کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ہوا ، اور رعب کے ذریعے ، نبی اکرم ﷺ کی مدد ہونا
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا ، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صبا “ ( نامی مخصوص قسم کی ہوا ) کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے ، اور ” دبور “ ( نامی مخصوص قسم کی آندھی ) کے ذریعے قوم عاد کو ہلاک کر دیا گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9932
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (169)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا ، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صبا“ ( نامی ہوا ) کے ذریعے میری مدد کی گئی ، اور قوم عاد کو ” دبور “ ( نامی آندھی ) کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9933
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي : بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَإِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَأُطْعِمْتُ الْمَغْنَمَ ، وَلَمْ يُطْعَمَهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ وَبَقِيَّةُ الْأَحَادِيثِ بِنَحْوِهِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے ہر سرخ اور سیاہ فام ( یعنی ہر قسم کے افراد یا تمام بنی نوع انسان ) کی طرف مبعوث کیا گیا ، جبکہ پہلے ہر نبی کو اس کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، مجھے مال غنیمت استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ، حالانکہ مجھ سے پہلے کسی کو وہ استعمال نہیں کرنے دیا گیا “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اس نوعیت کی دیگر احادیث ” علامات نبوت“ سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9934
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دُفِعْتُ إِلَيْهِ قَالَ : " أَمَا إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَنِي بِالسَّنَةِ تُحْفِيكُمْ ، وَبِالرُّعْبِ يَجْعَلُهُ فِي قُلُوبِكُمْ " . فَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا : أَمَا إِنِّي قَدْ حَلَفْتُ هَكَذَا وَهَكَذَا أَنْ لَا أُؤْمِنَ بِكَ وَلَا أَتَّبِعَكَ ، فَمَا زَالَتِ السَّنَةُ تُحْفِينِي ، وَمَا زَالَ الرُّعْبُ يَجْعَلُ فِي قَلْبِي قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ غَيْرَ ذِكْرِ الرُّعْبِ وَالسَّنَةِ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، جب میں آپ کے پاس آیا ، تو آپ نے فرمایا : میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی ہے کہ وہ مجھے ایسے قحط کے حوالے سے بے نیاز نہ کرے ، جو تمہیں ختم کر دے اور ایسے رعب کے حوالے سے بے نیاز کر دے ، جو وہ تمہارے دلوں میں ڈال دے ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے دونوں ہاتھ ملا کر یہ کہا: میں یہ یہ حلف اٹھا کر کہتا ہوں کہ نہ تو میں آپ پر ایمان لاؤں گا اور نہ ہی آپ کی پیروی کروں گا ، اس کے بعد قحط سالی نے مجھے مسلسل اپنی لپیٹ میں لئے رکھا اور رعب مسلسل میرے دل میں رہا ، یہاں تک کہ میں آپ کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے رعب اور قحط سالی کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9935
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَتِ الصَّبَا الشَّمَالَ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ فَقَالَتْ : مُرِّي حَتَّى نَنْصُرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتِ الشَّمَالُ : إِنَّ الْحُرَّةَ لَا تَسْرِي بِاللَّيْلِ . فَكَانَتِ الرِّيحُ الَّتِي نُصِرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّبَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ” صبا “ ( نامی ہوا ) ” شمال “ ( نامی ہوا ) کے پاس ، غزوہ احزاب کی رات آئی اور بولی: تم چلو ! تاکہ ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں ، تو ” شمال “ نامی ہوا نے کہا: گرمی رات کے وقت نہیں چلتی ہے ، تو وہ ہوا جس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی گئی ، وہ ” صبا “ تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 9936
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1811)»