مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ نَصْرِهِ بِالرِّيحِ وَالرُّعْبِ باب: ہوا ، اور رعب کے ذریعے ، نبی اکرم ﷺ کی مدد ہونا
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي : بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ ، وَإِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ ، وَأُطْعِمْتُ الْمَغْنَمَ ، وَلَمْ يُطْعَمَهُ أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ وَبَقِيَّةُ الْأَحَادِيثِ بِنَحْوِهِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے ہر سرخ اور سیاہ فام ( یعنی ہر قسم کے افراد یا تمام بنی نوع انسان ) کی طرف مبعوث کیا گیا ، جبکہ پہلے ہر نبی کو اس کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، مجھے مال غنیمت استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ، حالانکہ مجھ سے پہلے کسی کو وہ استعمال نہیں کرنے دیا گیا “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، اس نوعیت کی دیگر احادیث ” علامات نبوت“ سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔