مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنِ النُّهْبَةِ . باب: لوٹ مار کی ممانعت
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتْحَ خَيْبَرَ فَلَمَّا انْهَزَمُوا وَقَعْنَا فِي رِحَالِهِمْ فَأَخَذَ النَّاسُ مَا وَجَدُوا مِنْ خِرَافٍ فَلَمْ يَكُنْ أَسْرَعَ مِنْ أَنْ فَارَتِ الْقُدُورُ فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَنَا فَجَعَلَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ شَاةً .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ النُّهْبَةِ وَإِكْفَاءِ الْقُدُورِ وَكَذَلِكَ أَبُو يَعْلَى ، رِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتح خبیر میں شریک ہوا ہوں جب وہ لوگ پسپا ہو گئے تو ہم نے ان کی رہائش گاہوں پر حملہ کر دیا لوگوں کو جو بکریاں ملیں وہ انہوں نے حاصل کر لیں ابھی ہنڈیاؤں میں ابال آیا ہی تھا کہ انہیں الٹا دیا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان ( مال غنیمت ) تقسیم کیا اور ہر دس افراد کے لئے ایک بکری مقرر کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں لوٹ مار کرنے اور ہنڈیا الٹانے کا ذکر مختصر کر دیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔