حدیث نمبر: 8952
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَخَذَ الْإِدَاوَةَ بَعْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ يَتْبَعُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَيَّنَّا هُوَ يُوَضِّئُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ : " يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ وَلِيتَ أَمْرًا فَاتَّقِ اللَّهَ وَاعْدِلْ " . قَالَ : فَمَا زِلْتُ أَظُنُّ أَنِّي مُبْتَلًى بِعَمَلٍ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى ابْتُلِيتُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ سَعِيدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ فَوَصَلَهُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن عمرو بن سعید بن العاص بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وہ برتن لے لیا جسے وہ ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا کرتے تھے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تھے ۔ ایک مرتبہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کروا رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے دوران اپنا سر اٹھا کر ایک یا شاید دو مرتبہ دیکھا اور پھر فرمایا : اے معاویہ ! اگر تم حکمران بن گئے ، تو تم اللہ سے ڈرنا اور عدل سے کام لینا ۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد مسلسل میں پر امید رہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے مجھے حکومت ملے گی یہاں تک کہ مجھے وہ مل گئی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے سعید کے حوالے سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے موصول روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ عبدالملک بن عمر کے حوالے سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مہاجر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی ، توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8952
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (7380) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (361/19) اخرجه احمد فى المسند (101/4)»