مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ باب: چار خلفاء کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ وَفْدِ الْجِنِّ ، فَتَنَفَّسَ فَقُلْتُ : مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نُعِيتُ إِلَى نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . قُلْتُ : فَاسْتَخْلِفْ . قَالَ : " مَنْ ؟ " قُلْتُ : أَبَا بَكْرٍ . قَالَ : فَسَكَتَ ثُمَّ مَضَى سَاعَةً ثُمَّ تَنَفَّسَ قُلْتُ : مَا شَأْنُكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نُعِيتُ إِلَى نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . قُلْتُ : فَاسْتَخْلِفْ . قَالَ : " مَنْ ؟ " قُلْتُ : عُمَرَ . فَسَكَتَ ثُمَّ مَضَى سَاعَةً ثُمَّ تَنَفَّسَ ، قُلْتُ : مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نُعِيتُ إِلَى نَفْسِي يَا ابْنَ مَسْعُودٍ " . قُلْتُ : فَاسْتَخْلِفْ . قَالَ : " مَنْ ؟ " قُلْتُ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ أَطَاعُوهُ لَيَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ أَجْمَعِينَ أَكْتَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مِينَا وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنات سے ملاقات کی رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گہری سانس لی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن مسعود ! مجھے اپنی ذات کے حوالے سے انتقال کی اطلاع دی گئی ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کس کو ؟ میں نے عرض کی : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر کچھ دیر چلتے رہے پھر آپ نے گہری سانس لی میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابن مسعود ! مجھے میرے انتقال کی اطلاع دی گئی ہے میں نے عرض کی : پھر آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس کو ؟ میں نے عرض کی : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر ہم کچھ دیر چلتے رہے پھر آپ نے گہرا سانس لیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن مسعود ! مجھے میرے انتقال کی اطلاع دی گئی ہے میں نے کہا: آپ کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کس کو ؟ میں نے عرض کی : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر لوگ اس کی اطاعت کریں ، تو وہ سب کے سب ، جنت میں داخل ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مینا ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔