وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَلِيُّ إِنْ وَلِيتَ الْأَمْرَ بَعْدِي ، فَأَخْرِجْ أَهْلَ نَجْرَانَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ قَيْسٌ غَيْرُ مَنْسُوبٍ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! اگر تم میرے بعد حکمران بنے ، تو تم اہل نجران کو جزیرہ نما عرب سے نکال دینا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس ہے جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ قیس بن ربیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس ہے جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ قیس بن ربیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ ، فَتَنَفَّسَ فَقُلْتُ : مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نُعِيتُ إِلَى نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . قُلْتُ : فَاسْتَخْلِفْ . قَالَ : " مَنْ ؟ " قُلْتُ : أَبَا بَكْرٍ . قَالَ : فَسَكَتَ ثُمَّ مَضَى سَاعَةً ثُمَّ تَنَفَّسَ قُلْتُ : مَا شَأْنُكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نُعِيتُ إِلَى نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . قُلْتُ : فَاسْتَخْلِفْ . قَالَ : " مَنْ ؟ " قُلْتُ : عُمَرَ . فَسَكَتَ ثُمَّ مَضَى سَاعَةً ثُمَّ تَنَفَّسَ ، قُلْتُ : مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نُعِيتُ إِلَى نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . قُلْتُ : فَاسْتَخْلِفْ . قَالَ : " مَنْ ؟ " قُلْتُ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ أَطَاعُوهُ لَيَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ أَجْمَعِينَ أَكْتَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مِينَا وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنات سے ملاقات کی رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گہری سانس لی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن مسعود ! مجھے اپنی ذات کے حوالے سے انتقال کی اطلاع دی گئی ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کس کو ؟ میں نے عرض کی : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر کچھ دیر چلتے رہے پھر آپ نے گہری سانس لی میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابن مسعود ! مجھے میرے انتقال کی اطلاع دی گئی ہے میں نے عرض کی : پھر آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس کو ؟ میں نے عرض کی : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر ہم کچھ دیر چلتے رہے پھر آپ نے گہرا سانس لیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن مسعود ! مجھے میرے انتقال کی اطلاع دی گئی ہے میں نے کہا: آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس کو ؟ میں نے عرض کی : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر لوگ اس کی اطاعت کریں ، تو وہ سب کے سب ، جنت میں داخل ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مینا ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مینا ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ : قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ : إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ أَخْرَجُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا تَكُونُ الْخِلَافَةُ فِيهِمْ ، وَإِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ قَتَلُوا عُثْمَانَ ، فَلَا تَعُودُ الْخِلَافَةُ فِيهِمْ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومیمونہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اہل مکہ نے اللہ کے رسول کو نکالا تھا تو ان کے درمیان خلافت نہیں ہو گی اور اہل مدینہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا تو ان کے درمیان خلافت کبھی واپس نہیں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ عُمَرُ : أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ " . وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” تم میں سے ایک فرد ایسا ہے جو قرآن کی تفسیر کے حوالے سے جنگ کرے گا جس طرح میں نے اس کے نزول کے حوالے سے جنگ کی ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میں ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میں ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وہ جوتوں کو گانٹھنے والا ہو گا راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جوتے دیے تھے اور وہ انہیں گانٹھ رہے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا عَلَى مِنْبَرِكُمْ هَذَا يَقُولُ : عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أُقَاتِلَ النَّاكِثِينَ وَالْقَاسِطِينَ وَالْمَارِقِينَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ سَهْلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو تمہارے اس منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں ( بیعت ، یا عہد کو ) توڑنے والوں ، حق سے روگرداں ہونے والوں اور ( دین سے ) نکل جانے والوں سے جنگ کروں گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سہل ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سہل ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔