مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ نَصْرِهِ بِالرِّيحِ وَالرُّعْبِ باب: ہوا ، اور رعب کے ذریعے ، نبی اکرم ﷺ کی مدد ہونا
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دُفِعْتُ إِلَيْهِ قَالَ : " أَمَا إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَنِي بِالسَّنَةِ تُحْفِيكُمْ ، وَبِالرُّعْبِ يَجْعَلُهُ فِي قُلُوبِكُمْ " . فَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا : أَمَا إِنِّي قَدْ حَلَفْتُ هَكَذَا وَهَكَذَا أَنْ لَا أُؤْمِنَ بِكَ وَلَا أَتَّبِعَكَ ، فَمَا زَالَتِ السَّنَةُ تُحْفِينِي ، وَمَا زَالَ الرُّعْبُ يَجْعَلُ فِي قَلْبِي قُمْتُ بَيْنَ يَدَيْكَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ غَيْرَ ذِكْرِ الرُّعْبِ وَالسَّنَةِ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، جب میں آپ کے پاس آیا ، تو آپ نے فرمایا : میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی ہے کہ وہ مجھے ایسے قحط کے حوالے سے بے نیاز نہ کرے ، جو تمہیں ختم کر دے اور ایسے رعب کے حوالے سے بے نیاز کر دے ، جو وہ تمہارے دلوں میں ڈال دے ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے دونوں ہاتھ ملا کر یہ کہا: میں یہ یہ حلف اٹھا کر کہتا ہوں کہ نہ تو میں آپ پر ایمان لاؤں گا اور نہ ہی آپ کی پیروی کروں گا ، اس کے بعد قحط سالی نے مجھے مسلسل اپنی لپیٹ میں لئے رکھا اور رعب مسلسل میرے دل میں رہا ، یہاں تک کہ میں آپ کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے رعب اور قحط سالی کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔