللہ تعالیٰ سے ایک دعا کرنے لگا ہوں ، میں تم میں سے ہر ایک شخص کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس پر آمین کہے پھر انہوں نے یہ دعا کی اے اللہ آج مسلمان کی مدد کرنے کے ہمراہ نعمان کو شہادت نصیب کر دے اور مسلمانوں کو فتح نصیب کر دے لوگوں نے آمین کہا: پھر انہوں نے تین مرتبہ اپنے جھنڈے کو لہرایا اور پھر حملہ کر دیا ، تو وہ سب سے پہلے شہید ہوئے میں ان کے پاس سے گزرا تو مجھے ان کی تاکید یاد آ گئی اس لئے میں نے ان کی طرف توجہ نہیں کی البتہ میں نے ان کی جگہ پر نشان لگا دیا جب ہم ان میں سے کسی شخص کو قتل کرتے تھے ، تو اس کے ساتھی ہماری طرف سے مشغول ہو جاتے تھے وہ اسے کھینچتے تھے وہ اسے کھینچتے تھے ذوالجناح اس وقت سفید خچر پر سوار تھا اس کا پیٹ چیر دیا گیا وہ اس سے گر گیا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کر دی میں سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان میں زندگی کی رمق باقی تھی میں ان کے پاس آیا میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کر دی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے تم اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ دینا اور پھر انہوں نے آخری سانس لے لی لوگ اکٹھے ہو کر سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے راوی کہتے ہیں : ہم ان کی اُم ولد کے پاس آئے ہم نے دریافت کیا : کیا انہوں نے تمہارے ساتھ کوئی عہد کیا تھا اس خاتون نے جواب دیا جی نہیں البتہ ایک تحریر موجود ہے میں نے اسے پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا کہ اگر فلاں قتل ہو جائے ، تو فلاں امیر بن جائے گا اگر فلاں قتل ہو جائے ، تو فلاں امیر بن جائے گا اگر فلاں قتل ہو جائے ، تو فلاں امیر بن جائے گا ۔ حماد کہتے ہیں علی بن زید نے ابوعثمان نہدی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو انہوں نے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان سے دریافت کیا : اور پھر کہا: انا للہ وانا اليه راجعون پھر انہوں نے دریافت کیا : فلاں کا کیا حال ہے میں نے کہا: وہ قتل ہو گئے ہیں اے امیر المؤمنین اس کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی شہید ہوئے ہیں ، جن سے ہم واقف نہیں ہیں راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان سے واقف نہیں ہوں لیکن اللہ تعالیٰ ان سے واقف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال شروع سے لے کر حد ثناعلی بن زید تک کے الفاظ تک صحیح کے رجال ہیں صرف علقمہ بن عبداللہ مزنی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال شروع سے لے کر حد ثناعلی بن زید تک کے الفاظ تک صحیح کے رجال ہیں صرف علقمہ بن عبداللہ مزنی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔