مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ الْحَرَسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ کی راہ میں پہرا دینا
وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَسَ فَحَدَّثَ أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ فَقَالَ : هَلْ رَآهُ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ الْخَيْرِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ حَرَسْتُ مَعَهُ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ مَعَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ فَلَمَّا أُدْخِلَ الْقَبْرَ حَثَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ مِنَ التُّرَابِ ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ أَصْحَابَكَ يَظُنُّونَ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : " لَا تَسْأَلْ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ وَلَكِنْ سَلْ عَنِ الْفِطْرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيِّ ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ . ¤سیدنا ابوعطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے آپ نے یہ بات بیان کی ایک شخص کا انتقال ہو گیا آپ نے دریافت کیا : کیا تم میں سے کسی ایک نے اس کو کوئی نیکی کا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ ایک شخص نے عرض کی : جی ہاں ۔ میں نے اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں ایک رات پہرا دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کھڑے ہوئے آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی جب اس شخص کو قبر میں اتار دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اس کی قبر پر مٹی ڈالی اور پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے ساتھی یہ گمان کر رہے تھے کہ تم اہل جہنم میں سے ہو اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم اہل جنت میں سے ہو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم لوگوں کے اعمال کے بارے میں دریافت نہ کرو بلکہ تم فطرت کے بارے میں دریافت کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق حمصی سے نقل کی ہے جسے امام ذہبی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔