کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص ، نبی اکرم ﷺ سے دشمنی کرے گا ، اُس پر نبی اکرم ﷺ کے معاملے ( یا دین ) کا غالب آ جانا
حدیث نمبر: 9930
عَنْ زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ قَالَ : وَرَدَ عَلَيَّ كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى زِيَادِ بْنِ جَهْوَرٍ ، سَلِّمْ أَنْتَ ، سَلَامٌ عَلَيْكَ ، إِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَمَّا بَعْدُ : فَإِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ . ¤ أَمَّا بَعْدُ : فَلْيُوضَعَنَّ كُلُّ دِينٍ دَانَ بِهِ النَّاسُ إِلَّا الْإِسْلَامَ ، فَاعْلَمْ ذَلِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زیاد بن جمہور رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا ، جس میں یہ تحریر تھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ، یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ، زیاد بن جمہور کے نام ہے ، تم سلامتی پاؤ ، تم پر سلامتی نازل ہو ! میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اما بعد ! میں تمہیں اللہ کی اور آخرت کے دن کی یاد دلاتا ہوں ، اما بعد ! ہر وہ دین ، جو لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے ، وہ ضرور ختم ہو جائے گا ، صرف اسلام باقی رہے گا ، تم یہ بات جان لو ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 9931
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ : قَالَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ : إِنَّكُمْ قَدْ فَعَلْتُمْ بِمُحَمَّدٍ مَا فَعَلْتُمْ ، فَكُونُوا أَكَفَّ النَّاسِ عَنْهُ ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ : بَلْ كُونُوا أَشَدَّ مَا كُنْتُمْ ، فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ : وَاللَّهِ لَا يَزَالُ أَمْرُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ظَاهِرًا فِيمَا نَادَاكُمْ أَوْ أَسَرَّ مِنْكُمْ . ¤ قَالَ أَبُو يُوسُفَ : قُتِلَ الْحَارِثُ يَوْمَ بَدْرٍ كَافِرًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مُدَلِّسٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مطعم بن عدی نے ( مشرکین مکہ سے کہا: ) تم لوگوں نے ( سیدنا ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ جو بھی کیا ، سو کیا ، لیکن اب اُن کے حوالے سے سب سے زیادہ رُکنے والے بن جاؤ ! تو ابوجہل نے کہا: بلکہ تم لوگ ان کے زیادہ سخت مخالف بن جاؤ ، تو حارث بن عامر بن نوفل نے کہا: اللہ کی قسم ! اس نے تمہارے سامنے بلند آواز میں جو بات کی یا پوشیدہ طور پر جو بات کی ، ہر معاملے کے حوالے سے ( سیدنا ) محمد ( سلام ) کا معاملہ مسلسل غالب ہوتا جا رہا ہے ۔ ابویوسف نامی راوی کہتے ہیں : حارث بن عامر ، غزوہ بدر کے موقع پر ، کافر ہونے کے عالم میں مارا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ ضعیف اور مدلس ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے اور وہ ضعیف اور مدلس ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔