حدیث نمبر: 9653
عَنْ أُمِّ كَبْشَةَ امْرَأَةٍ مِنْ عُذْرَةَ - عُذْرَةَ بَنِي قُضَاعَةَ - أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ [ لِي ] أَنْ أَخْرُجَ فِي جَيْشِ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ أُرِيدُ أَنْ أُقَاتِلَ إِنَّمَا أُرِيدَ أُدَاوِي الْجَرْحَى وَالْمَرْضَى أَوْ أَسْقِي الْمَرْضَى قَالَ : " لَوْلَا أَنْ تَكُونَ سُنَّةً وَيُقَالُ : فُلَانَةُ خَرَجَتْ لَأَذِنْتُ لَكِ وَلَكِنِ اجْلِسِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام کبشہ رضی اللہ عنہا جو بنو قضاعہ کی شاخ عذرہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ہیں وہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں فلاں فلاں لشکر کے ساتھ نکلوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جنگ نہیں کروں گی میں زخمیوں اور بیماروں کی تیمارداری کروں گی ۔ بیماروں کو پانی پلاؤں گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ بات سنت بن جائے گی اور یہ کہا: جائے گا کہ فلاں خاتون بھی تو نکلی تھی تو میں تمہیں اجازت دے دیتا لیکن تم بیٹھی رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9653
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (176/25)»