مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي وَقْعَةِ الْقَادِسِيَّةِ وَنَهَاوَنْدَ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: جنگ قادسیہ ، جنگ نہاوند اور دیگر کا بیان
وَعَنْ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ : كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَنَحْنُ مَعَ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : فَإِذَا لَقِيتُمُ الْعَدُوَّ فَلَا تَفِرُّوا ، وَإِذَا غَنِمْتُمْ فَلَا تَغُلُّوا . ¤ فَلَمَّا لَقِينَا الْعَدُوَّ ، قَالَ النُّعْمَانُ : أَمْهِلُوا الْقَوْمَ ، وَذَلِكَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَصْعَدَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فَيَسْتَنْصِرَ ، فَقَاتَلَهُمْ ، فَانْقَضَّ النُّعْمَانُ ، فَقَالَ : سَجُّونِي ثَوْبًا ، وَأَقْبِلُوا عَلَى عَدُوِّكُمْ ، وَلَا أَهُولَنَّكُمْ . قَالَ : فَأَقْبَلْنَا عَلَيْهِمْ فَفَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْنَا ، وَأَتَى عُمَرَ الْخَبَرُ أَنَّهُ أُصِيبَ النُّعْمَانُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ ، وَرِجَالٌ لَا نَعْرِفُهُمْ . قَالَ : وَلَكِنَّ اللَّهَ يَعْرِفُهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہرمزان سے اصبہان اور فارس اور آذربائی جان کے بارے میں مشورہ لیا تو اس نے عرض کی : اے امیر المؤمنین اصبہان سر ہے ، اور فارس اور آذربائی جان دو پر ہیں اگر آپ دو پروں میں سے ایک کو کاٹ دیں گے ، تو سر دوسرے پر کی طرف چلا جائے گا لیکن اگر آپ سر کاٹ دیں گے ، تو دونوں پر چلے جائیں گے ، تو آپ سر سے آغاز کریں راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے وہاں سیدنا نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ نماز ادا کر رہے تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کا انتظار کرتے رہے ، یہاں تک کہ انہوں نے نماز مکمل کر لی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں آپ کو عامل مقرر کرنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہا: اگر تو کوئی سرکاری ذمہ داری ہے ، تو پھر نہیں ، اور اگر جنگ میں حصہ لینا ہے ، تو پھر ٹھیک ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے جنگ میں حصہ لینا ہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں روانہ کیا اور اہل کوفہ کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ ان کی مدد کریں اور ان کے ساتھ مل جائیں ان لوگوں میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ سیدنا عمرو بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ موجود تھے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے ان کے اور ان لوگوں کے درمیان ایک دریا موجود تھا ۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی طرف ایک قاصد بھیجا اس وقت دو پروں والا شخص ان کا حکمران تھا اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور یہ کہا: تم لوگ کیا سمجھتے ہو مجھے ان کے سامنے جنگ کی حالت میں بیٹھنا چاہیے یا ایک بادشاہ کی ہیئت میں بیٹھنا چاہیے جو تخت پر بیٹھا ہوتا ہے ، تو ان لوگوں نے مشورہ دیا کہ تم ان لوگوں کے سامنے ایک بادشاہ کی شان و شوکت کے ساتھ بیٹھو تو وہ ان کے لئے بادشاہ کی شان و شوکت کے ساتھ تخت پر بیٹھ گیا اس نے اپنے سر پر تاج رکھ لیا اس کے ارد گرد دو پردے تھے ان لوگوں نے ریشمی کپڑے اور بالیاں اور کنگن پہنے تھے ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا ، اور ڈھال تھی لوگ اس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے اس کے بچھونے کے ارد گرد جو پردے تھے ، وہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے نیزے کے ذریعے چبھو کر چیرنا شروع کر دیے ، تاکہ وہ لوگ اس کے ذریعے فال حاصل کریں ذوالجناحین نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم عرب لوگ تمہیں شدید بھوک لاحق تھی جو تم چاہو ہم تمہیں کھانے کے لئے دینے کا حکم دیتے ہیں تم لوگ اپنے علاقوں کی طرف واپس چلے جاؤ ۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی تو انہوں نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ہم عرب لوگ مردار اور مردہ چیزیں کھایا کرتے تھے لوگ ہمیں دبا لیتے تھے ہم انہیں نہیں دباتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمارے میں سے ایک معزز خاندان میں رسول کو مبعوث کیا جو حسب کے اعتبار سے ہم میں سے تھے اور گفتگو کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچے تھے انہوں نے ہمارے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ یہ علاقہ ہمارے لئے فتح ہو جائے گا ، تو انہوں نے ہمارے ساتھ جو بھی وعدے کیے ہیں وہ سب ہم نے حق پائے ہیں ، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہاں جو ریشم نظر آ رہا ہے ، اور جو شان و شوکت نظر آ رہی ہے میں نہیں سمجھتا یہ کہ میرے بعد رخصت ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ لوگ اسے اپنی گرفت میں لے لیں ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: اگر تم اپنے تمام علاقوں کو اکٹھا کرو تو میں حملہ کر دوں گا اور اس کے ساتھ پلنگ پر بیٹھ جاؤں گا ان لوگوں نے انہیں ڈانٹا تو میں نے کہا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ کیا میں احمق ہوں ، کیونکہ قاصدوں کے ساتھ ایسا نہیں کیا جاتا ، اور جب تمہارے قاصد ہمارے پاس آئیں گے ، تو ہم بھی ان کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے اس نے کہا: اگر تم چاہو ، تو ہم تمہیں ٹکڑے کر کے دیے دیتے ہیں ، اور اگر تم چاہو ، تو تم ہمیں ٹکڑے کر کے دے دو میں نے کہا: بلکہ ہم تمہیں ٹکڑے کر کے دیں گے ، تو ہم نے انہیں ٹکڑے کر کے دے دیے ہم نے ان کے مقابلے میں صف بنائی سات افراد ایک لڑی میں اکٹھے ہوئے پانچ افراد ایک زنجیر میں اکٹھے ہوئے تاکہ وہ فرار نہ ہوں ۔ انہوں نے ہم پر تیراندازی شروع کی ، یہاں تک کہ ہمارے بارے میں انہوں نے جلدی کی تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ لوگ ہماری طرف جلد بازی کر رہے ہیں ، تو آپ حملہ کر دیں انہوں نے کہا: آپ مناقب والی شخصیت ہیں لیکن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں شریک ہوا ہوں ہم دن کے ابتدائی حصے میں جنگ نہیں کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی کو مؤخر کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا تھا ، اور ہوائیں چلنے لگتی تھیں اور مدد نازل ہوتی تھی پھر سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے لوگو تیار ہو جاؤ جب پہلی مرتبہ جھنڈے کو حرکت دی جائے گی تو ہر شخص اپنی ضرورت پوری کر لے جب دوسری مرتبہ حرکت دی جائے گی تو آدمی اپنے ہتھیار اور ساز و سامان کا جائزہ لے اور جب تیسری مرتبہ حرکت دی جائے گی ، تو میں حملہ کر دوں گا ، تم لوگ بھی حملہ کر دینا اگر کوئی ایک شخص مارا جاتا ہے ، تو کوئی شخص دوسرے کی خاطر نہ مڑے اور اگر میں قتل ہو جاتا ہوں تو تم پریشان نہ ہونا کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف جاؤں گا میں تم میں سے ہر ایک شخص کو یہ تاکید کرتا ہوں کہ اس نے بھرپور طریقے سے جنگ میں حصہ لینا ہے پھر انہوں نے یہ دعا کی اے اللہ آج مسلمان کی مدد کرنے کے ہمراہ نعمان کو شہادت نصیب کر دے اور مسلمانوں کو فتح نصیب کر دے لوگوں نے آمین کہا: پھر انہوں نے تین مرتبہ اپنے جھنڈے کو لہرایا اور پھر حملہ کر دیا ، تو وہ سب سے پہلے شہید ہوئے میں ان کے پاس سے گزرا تو مجھے ان کی تاکید یاد آ گئی اس لئے میں نے ان کی طرف توجہ نہیں کی حالانکہ مجھے ان کے مرتبہ و مقام کا علم تھا جب ہم ان میں سے کسی شخص کو قتل کرتے تھے ، تو اس کے ساتھی ہماری طرف سے مشغول ہو جاتے تھے وہ اسے کھینچتے تھے وہ اسے کھینچتے تھے ذوالجناح اس وقت سفید خچر پر سوار تھا اس کا پیٹ چیر دیا گیا وہ اس سے گر گیا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کر دی میں سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان میں زندگی کی رمق باقی تھی میں ان کے پاس آیا میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب کر دی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے تم اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ دینا اور پھر انہوں نے آخری سانس لے لی لوگ اکٹھے ہو کر سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے راوی کہتے ہیں : ہم ان کی اُم ولد کے پاس آئے ہم نے دریافت کیا : کیا انہوں نے تمہارے ساتھ کوئی عہد کیا تھا اس خاتون نے جواب دیا جی نہیں البتہ ایک تحریر موجود ہے میں نے اسے پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا کہ اگر فلاں قتل ہو جائے ، تو فلاں امیر بن جائے گا اگر فلاں قتل ہو جائے ، تو فلاں امیر بن جائے گا اگر فلاں قتل ہو جائے ، تو فلاں امیر بن جائے گا ۔ حماد کہتے ہیں علی بن زید نے ابوعثمان نہدی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو انہوں نے سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان سے دریافت کیا : اور پھر کہا: انا للہ وانا اليه راجعون پھر انہوں نے دریافت کیا : فلاں کا کیا حال ہے میں نے کہا: وہ قتل ہو گئے ہیں اے امیر المؤمنین اس کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی شہید ہوئے ہیں ، جن سے ہم واقف نہیں ہیں راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان سے واقف نہیں ہوں لیکن اللہ تعالیٰ ان سے واقف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال شروع سے لے کر حد ثناعلی بن زید تک کے الفاظ تک صحیح کے رجال ہیں صرف علقمہ بن عبداللہ مزنی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔