کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنگ میں خواتین کا نکلنا
عَنْ أُمِّ كَبْشَةَ امْرَأَةٍ مِنْ عُذْرَةَ - عُذْرَةَ بَنِي قُضَاعَةَ - أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ [ لِي ] أَنْ أَخْرُجَ فِي جَيْشِ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ أُرِيدُ أَنْ أُقَاتِلَ إِنَّمَا أُرِيدَ أُدَاوِي الْجَرْحَى وَالْمَرْضَى أَوْ أَسْقِي الْمَرْضَى قَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً وَيُقَالُ : فُلَانَةُ خَرَجَتْ لَأَذِنْتُ لَكِ وَلَكِنِ اجْلِسِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام کبشہ رضی اللہ عنہا جو بنو قضاعہ کی شاخ عذرہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہیں وہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں فلاں فلاں لشکر کے ساتھ نکلوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جنگ نہیں کروں گی میں زخمیوں اور بیماروں کی تیمارداری کروں گی ۔ بیماروں کو پانی پلاؤں گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ بات سنت بن جائے گی اور یہ کہا: جائے گا کہ فلاں خاتون بھی تو نکلی تھی تو میں تمہیں اجازت دے دیتا لیکن تم بیٹھی رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9653
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (176/25)»
وَعَنْ لَيْلَى الْغِفَارِيَّةِ قَالَتْ : كُنْتُ أَخْرُجُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُدَاوِي الْجَرْحَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده لیلی غفاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکا کرتی تھی اور زخمیوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن محمد بن ابوشیبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9654
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَغْزُو بِنَا لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَنَسْقِي الْمَرْضَى ، وَنُدَاوِي الْجَرْحَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یعنی انصار سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین کو جنگ میں ساتھ لے کر جایا کرتے تھے ہم بیماروں کو پانی پلایا کرتی تھیں اور زخمیوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9655
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْرُجُ مَعَكَ إِلَى الْغَزْوِ ؟ قَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّهُ لَمْ يُكْتُبْ عَلَى النِّسَاءِ الْجِهَادُ " . قَالَتْ : أُدَاوِي الْجَرْحَى وَأُعَالِجُ الْعَيْنَ وَأَسْقِي الْمَاءَ ؟ قَالَ : " فَنَعَمْ إِذًا " . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَاجِبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لئے نکلوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام سلیم خواتین پر جہاد لازم قرار نہیں دیا گیا ہے انہوں نے عرض کی : میں زخمیوں کی دیکھ بھال کروں گی ، چشمے کی دیکھ بھال کروں گی اور پانی پلاؤں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر ٹھیک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد جعفر بن سلیمان بن حاجب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9656
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف