مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْغَزْوِ . باب: جنگ میں خواتین کا نکلنا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْرُجُ مَعَكَ إِلَى الْغَزْوِ ؟ قَالَ : " يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّهُ لَمْ يُكْتُبْ عَلَى النِّسَاءِ الْجِهَادُ " . قَالَتْ : أُدَاوِي الْجَرْحَى وَأُعَالِجُ الْعَيْنَ وَأَسْقِي الْمَاءَ ؟ قَالَ : " فَنَعَمْ إِذًا " . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَاجِبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لئے نکلوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام سلیم خواتین پر جہاد لازم قرار نہیں دیا گیا ہے انہوں نے عرض کی : میں زخمیوں کی دیکھ بھال کروں گی ، چشمے کی دیکھ بھال کروں گی اور پانی پلاؤں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر ٹھیک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد جعفر بن سلیمان بن حاجب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔