حدیث نمبر: 9725
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : إِنَّ أَقْوَامًا يُرِيدُونَ أَنْ يَسْتَنْزِلُونِي عَنْ دِينِي ، وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ حَتَّى أَلْقَى مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابَهُ . مَنْ بَاعَ طَعَامًا أَوْ عَلَفًا مِمَّا أُصِيبَ بِأَرْضِ الرُّومِ بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَقَدْ وَجَبَ فِيهِ الْخُمُسُ ، خُمُسُ اللَّهِ وَسَهْمُ الْمُسْلِمِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مجھے میرے دین کے حوالے سے پست کر دیں ایسا نہیں ہو گا یہاں تک کہ میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سے جا ملوں گا جو شخص رومیوں کی سرزمین پر ملنے والی کسی چیز خواہ وہ اناج ہو یا چارہ ہو اسے سونے یا چاندی کے عوض میں فروخت کرے گا ، تو وہ ایسی چیز ہو جس میں خمس واجب ہو چکا ہو گا ، اور خمس اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے اور مسلمانوں کا حصہ ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9725
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (298/18)»