مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجهاد— جہاد کے بارے میں روایات
بَابُ الْحَرَسِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: اللہ کی راہ میں پہرا دینا
عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ ، فَأَتَيْنَا ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى شَرَفٍ فَبِتْنَا عَلَيْهِ فَأَصَابَنَا بَرْدٌ شَدِيدٌ حَتَّى رَأَيْتُ مَنْ يَحْفِرُ فِي الْأَرْضِ حُفْرَةً يَدْخُلُ فِيهَا وَيُلْقِي عَلَيْهِ الْحَجَفَةَ - يَعْنِي التُّرْسَ - فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ النَّاسِ نَادَى : " مَنْ يَحْرُسُنَا اللَّيْلَةَ وَأَدْعُو اللَّهَ لَهُ بِدُعَاءٍ يَكُونُ فِيهِ فَضْلٌ ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " ادْنُهْ " . فَدَنَا فَقَالَ : " مَنْ أَنْتَ ؟ " فَتَسَمَّى لَهُ الْأَنْصَارِيُّ فَفَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالدُّعَاءِ فَأَكْثَرَ مِنْهُ قَالَ أَبُو رَيْحَانَةَ : فَلَمَّا سَمِعْتُ مَا دَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : أَنَا رَجُلٌ آخَرُ . فَقَالَ : " ادْنُهْ " . فَدَنَوْتُ فَقَالَ : " مَنْ أَنْتَ ؟ " فَقُلْتُ : أَبُو رَيْحَانَةَ ، فَدَعَا لِي بِدُعَاءِ هُوَ دُونَ مَا دَعَا لِلْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ قَالَ : " حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ دَمَعَتْ - أَوْ بَكَتْ - مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَحُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ سَهِرَتْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " أَوْ قَالَ : " حُرِّمَتِ النَّارُ عَلَى عَيْنٍ أُخْرَى ثَالِثَةٍ " . لَمْ يَسْمَعْهَا مُحَمَّدُ بْنُ سُمَيْرٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک جنگ میں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک دن ہم ایک ٹیلے پر پہنچے ہم نے اس پر رات گزاری ہمیں شدید سردی لگ رہی تھی ، یہاں تک کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے زمین کھودی اور اس میں داخل ہو گیا اور اپنے اوپر ڈھال رکھ لی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی یہ صورت حال دیکھی تو آپ نے بلند آواز میں دریافت کیا : آج رات کون ہماری پہریداری کرے گا اس کے لئے میں اللہ تعالیٰ سے ایسی دعا کروں گا ، جس میں اس کے لئے فضیلت ہو گی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایسا کروں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ وہ قریب ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ انصاری نے اپنا نام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی اور بکثرت دعا کی ۔ سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سنی تو میں نے عرض کی : میں دوسرا فرد ہوں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ۔ میں قریب ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کون ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ریحانہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے دعا کی ، لیکن یہ اس سے کم تھی ، جو آپ نے انصاری کے لئے کی تھی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جہنم اس آنکھ کے لئے حرام ہے ، جو اللہ کے خوف سے آنسو بہاتی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم اس آنکھ پر حرام ہو جاتی ہے ، جو اللہ کی راہ میں رات بھر جاگتی رہتی ہے ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم تیسری آنکھ پر بھی حرام ہوتی ہے ، لیکن اس بات کا ذکر محمد بن سمیر نامی راوی نے نہیں سنا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔