حدیث نمبر: 10378
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ [ عَنْ أَبِيهِ قُرَّةَ ] قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْقَادِسِيَّةِ بَعَثَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى صَاحِبِ فَارِسَ ، فَقَالَ : ابْعَثُوا مَعِي عَشَرَةً فَشَدَّ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ جَحْفَةً ، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى أَتَوْهُ ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ : أَلْقُوا إِلَيَّ بُرْنُسًا فَجَلَسَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ الْعِلْجُ : إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ الْعَرَبِ ، قَدْ عَرَفْتُ الَّذِي حَمَلَكُمْ عَلَى الْجِيئَةِ إِلَيْنَا ، أَنْتُمْ قَوْمٌ لَا تَجِدُونَ فِي بِلَادِكُمْ مِنَ الطَّعَامِ مَا تَشْبَعُونَ مِنْهُ ، فَخُذُوا نُعْطِيكُمْ مِنَ الطَّعَامِ حَاجَتَكُمْ ، فَإِنَّا قَوْمٌ مَجُوسٌ ، وَإِنَّا نَكْرَهُ قَتْلَكُمْ ، وَإِنَّكُمْ تُنَجِّسُونَ عَلَيْنَا أَرْضَنَا . فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : وَاللَّهِ مَا ذَاكَ جَاءَ بِنَا ، وَلَكِنَّا كُنَّا قَوْمًا نَعْبُدُ الْحِجَارَةَ وَالْأَوْثَانَ فَإِذَا رَأَيْنَا حَجَرًا أَحْسَنَ مِنْ حَجَرٍ أَلْقَيْنَاهُ وَأَخَذْنَا غَيْرَهُ ، وَلَا نَعْرِفُ رَبًّا ، حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِنَا ، فَدَعَانَا إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَاتَّبَعْنَاهُ ، وَلَمْ نَجِئْ لِطَعَامٍ ، وَأَمَرَنَا بِقِتَالِ عَدُوِّنَا مِمَّنْ تَرَكَ الْإِسْلَامَ ، وَلَمْ نَجِئْ لِطَعَامٍ ، وَلَكِنَّا جِئْنَا نَقْتُلُ مُقَاتِلَتَكُمْ ، وَنَسْبِي ذَرَارِيَّكُمْ . ¤ فَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الطَّعَامِ ، فَإِنَّا كُنَّا لَعَمْرِي مَا نَجِدُ مِنَ الطَّعَامِ مَا نَشْبَعُ مِنْهُ ، وَرُبَّمَا لَمْ نَجِدْ رِيًّا مِنَ الْمَاءِ أَحْيَانًا ، فَجِئْنَا إِلَى أَرْضِكُمْ هَذِهِ ، فَوَجَدْنَا طَعَامًا كَثِيرًا ، فَلَا وَاللَّهِ لَا نَبْرَحُهَا حَتَّى تَكُونَ لَنَا أَوْ لَكُمْ . قَالَ الْعِلْجُ بِالْفَارِسِيَّةِ : صَدَقَ ، وَأَنْتَ تُفْقَأُ عَيْنُكَ غَدًا - بِالْفَارِسِيَّةِ - فَفُقِئَتْ عَيْنُهُ مِنَ الْغَدِ . أَصَابَتْهُ نُشَّابَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوصلت بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خط لکھا ہم اس وقت سیدنا نعمان مقرن مزنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے انہوں نے فرمایا : جب تم دشمن کا سامنا کرو تو فرار نہ ہونا اور جب تمہیں مال غنیمت حاصل ہو ، تو خیانت نہ کرنا راوی کہتے ہیں : جب ہم نے دشمن کا سامنا کیا ، تو سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں کو مہلت دو راوی کہتے ہیں : یہ جمعہ کے دن کی بات تھی ( سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس وقت تک مہلت دو ) جب تک امیر المؤمنین منبر پر بیٹھ کر مدد کی دعا نہیں کرتے پھر تم ان لوگوں کے ساتھ لڑائی کرنا جب سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کا آخری وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دینا اور دشمن پر حملہ آور ہو جانا اور میری وجہ سے پریشان نہ ہونا راوی کہتے ہیں تو ہم نے دشمن پر حملہ کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح نصیب کر دی جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں اطلاع ملی کہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے فلاں صاحب شہید ہو گئے فلاں صاحب شہید ہو گئے ہیں ، اور ایسے لوگ شہید ہوئے ہیں ، جن سے ہم واقف نہیں ہیں ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ ان سے واقف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10378
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔