کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: چار خلفاء کا بیان
حدیث نمبر: 8907
عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجُمَلِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي إِمَارَةٍ ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ - عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجُرَّانِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جنگ جمل کے موقع پر انہوں نے یہ ارشاد فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے حکومت کے بارے میں کوئی ایسا عہد نہیں لیا تھا جسے ہم اختیار کریں بلکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ہماری اپنی رائے تھی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا اللہ تعالیٰ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، تو انہوں نے ( احکام کو ) قائم کیا اور وہ سیدھے رہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا ، انہوں نے ( احکام کو ) قائم کیا اور سیدھے رہے یہاں تک کہ دین مضبوط ہو گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8907
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (921)»
حدیث نمبر: 8908
وَعَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ : قَامَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ وَسَارَ بِسِيرَتِهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدخیر بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے مطابق عمل کیا اور آپ کے طریقے کے مطابق طریقہ اختیار کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسی حالت میں انہیں وفات دی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا تو انہوں نے ان دونوں صاحبان کے طریقے کے مطابق عمل کیا اور ان دونوں کے طریقوں کے مطابق چلے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی وفات دیدی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8908
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8909
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ نُؤَمِّرُ بَعْدَكَ ؟ قَالَ : " إِنْ تُؤَمِّرُوا أَبَا بَكْرٍ تَجِدُوهُ أَمِينًا زَاهِدًا فِي الدُّنْيَا رَاغِبًا فِي الْآخِرَةِ ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عُمَرَ تَجِدُوهُ قَوِيًّا أَمِينًا لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَإِنْ تُؤَمِّرُوا عَلِيًّا وَلَا أَرَاكُمْ فَاعِلِينَ تَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا يَأْخُذُ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی ہے : یا رسول اللہ ! آپ کے بعد ہم کسے امیر بنائیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم ابوبکر کو امیر بناتے ہو تو تم اسے امین پاؤ گے ، جو دنیا سے بے رغبت ہو گا ، اور آخرت میں رغبت رکھنے والا ہو گا ، اور اگر تم عمر کو امیر بناتے ہو تو تم اسے قوی اور امین پاؤ گے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اس کو اپنی گرفت میں نہیں لے گی اور اگر تم علی کو امیر بناؤ گے اور میرا نہیں خیال کہ تم ایسا کرو گے ، تو تم اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت کا مرکز پاؤ گے وہ تمہیں سیدھے راستے پر لے کے چلے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8909
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1571) أخرجه احمد فى المسند (859)»
حدیث نمبر: 8910
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْتَخْلِفُ عَلَيْنَا ؟ قَالَ : " إِنِّي إِنْ أَسْتَخْلِفْ عَلَيْكُمْ فَتَعْصَوْنَ خَلِيفَتِي يَنْزِلْ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ " . قَالُوا : أَلَا نَسْتَخْلِفُ أَبَا بَكْرٍ ؟ قَالَ : " إِنْ تَسْتَخْلِفُوهُ تَجِدُوهُ ضَعِيفًا فِي بَدَنِهِ قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ " قَالُوا : أَلَا نَسْتَخْلِفُ عُمَرَ ؟ قَالَ : " إِنْ تَسْتَخْلِفُوهُ تَجِدُوهُ قَوِيًّا فِي بَدَنِهِ قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ " . قَالُوا : أَلَا نَسْتَخْلِفُ عَلِيًّا ؟ قَالَ : " إِنْ تَسْتَخْلِفُوهُ ، وَلَنْ تَفْعَلُوا يَسْلُكْ بِكُمُ الطَّرِيقَ الْمُسْتَقِيمَ ، وَتَجِدُوهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو الْيَقْظَانِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہم پر کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کرتے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں نے تم پر کسی کو خلیفہ مقرر کیا اور تم نے میرے خلیفہ کی نافرمانی کی ، تو تم پر عذاب نازل ہو گا لوگوں نے عرض کی : ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نہ بنا لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اسے خلیفہ بناتے ہو تو تم اسے جسمانی طور پر کمزور لیکن اللہ کے معاملے میں قوی پاؤ گے لوگوں نے عرض کی : کیا ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نہ بنا لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اسے خلیفہ بناتے ہو ، تو تم اسے جسمانی طور پر قوی اور اللہ کے معاملے میں بھی قوی پاؤ گے لوگوں نے عرض کی : کیا ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نہ بنا لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اسے خلیفہ بناتے ہو ، ویسے تم ایسا کرو گے ، تو نہیں ، تو وہ تمہیں سیدھے راستے پر لے کے چلے گا ، اور تم اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت کا مرکز پاؤ گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابویقظان عثمان بن عمیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8910
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1570)»
حدیث نمبر: 8911
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا أَسَّسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ جَاءَ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ ، وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ ، وَجَاءَ عُمَرُ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ ، وَجَاءَ عُثْمَانُ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ ، قَالَتْ : فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " هَذَا أَمْرُ الْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ التَّابِعِيِّ فَإِنَّهُ لَمْ يُسَمَّ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ جَرِيرٍ بَعْدَ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مسجد نبوی کی بنیاد رکھی ، تو آپ ایک پتھر لے کے آئے ، اور آپ نے اسے رکھ دیا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کے آئے ، اور انہوں نے اسے رکھ دیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پتھر لے کے آئے انہوں نے اسے رکھ دیا پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کے آئے انہوں نے اسے رکھ دیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا میرے بعد خلافت کا معاملہ یہ ہو گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے عوام بن حوشب کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف تابعی کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بعد سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8911
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن لغیرہ
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (4884)»
حدیث نمبر: 8912
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ إِلَى بُسْتَانٍ فَجَاءَ آتٍ فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَ : " يَا أَنَسُ قُمْ فَافْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِي " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُعْلِمُهُ ؟ قَالَ : " أَعْلِمْهُ " فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَقُلْتُ لَهُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ وَأَبْشِرْ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ ثُمَّ جَاءَ آتٍ فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَ : " يَا أَنَسُ قُمْ فَافْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبَشِّرْهُ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُعْلِمُهُ ؟ قَالَ : " أَعْلِمْهُ " فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُمَرُ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ وَأَبْشِرْ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ . ¤ قَالَ : ثُمَّ جَاءَ آتٍ فَدَقَّ الْبَابَ فَقَالَ : " يَا أَنَسُ قُمْ فَافْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وَبَشِّرْهُ بِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ عُمَرَ وَأَنَّهُ مَقْتُولٌ " . قَالَ : فَخَرَجْتُ فَإِذَا عُثْمَانُ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ وَبِالْخِلَافَةِ مِنْ بَعْدِ عُمَرَ وَإِنَّكَ مَقْتُولٌ . ¤ قَالَ : فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَهْ ؟ وَاللَّهِ مَا تَعَنَّيْتُ وَلَا تَمَنَّيْتُ وَلَا مَسَسْتُ فَرْجِي مُنْذُ بَايَعْتُكَ . قَالَ : " هُوَ ذَاكَ يَا عُثْمَانُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " سَيَلِي أَمْرَ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَّهُ سَيَلْقَى مِنَ الرَّعِيَّةِ شِدَّةً " فَأَمَرَهُ عِنْدَ ذَلِكَ أَنْ يَكُفَّ . ¤ وَفِيهِ صَقْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ عُتْبَةُ أَبُو عَمْرٍو ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الْبَزَّارِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي عُثْمَانَ : فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ دَخَلَ . وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ ایک باغ میں تشریف لے آئے ایک صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس اٹھ کر دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور میرے بعد خلافت کی خوشخبری دو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں بتا دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے بتا دو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا: آپ کو جنت کی خوشخبری ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو پھر ایک اور صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس اٹھ کر اس کے لئے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور اسے ابوبکر کے بعد خلافت کی خوشخبری دو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں انہیں بتا دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے بتا دو میں نکلا تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے میں نے انہیں کہا: آپ کو جنت کی خوشخبری ہو اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر ایک اور صاحب آئے انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انس اٹھ کر اس کے لئے دروازہ کھولو اور اسے جنت کی خوشخبری دو اور عمر کے بعد خلافت کی خوشخبری دو اور یہ بتا دو کہ وہ مقتول ہو گا ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں باہر نکلا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان سے کہا: آپ کو جنت کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت کی خوشخبری ہو اور یہ بات جان لیں کہ آپ شہید ہوں گے سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ اللہ کی قسم ! نہ ، تو میں نے کبھی کوئی سرکشی کی ہے ، اور نہ ہی میں نے کبھی اس کی آرزو کی ہے ، جب سے میں نے آپ کی بیعت کی ہے میں نے ، تو اپنی شرمگاہ کو بھی نہیں چھوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عثمان ایسا ہی ہو گا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” عنقریب ابوبکر اور عمر کے بعد میری امت کے معاملے کا نگران وہ بنے گا ، اور عنقریب وہ رعایا کی طرف سے شدت کا سامنا کرے گا راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ خود کو روک کے رکھیں “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی صقر بن عبدالرحمن ہے ، اور وہ کذاب ہے امام بزار کی سند میں ایک راوی عتبہ ابوعمرو ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال بزار کے رجال ہیں ، البتہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انہوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور اندر آ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی کی روایت حسب سابق ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8912
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1573, 1572) اخرجه ابو يعلى فى المسند (3958)»
حدیث نمبر: 8913
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ . يَعْنِي فِي الْخِلَافَةِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : فِي الْخِلَافَةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کہا: کرتے تھے : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان ( راوی کہتے ہیں : ( یعنی خلافت کے بارے میں ہم یہ کہا: کرتے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” خلافت کے بارے میں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8913
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1569)»
حدیث نمبر: 8914
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ ؟ فَنَقُولُ : أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ نَقُولُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ ؟ فَنَقُولُ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ نَقُولُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قُبِضَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ ؟ فَنَقُولُ : عُثْمَانُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کہا: کرتے تھے کہ اس معاملہ ( یعنی خلافت ) کا سب سے زیادہ حق دار کون ہو گا ؟ ہم کہا: کرتے تھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر ہم یہ کہتے تھے کہ اس بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے کہ اگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے ، تو اس معاملے ( یعنی حکومت ) کا سب سے زیادہ حق دار کون ہو گا ، تو ہم یہ کہتے تھے ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پھر ہم یہ کہتے تھے کہ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جاتا ہے ، تو اس معاملے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہو گا ؟ تو ہم یہ کہتے تھے : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8914
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13391)»
حدیث نمبر: 8915
وَعَنْ [ أَبِي ] خِداشِ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : كُنْتُ أَطْلُبُ حَاجَةً إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَجِدْكَ ؟ قَالَ : " فَأْتِ أَبَا بَكْرٍ " قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَجِدْ أَبَا بَكْرٍ ؟ قَالَ : " فَأْتِ عُمَرَ " قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَجِدْ عُمَرَ ؟ قَالَ : " فَعُثْمَانَ " قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَجِدْ عُثْمَانَ ؟ فَسَكَتَ فَأَعَدْتُ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً يَقُولُ ذَلِكَ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَمَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوخداش بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں کسی کام کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی : اگر میں آپ کو نہ پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم ابوبکر کے پاس آ جانا میں نے عرض کی : اگر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی نہ پاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عمر کے پاس آ جانا میں نے عرض کی : اگر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی نہ پاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر عثمان ؟ میں نے عرض کی : اگر میں سیدنا عثمان کو بھی نہ پاؤں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے میں نے دو یا تین مرتبہ اپنی بات دہرائی پھر میں نے بعد میں یہ سوچا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ، جسے وہ چاہتا ہے اسے عطا کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ، اور ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8915
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1568)»
حدیث نمبر: 8916
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ نُسَلِّمْ عَلَيْهِمْ " . فَأَتَاهُمْ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَرَحَّبُوا بِهِ ثُمَّ قَالَ : " يَا أَهْلَ قُبَاءَ ائْتُونِي بِأَحْجَارٍ مِنْ هَذِهِ الْحَرَّةِ " فَجُمِعَتْ عِنْدَهُ أَحْجَارٌ كَثِيرَةٌ ، وَمَعَهُ عَنَزَةٌ لَهُ فَخَطَّ قِبْلَتَهُمْ ، فَأَخَذَ حَجَرًا فَوَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى حَجَرِي " ثُمَّ قَالَ : " يَا عُمَرُ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ أَبِي بَكْرٍ " ثُمَّ قَالَ : " يَا عُثْمَانُ خُذْ حَجَرًا فَضَعْهُ إِلَى جَنْبِ حَجَرِ عُمَرَ " ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ بِأَخَرَةٍ فَقَالَ : " وَضَعَ رَجُلٌ حَجَرَهُ حَيْثُ أَحَبَّ عَلَى ذَلِكَ الْخَطِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا تم ہمارے ساتھ اہل قباء کی طرف چلو تاکہ ہم انہیں سلام کر لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آپ کو خوش آمدید کہا: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اہل قباء میرے پاس پتھریلی زمین سے پتھر لے کے آؤ جب وہاں بہت سے پتھر اکٹھے ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نیزہ تھا آپ نے ان لوگوں کے قبلہ کی طرف لکیر لگائی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پتھر لیا اور آپ نے اسے رکھ دیا پھر آپ نے فرمایا : اے ابوبکر تم ایک پتھر لو اور میرے پتھر کے ساتھ رکھ دو پھر آپ نے فرمایا : اے عمر تم ایک پتھر لو اور ابوبکر کے پتھر کے پہلو میں اسے رکھ دو پھر آپ نے فرمایا : اے عثمان تم ایک پتھر لو اور اسے عمر کے پتھر کے پہلو میں رکھ دو پھر آپ پیچھے موجود لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، اور ارشاد فرمایا : ہر شخص جہاں چاہے اس لکیر کے مطابق پتھر رکھ دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8916
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2418)»
حدیث نمبر: 8917
وَعَنْ سَفِينَةَ أَنْ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ فَرَجَحْتَ بِأَبِي بَكْرٍ ثُمَّ وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ بِعُمَرَ ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ بِعُثْمَانَ فَرَجَحَ عُمَرُ ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ . فَاسْتَهَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خِلَافَةَ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے آسمان سے ایک ترازو اترا ہے آپ کا وزن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو آپ کا پلڑا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں بھاری تھا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وزن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وزن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا پلڑا بھاری تھا پھر اس ترازو کو اوپر لے جایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اس سے مراد خلافت نبوت ہے پھر اللہ تعالیٰ جسے چاہیے گا حکومت عطا کر دے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ، جسے یحیی بن معین اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8917
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1567)»
حدیث نمبر: 8918
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَكُونُ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَا يَلْبَثُ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا ، وَصَاحِبُ رَحَا دَارَةِ الْعَرَبِ يَعِيشُ حَمِيدًا وَيَمُوتُ شَهِيدًا " . فَقَالَ رَجُلٌ : مَنْ هُوَ ؟ قَالَ : " عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ إِنْ أَلْبَسَكَ اللَّهُ قَمِيصًا فَأَرَادَكَ النَّاسُ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ فَوَاللَّهِ لَئِنْ خَلَعْتَهُ لَا تَرَى الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَمْ أَرَ لَهُ حَدِيثًا مُنْكَرًا غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ غَيْرَ هَذَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” میرے بعد بارہ خلفاء ہوں گے جن میں سے ایک ابوبکر صدیق ہیں وہ میرے بعد تھوڑا عرصہ رہے گا ، اور ایک ( خلیفہ ) عربوں کی چکی کو گھمانے والا شخص ہے جو قابل تعریف زندگی گزارے گا ، اور شہید ہونے کے عالم میں مرے گا ، ایک صاحب نے عرض کی : وہ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ عمر ہے پھر آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ، اور فرمایا : اے عثمان ! اگر اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے ، اور لوگ اسے اتارنے کا ارادہ کریں ، تو تم اسے نہ اتارنا اللہ کی قسم ! اگر تم نے اسے اتار دیا تو تم جنت کو اس وقت تک نہیں دیکھو گے ، جب تک اونٹ سوئی کے نا کہ میں داخل نہیں ہو جاتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مطلب بن شعیب ہے ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اس کے حوالے سے کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی صرف ایک حدیث کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ اس کے علاوہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی ، توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (142 و 12)»
حدیث نمبر: 8919
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا ) قَالَ : دَخَلَتْ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِهَا وَهُوَ يَطَأُ مَارِيَةَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُخْبِرِي عَائِشَةَ حَتَّى أُبَشِّرَكِ بِبِشَارَةٍ ، إِنَّ أَبَاكِ يَلِي مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ إِذَا أَنَا مِتُّ " . فَذَهَبَتْ حَفْصَةُ فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةَ أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَطَأُ مَارِيَةَ وَأَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَهَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ يَلِي بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَلِي عُمَرُ بَعْدَهُ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا ؟ قَالَ : ( نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ ) . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَا أَنْظُرُ إِلَيْكَ حَتَّى تُحَرِّمَ مَارِيَةَ . فَحَرَّمَهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : ( يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ مُزَاحِمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جب نبی نے اپنی ایک زوجہ کے ساتھ سرگوشی میں ایک بات کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے گھر میں آئیں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ) سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا تم یہ بات عائشہ کو نہ بتانا ، میں تمہیں خوشخبری دوں گا وہ یہ کہ ابوبکر کے بعد تمہارا والد حکمران بنے گا ، جب میں مر جاؤں گا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا گئیں اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بارے میں بتا دیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا ہے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بھی بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکمران بنیں گے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے بعد حکمران بنیں گے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کو یہ بات کس نے بتائی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے علم رکھنے والی اور خبر رکھنے والی ذات نے یہ بات بتائی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں آپ کی طرف اس وقت تک نہیں دیکھوں گی جب تک آپ ماریہ کو ( اپنے اوپر ) حرام قرار نہیں دیتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حرام قرار دیدیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے نبی تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ایک راوی ضحاک بن مزاحم ہے اس نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8919
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8920
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَلَقِيَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ : جِئْتُ أَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِلَى مَنْ نَدْفَعُ صَدَقَةَ أَمْوَالِنَا إِذَا قَبَضَكَ اللَّهُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِلَى أَبِي بَكْرٍ " قَالَ : فَإِذَا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ فَإِلَى مَنْ ؟ قَالَ : " إِلَى عُمَرَ " . قَالَ : فَإِذَا قُبِضَ عُمَرُ فَإِلَى مَنْ ؟ قَالَ : إِلَى عُثْمَانَ " . قَالَ : فَإِذَا قُبِضَ عُثْمَانُ فَإِلَى مَنْ ؟ قَالَ : " انْظُرُوا لِأَنْفُسِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : خزاعہ قبیلے کا ایک شخص آیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کی ملاقات ہوئی انہوں نے دریافت کیا : تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھنے کے لئے آیا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو وفات دیدے گا ، تو ہم اپنے اموال کی زکوۃ کسے ادا کریں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر کو اس نے دریافت کیا : جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے ، تو پھر کس کو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر کو اس نے دریافت کیا : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے ، تو پھر کس کو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عثمان کو ، اس نے دریافت کیا : اگر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے ، تو پھر کس کو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم خود دیکھ لینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8920
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (190/17)»
حدیث نمبر: 8921
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ بِإِبِلٍ لَهُ ، فَلَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ ، فَلَقِيَهُ عَلِيٌّ فَقَالَ : مَا أَقْدَمَكَ ؟ قَالَ : قَدِمْتُ بِإِبِلٍ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَنَقَدَكَ ؟ قَالَ : لَا وَلَكِنْ بِعْتُهَا مِنْهُ بِتَأْخِيرٍ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ فَمَنْ يَقْضِي [ مَالِي ؟ وَاْنظُرْ مَا يَقُولُ لَكَ حَتَّى تُعْلِمَنِي ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ حَدَثَ بِكَ حَدَثٌ فَمَنْ يَقْضِينِي ؟ ] ، قَالَ : " أَبُو بَكْرٍ " . فَأَعْلَمَ عَلِيًّا . فَقَالَ لَهُ : ارْجِعْ فَسَلْهُ إِنْ حَدَثَ بِأَبِي بَكْرٍ [ حَدَثٌ ] فَمَنْ يَقْضِي ؟ فَسَأَلَهُ فَقَالَ : " عُمَرُ " فَجَاءَ فَأَعْلَمَ عَلِيًّا فَقَالَ لَهُ : ارْجِعْ فَسَلْهُ إِذَا مَاتَ عُمَرُ فَمَنْ يَقْضِي ؟ فَجَاءَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَيْحَكَ إِذَا مَاتَ عُمَرُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَمُوتَ فَمُتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دیہاتی علاقے کا ایک فرد اپنا اونٹ لے کے آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے ملاقات ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اس کا اونٹ خرید لیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس شخص سے ملاقات ہوئی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ اس نے کہا: میں ایک اونٹ لے کے آیا تھا جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید لیا ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں نقد ادائیگی کر دی ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں میں نے انہیں اس شرط پر فروخت کیا ہے کہ ادائیگی بعد میں ہو گی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کرو : یا رسول اللہ ! اگر آپ کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آ جاتا ہے ، تو مجھے میرے مال کی ادائیگی کون کرے گا ؟ پھر تم اس بات کا جائزہ لینا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں کیا جواب دیتے ہیں اور مجھے اس کے بارے میں بتانا اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ اگر آپ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے ، تو مجھے کون ادائیگی کرے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوبکر ! اس شخص نے اس بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم واپس جاؤ اور ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرو کہ اگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے ، تو پھر کون ادائیگی کرے گا : اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عمرو ، وہ شخص آیا اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم واپس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرو کہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے گا ، تو پھر کون ادائیگی کرے گا ؟ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو جب عمر مر جائے گا ، تو اگر تم سے ہو سکے ، تو اس وقت تم بھی مر جانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8921
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (180/17)»
حدیث نمبر: 8922
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَخْلَفَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَخْلَفَ اللَّهُ عُمَرَ ، ثُمَّ قُبِضَ عُمَرُ فَاسْتَخْلَفَ اللَّهُ عُثْمَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8922
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8923
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ ، وَهُوَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا مَاتَ نَظَرُ خَيْرَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَخْلَفُهُ عَلَيْهِمْ وَهُوَ عُمَرُ ، فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ - أَوْ قُتِلَ - نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ وَهُوَ عُثْمَانُ ، إِنْ تَقْتُلُوهُ فَائْتَوِنِي بِخَيْرٍ مِنْهُ وَاللَّهِ مَا أَرَى أَنْ تَفْعَلُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ حَسَّانَ الْعَطَّارُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو مسلمانوں نے اپنے سب سے بہتر شخص کا جائزہ لیا اور انہیں خلیفہ بنا دیا اور وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے پھر جب ان کا انتقال ہوا تو مسلمانوں نے اپنے سب سے بہتر شخص کا جائزہ لیا اور اسے اپنا خلیفہ بنا دیا اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو مسلمانوں نے اپنے سب سے بہتر شخص کا جائزہ لیا اور انہیں خلیفہ بنا دیا اور وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے اگر تم انہیں قتل کر دو گے ، تو تم میرے پاس ایسے فرد کو لے آؤ جو ان سے زیادہ بہتر ہو اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ تم ایسا کر پاؤ گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن حسان عطار ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8923
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13232)»
حدیث نمبر: 8924
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ حَصَيَاتٍ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرَسْنَ ، ثُمَّ أَخَذَهُنَّ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ أَعْطَاهُنَّ أَبَا بَكْرٍ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرَسْنَ ، ثُمَّ أَخَذَهُنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرَسْنَ ثُمَّ أَعْطَاهُنَّ عُمَرَ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ أَخَذَهُنَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ وَضَعَهُنَّ فَخَرَسْنَ ، ثُمَّ أَعْطَاهُنَّ عُثْمَانَ فَسَبَّحْنَ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ أَعْطَاهُنَّ عَلِيًّا فَوَضَعَهُنَّ فَخَرَسْنَ . ¤ قَالَ الزُّهْرِيُّ : هِيَ الْخِلَافَةُ الَّتِي أَعْطَاهَا اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَلَيْسَ فِيهَا قَوْلُ الزُّهْرِيِّ فِي الْخِلَافَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے کچھ کنکریاں پکڑیں ان کنکریوں نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکڑ لیا تو انہوں نے آپ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیدیں انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر انہوں نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیدیں ، تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لیا تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیں ، تو انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تسبیح پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیں انہوں نے انہیں رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں ۔ زہری کہتے ہیں : یہ وہ خلافت تھی ، جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو عطا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس روایت کا ایک اس سے زیادہ عمدہ حوالہ ہے جو ” علامات نبوت “ سے متعلق باب میں آئے گا اس کی سند صحیح ہے ، اور اس میں خلافت کے بارے میں زہری کا قول نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8924
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1266)»
حدیث نمبر: 8925
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : بَيْنَمَا زِيدُ بْنُ خَارِجَةَ يَمْشِي فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ إِذْ خَرَّ مَيِّتًا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَنُقِلَ إِلَى أَهْلِهِ وَسُجِّيَ بَيْنَ ثَوْبَيْنِ وَكِسَاءٍ ، فَلَمَّا كَانَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعَشَاءِ اجْتَمَعْنَ نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَصَرَخُوا حَوْلَهُ ، إِذْ سَمِعُوا صَوْتًا مِنْ تَحْتِ الْكِسَاءِ يَقُولُ : أَنْصِتُوا أَيُّهَا النَّاسُ مَرَّتَيْنِ ، فَحُسِرَ عَنْ وَجْهِهِ وَصَدْرِهِ ، فَقَالَ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ صَدَقَ صَدَقَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَوِيُّ الْأَمِينُ كَانَ ضَعِيفًا فِي بَدَنِهِ قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ ، كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ : صَدَقَ صَدَقَ ثَلَاثًا . ¤ وَالْأَوْسَطُ : عَبْدُ اللَّهِ [ عُمَرُ ] أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الَّذِي كَانَ لَا يَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، وَكَانَ يَمْنَعُ النَّاسَ أَنْ يَأْكُلَ قَوِيُّهُمْ ضَعِيفَهُمْ ، كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ قِيلَ عَلَى لِسَانِهِ : صَدَقَ صَدَقَ . ¤ ثُمَّ قَالَ : عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَحِيمٌ بِالْمُؤْمِنِينَ ، خَلَتِ اثْنَتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعُ ، وَاخْتَلَفَ النَّاسُ وَلَا نِظَامَ لَهُمْ ، وَانْتُحِبَتِ الْأَحْمَاءُ - يَعْنِي تُنْتَهَكُ الْمَحَارِمُ - وَدَنَتِ السَّاعَةُ وَأَكَلَ النَّاسُ بَعْضَهُمْ بَعْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ زید بن خارجہ مدینہ کے کسی راستے سے چلتے ہوئے جا رہے تھے کہ ظہری اور عصر کے درمیان وہ گر کر مر گئے ان کی میت ان کے گھر منتقل کی گئی انہیں دو کپڑوں اور ایک چادر میں ڈھانپ دیا گیا جب مغرب اور عشاء کے درمیان کا وقت ہوا اور انصار کی خواتین اکٹھے ہو کر ان کے اردگرد رونے لگیں ، تو لوگوں نے چادر کے نیچے سے ایک آواز سنی کوئی شخص یہ کہہ رہا تھا اے لوگو تم خاموش ہو جاؤ یہ بات دو مرتبہ کہی گئی ان کے چہرے اور سینے سے چادر ہٹا دی گئی ، تو انہوں نے کہا: سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں جو امی نبی ہیں اور انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والے ہیں اور یہ بات کتاب میں موجود ہے پھر ان کی زبانی یہ بات کہی گئی کہ انہوں نے سچ کہا: ابوبکر صدیق اللہ کے رسول کے خلیفہ ہیں جو قوی اور امین ہیں جسمانی طور پر کمزور ہیں اور اللہ کے معاملے میں قوی ہیں اور یہ بات پہلے کی کتاب ( یا تحریر ) میں موجود ہے پھر ان کی زبانی یہ بات کہی گئی انہوں نے سچ کہا: یہ بات تین مرتبہ کہی گئی درمیان والے عبداللہ ( یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ) امیر المؤمنین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوں گے اور وہ لوگوں کو اس بات سے روکیں گے کہ ان کا طاقتور شخص ان کے کمزور شخص کا حق ( کھائے ) یہ بات پہلی کتاب میں مذکور ہے پھر ان کی زبانی یہ بات کہی گئی انہوں نے سچ کہا: ہے ۔ انہوں نے سچ کہا: ہے پھر انہوں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین ہیں جو اہل ایمان کے لئے رحم والے ہیں دو گزر چکے ہیں اور چار باقی رہ گئے ہیں لوگوں نے اختلاف شروع کیا اور ان کا کوئی نظام نہیں ہے ، اور حرمتیں پامال کی جانے لگی ہیں قیامت قریب آ گئی ہے ، اور لوگوں نے ایک دوسرے ( کے حقوق ) کو کھانا شروع کر دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8925
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5144)»
حدیث نمبر: 8926
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ زَيْدُ بْنُ خَارِجَةَ انْتَظَرْتُ خُرُوجَ عُثْمَانَ فَقُلْتُ : يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ، فَكُشِفَ الثَّوْبُ عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، وَأَهْلُ الْبَيْتِ يَتَكَلَّمُونَ ، قَالَ : فَقُلْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ : سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ . فَقَالَ : انْصِتُوا انْصِتُوا . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ بِإِسْنَادَيْنِ وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا فِي الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے نکلنے کا انتظار کرتا رہا میں نے سوچا وہ دو رکعت ادا کر رہے ہوں گے زید بن خارجہ کے چہرے سے کپڑا ہٹایا گیا تو انہوں نے کہا: السلام علیکم السلام علیکم گھر والے لوگ بات چیت کر رہے تھے راوی کہتے ہیں : میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا میں نے کہا: سبحان اللہ سبحان اللہ ، تو انہوں نے کہا: تم خاموش رہو تم خاموش رہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور معجم اوسط میں زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہیں جو دو اسناد کے ساتھ منقول ہیں ۔ معجم کبیر میں ان دو میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8926
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (5145)»
حدیث نمبر: 8927
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ ، كَأَنِّي أَنْزِعُ أَرْضًا وَرَدَتْ عَلَيَّ غَنَمٌ سُودٌ وَغَنَمٌ عُفْرٌ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ . ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا ، فَمَلَأَ الْحَوْضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ ، فَأَوَّلَتُ [ أَنَّ ] السُّودَ الْعَرَبَ وَأَنَّ الْعُفْرَ الْعَجَمُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں زمین سے پانی نکال رہا ہوں ، میرے پاس سیاہ رنگ کی بکریاں آئی ہیں اور خاکستری رنگ کی بکریاں آئی ہیں پھر ابوبکر آیا اس نے ایک یا دو ڈول نکالے اس کے نکالنے میں کمزوری تھی اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے پھر عمر آیا اس نے پانی نکالنا شروع کیا ، تو وہ ڈول بڑا ڈول بن گیا اس نے حوض کو بھر دیا اور آنے والوں کو سیراب کر دیا میں نے اس جیسا طاقتور شخص نہیں دیکھا جس نے عمر سے زیادہ اچھے طریقے سے پانی نکالا ہو تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں اور خاکستری بکریوں سے مراد عجمی ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے جس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8927
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8928
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : بُعِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فَمَلَأَهَا قِسْطًا وَعَدْلًا ، ثُمَّ ظَعَنَ بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، فَظَعَنَ بِهِمْ ظَعْنَةً رَغِيبَةً ، ثُمَّ ظَعَنَ بِهِمْ عَمَرُ فَظَعَنَ بِهِمْ ظَعْنَةً رَغِيبَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ حُذَيْفَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیرہ عرب کی طرف بھیجا گیا تھا ، آپ نے اسے عدل و انصاف سے بھر دیا ۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کو لے کر چلے ، اور اچھے طریقے سے لے کر چلے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کو لے کر چلے ، اور اچھے طریقے سے لے کر چلے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن حذیفہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8928
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8929
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ قَيْسِ بْنِ عِيسَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِذَا اعْتَلَلْتَ قَدَّمْتَ أَبَا بَكْرٍ ؟ فَقَالَ : " لَسْتُ أَنَا الَّذِي قَدَّمْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ الَّذِي قَدَّمَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن یحیی بن قیس بن عیسیٰ ، اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب آپ بیمار ہوئے ، تو آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اسے آگے نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے آگے کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8929
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8930
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ائْتُونِي بِدَوَاةٍ وَكَتِفٍ أَكْتُبُ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّونَ بَعْدَهُ أَبَدًا " . ثُمَّ وَلَّانَا قَفَاهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " يَأْبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پاس دوات اور ( جانور کے ) کندھے کی ( ہڈی ) لے کے آؤ تاکہ میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے راوی کہتے ہیں : پھر ہم نے آپ کو کروٹ دلائی پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے ، اور آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اہل ایمان صرف ابوبکر کو ہی مانیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8931
وَعَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ نِسَاؤُهُ فَاسْتَتَرْنَ مِنِّي إِلَّا مَيْمُونَةَ ، فَقَالَ : " لَا يَبْقَى أَحَدٌ [ فِي الْبَيْتِ ] شَهِدَ اللَّدَّ إِلَّا لُدَّ إِلَّا أَنَّ يَمِينِي لَمْ تُصِبِ الْعَبَّاسَ " . ثُمَّ قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ " فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِحَفْصَةَ : قُولِي لَهُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ إِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمَقَامَ بَكَى ، قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ " فَقَامَ فَصَلَّى فَوَجَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفْسِهِ خِفَّةً فَجَاءَ ، فَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ فَأَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ اقْتَرَأَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَأَبُو يَعْلَى أَتَمُّ مِنْهُمْ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ کے پاس آپ کی ازواج موجود تھیں ان سب نے مجھ سے پردہ لیا صرف میمونہ رضی اللہ عنہا نے نہیں کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا گھر میں موجود ہر وہ شخص جو ( مجھے ) دوائی پلانے کے وقت موجود تھا اسے بھی دوائی پلائی جائے البتہ اس حکم میں سیدنا عباس شامل نہیں ہوں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ گزارش کرو کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد ہیں کہ جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے ، تو رونے لگیں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے نماز پڑھانی شروع کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طبیعت میں بہتری محسوس ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پہلو میں تشریف فرما ہوئے ، اور پھر آپ نے تلاوت کی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے ان کے مقابلے میں زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8931
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1566) اخرجه أبو يعلى فى المسند (6704) اخرجه احمد فى المسند (1785)»
حدیث نمبر: 8932
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كَانَ كَوْنٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ ، ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَفَ أَبِي بَكْرٍ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کے درمیان جھگڑا ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے ، جب آپ واپس آئے ، تو نماز کھڑی ہو چکی تھی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی “ ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر بن نجیح ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8932
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5816)»
حدیث نمبر: 8933
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَضَهُ الَّذِي تُوفِّيَ فِيهِ ، أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ بَعْدَ مَرَّتَيْنِ : " يَا بِلَالُ قَدْ بَلَّغْتَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ " فَرَجَعَ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ : [ يَا رَسُولَ اللَّهِ ] بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَنْ يُصَلِّي ؟ قَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ . [ فَلَمَّا أَنْ تَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ ، رُفِعَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّتُورُ ، قَالَ : فَنَظَرْنَا إِلَيْهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةٌ بَيْضَاءُ ، عَلَى خَمِيصَةٍ ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ ، وَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُروُجَ ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ ، فَمَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ ] " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الزُّهْرِيِّ ، وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلاء ہوئے جس میں آپ کا وصال ہو گیا تھا تو اسی دوران سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو بلانے کے لئے آئے دو مرتبہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بلال ! تم نے دو مرتبہ تبلیغ کر دی ہے جو شخص چاہے وہ نماز ادا کر لے اور جو شخص چاہے وہ ترک کر دے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پھر آپ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نماز کون پڑھائے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے پردہ ہٹایا گیا راوی کہتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کا چہرہ مبارک ) سفید چاندی کی طرح محسوس ہو رہا تھا آپ کے جسم پر چادر موجود تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے ۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ تشریف لانے لگے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ کھڑے رہیں اور نماز پڑھائیں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اس کے بعد ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے ، اور وہ زہری کے بارے میں ضعیف ہے ، اور یہ حدیث ان روایات میں سے جو اس نے زہری کے حوالے سے نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8933
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (202/3)»
حدیث نمبر: 8934
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي رَجُلٌ رَقِيقٌ . فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُاتُ يُوسُفَ " . فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے آپ نے ارشاد فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد ایک نرم دل شخص ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے تم سیدنا یوسف علیہ السلام والی خواتین کی طرح ہو پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ تھے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8934
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (361/5)»
حدیث نمبر: 8935
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ - قَالَ : أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ : " حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : إِنْ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ . ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ : " هَلْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ . ¤ ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ فَقَالَ : " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ؟ " قُلْنَا : نَعَمْ . قَالَ : " ائْتُونِي بِإِنْسَانٍ أَعْتَمِدُ عَلَيْهِ " . فَجَاءَهُ بُرَيْدَةُ وَإِنْسَانٌ آخَرُ ، فَاعْتَمَدَ عَلَيْهِمَا فَأَتَى الْمَسْجِدَ فَدَخْلَهُ وَأَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُصَلِّي بِالنَّاسِ ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَنَحَّى فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُجْلِسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صِلَاتِهِ ، فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ : لَا أَسْمَعُ أَحَدًا يَقُولُ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا ضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ . ¤ فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِذِرَاعِي فَاعْتَمَدَ عَلَيَّ ، وَقَامَ يَمْشِي حَتَّى جِئْنَا فَقَالَ : أَوْسِعُوا فَأَوْسَعُوا لَهُ ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ وَمَسَّهُ قَالَ : إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ . قَالُوا : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ ، قَالُوا : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . [ قَالُوا : كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ ؟ قَالَ ] يَدْخُلُ قَوْمٌ فَيُكَبِّرُونَ وَيَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ وَيَجِئُ آخَرُونَ حَتَّى يَفْرُغُوا . ¤ قَالُوا : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُدْفَنُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالُوا : وَأَيْنَ يُدْفَنُ ؟ قَالَ : حَيْثُ قُبِضَ فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَمْ يَقْبِضْهُ إِلَّا فِي بُقْعَةٍ طَيِّبَةٍ ، فَعَلِمُوا أَنَّهُ كَمَا قَالَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ : عِنْدَكُمْ صَاحِبُكُمْ ، فَأَمَرَهُمْ يُغَسِّلُونَهُ ثُمَّ خَرَجَ ، وَاجْتَمَعَ الْمُهَاجِرُونَ يَتَشَاوَرُونَ ، فَقَالُوا : انْطَلِقُوا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَإِنَّ لَهُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا فَانْطَلَقُوا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : مِنَّا أَمِيرٌ ، وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ، فَأَخَذَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : أَخْبِرُونِي مِنْ لَهُ هَذِهِ الثَّلَاثُ ؟ ثَانِي اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ ) [ مَنْ هُمَا ؟ ] ( إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ ) مَنْ صَاحِبُهُ ؟ ( إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ) ، فَأَخَذَ بِيَدِ أَبِي بَكْرٍ فَضَرَبَ عَلَيْهَا ، وَقَالَ لِلنَّاسِ : بَايِعُوهُ فَبَايَعُوهُ بَيْعَةً حَسَنَةً جَمِيلَةً . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سالم بن عبید رضی اللہ عنہ جو اصحاب صفہ میں سے ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی آپ کو ہوش آیا تو آپ نے دریافت کیا : نماز کا وقت ہو گیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میرے والد ایک نرم دل شخص ہیں اگر آپ ان کی بجائے کسی اور کو نماز پڑھانے کی ہدایت کریں ، تو یہ مناسب ہو گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوئی ، جب آپ کو ہوش آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے میں نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میرے والد ایک نرم دل شخص ہیں اگر آپ ان کی بجائے کسی اور کو نماز پڑھانے کا حکم دیدیں ، تو یہ مناسب ہو گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا نماز قائم ہو چکی ہے ہم نے عرض کی : جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس کسی شخص کو لے کے آؤ جس سے میں ٹیک لگاؤں سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اور ایک شخص آپ کے پاس آئے ، تو آپ نے ان دونوں پر ٹیک لگائی اور آپ مسجد میں تشریف لے آئے ، جب آپ مسجد میں داخل ہوئے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کر دیا آپ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: میں کسی شخص کو یہ کہتے ہوئے نہ سنوں کہ اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے اگر میں نے کسی کو سنا تو اسے تلوار مار دوں گا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میری کلائی پکڑ کر آئے انہوں نے میرے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی وہ چلتے ہوئے آئے انہوں نے کہا: تم لوگ گنجائش کرو تم لوگ ان کے لئے گنجائش کرو پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے آپ کو چھوا اور بولے : آپ کا وصال ہو گیا ہے ، اور لوگ بھی مر جائیں گے لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول کے ساتھی ! کیا اللہ کے رسول کا انتقال ہو گیا ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ، تو لوگوں کو پتہ چل گیا کہ جیسے یہ کہہ رہے ہیں ویسا ہی ہے لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول کے ساتھی ! کیا ہم اللہ کے رسول کی نماز جنازہ ادا کریں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! لوگوں نے کہا: ہم آپ کی نماز جنازہ کیسے ادا کریں ؟ انہوں نے فرمایا : کچھ لوگ اندر آئیں وہ تکبیر کہیں دعا کریں اور درود پڑھیں وہ باہر چلے جائیں یہاں تک کہ سب لوگ فارغ ہو جائیں لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول کے ساتھی ! کیا اللہ کے رسول کو دفن کیا جائے گا ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں لوگوں نے دریافت کیا : انہیں کہاں دفن کیا جائے گا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا اسی جگہ جہاں ان کا انتقال ہوا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پاکیزہ جگہ پر ہی وفات دی ہے ، تو لوگوں کو یہ پتہ چل گیا کہ ویسا ہی ہو گا جیسے انہوں نے بیان کیا ہے پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور انہوں نے کہا: تمہارے آقا تمہارے پاس ہیں پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیں وہ چلے گئے مہاجرین مشورہ کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ان لوگوں نے کہا: تم لوگ ہمارے ساتھ انصاری بھائیوں کی طرف چلو کیونکہ اس معاملہ میں ان کا بھی حصہ ہو گا وہ لوگ گئے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: ایک امیر ہم میں سے ہو گا ، اور ایک امیر تم میں سے ہو گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر کا ہاتھ پکڑا اور بولے : تم لوگ مجھے بتاؤ کہ کس شخص میں یہ تین خصوصیات ہیں وہ دو افراد میں سے ایک ہو کہ جب وہ دونوں غار میں تھے ، تو وہ دونوں کون تھے جس نے اپنے ساتھی سے کہا: تم غمگین نہ ہو تو وہ ساتھی کون تھا ( اور یہ بھی فرمایا : ) بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ انہوں نے پکڑا اور لوگوں سے فرمایا ان کی بیعت کرو تو لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمدہ طریقے سے بیعت کر لی ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8935
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6367)»
حدیث نمبر: 8936
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتِ الْأَنْصَارُ : مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ ، فَأَتَاهُمْ عُمَرُ فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ بِالنَّاسِ ، فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ ؟ قَالُوا : نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النُّجُودِ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو انصار نے کہا: ایک امیر ہم میں سے ہو گا ، اور ایک امیر تم میں سے ہو گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ، اور بولے : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کی امامت کریں ، تو تم میں سے کون اس بات سے خوش ہو گا کہ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھ جائے ؟ ان لوگوں نے کہا: ہم اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8936
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (3765)»
حدیث نمبر: 8937
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِأَبِي عُبَيْدَةَ : ابْسُطْ يَدَكَ حَتَّى أُبَايِعَكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَنْتَ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَا كُنْتُ لِأَتَقَدَّمَ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَؤُمَّنَا فَأَمَّنَا حَتَّى مَاتَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
ابوبختری بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں تاکہ میں آپ کی بیعت کر لوں کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ اس امت کا امین ہے “ ۔ تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھوں گا جسے اللہ کے رسول نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ ہماری امامت کرے اور وہ اللہ کے رسول کے وصال تک ہماری امامت کرتا رہا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابوبختری نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8937
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (233)»
حدیث نمبر: 8938
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ خُطَبَاءُ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا : يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا بَعَثَ رَجُلًا مِنْكُمْ قَرَنَهُ بِرَجُلٍ مِنَّا ، فَنَحْنُ نَرَى أَنْ يَلِيَ هَذَا الْأَمْرَ رَجُلَانِ رَجُلٌ مِنَّا وَرَجُلٌ مِنْكُمْ ، فَقَامَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَكُنَّا أَنْصَارَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَحْنُ أَنْصَارُ مَنْ يَقُومُ مَقَامَهُ . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ حَيٍّ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ وَثَبَّتَ قَائِلَكُمْ ، وَاللَّهِ لَوْ قُلْتُمْ غَيْرَ ذَلِكَ مَا صَالَحْنَاكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو انصار کے خطیب کھڑے ہوئے اور بولے : اے مہاجرین کے گروہ ! اللہ کے رسول جب بھی تم میں سے کسی شخص کو کہیں بھیجتے تھے ، تو اس کے ساتھ ہم میں سے کسی شخص کو بھی بھیجتے تھے ، تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کے نگران دو آدمی بنیں گے ایک فرد ہم میں سے ہو گا ، اور ایک فرد تم میں سے ہو گا ، تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اور بولے : بے شک اللہ کے رسول کا تعلق مہاجرین سے تھا ، اور ہم اللہ کے رسول کے مددگار ہیں ، تو جو شخص آپ کا قائم مقام ہو گا ، تو ہم اس کے بھی مددگار ہوں گے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے اور تمہارے کہنے والے کو ثابت قدم رکھے اللہ کی قسم ! اگر تم اس کے علاوہ کوئی اور بات کہتے تو ہم نے تمہارے ساتھ مصالحت نہیں کرنی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8938
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4785) اخرجه احمد فى المسند (1855)»
حدیث نمبر: 8939
وَعَنْ عِيسَى بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ : قَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ الْغَدَ - حِينَ بُويِعَ - فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ أَقَلْتُكُمْ رَأْيَكُمْ ، إِنِّي لَسْتُ بِخَيْرِكُمْ فَبَايِعُوا خَيْرَكُمْ ، فَقَامُوا إِلَيْهِ فَقَالُوا : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْتَ وَاللَّهِ خَيْرُنَا . فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ طَوْعًا وَكَرْهًا ، فَهُمْ عُوَّادُ اللَّهِ وَجِيرَانُ اللَّهِ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِنْ ذِمَّتِهِ فَافْعَلُوا ، إِنَّ لِي شَيْطَانًا يَحْضُرُنِي فَإِذَا رَأَيْتُمُونِي فَأَجِيبُونِي ، لَا أُمَثِّلُ بِأَشْعَارِكُمْ وَأَبْشَارِكُمْ ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَفَقَّدُوا ضَرَائِبَ عُلَمَائِكُمْ ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلَحْمٍ نَبَتَ مَنْ سُحْتٍ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، أَلَا وَرَاعُونِي بِأَنْصَارِكُمْ ، فَإِنِ اسْتَقَمْتُ فَاتَّبِعُونِي وَإِنْ زُغْتُ فَقَوِّمُونِي ، وَإِنْ أَطَعْتُ اللَّهَ فَأَطِيعُونِي ، وَإِنْ عَصَيْتُ اللَّهَ فَاعْصُونِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَعِيسَى بْنُ عَطِيَّةَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
عیسیٰ بن عطیہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی گئی ، تو اس کے اگلے دن وہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تمہاری رائے تمہیں واپس کر دیتا ہوں میں تم میں سے سب سے بہتر نہیں ہوں تم اپنے میں سے سب سے بہتر شخص کی بیعت کر لو تو لوگ ان کے سامنے ہو گئے ، اور بولے : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! اللہ کی قسم ! آپ ہم میں سب سے بہتر ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! دوسرے لوگ اسلام میں رضامندی کے ساتھ یا زبردستی داخل ہو گئے ہیں ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے مہمان اور اس کے پڑوسی ہیں اگر تم سے ہو سکے ، تو تم اس چیز کا دھیان رکھنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ کے حوالے سے تم سے کوئی حساب نہ لے ، میرے ساتھ ایک شیطان ہوتا ہے جو میرے پاس آ جاتا ہے ، جب تم مجھے دیکھو تو مجھے جواب دو میں تمہارے ساتھ صرف باتیں نہیں بناؤں گا ، اے لوگو ! اپنے علماء ( یا شاید عمال ، یعنی ریاستی اہل کاروں ) کی کوتاہیوں کا خیال رکھو ، کیونکہ جس گوشت کی نشو و نما حرام پر ہوئی ہو ، اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں جائے ، خبردار ! تم اپنے مددگاروں کے ذریعے میری دیکھ بھال کرنا اگر میں ٹھیک رہوں ، تو تم میری پیروی کرنا اور اگر میں بھٹک جاؤں ، تو مجھے سیدھا کر دینا اگر میں اللہ کی اطاعت کروں ، تو تم میری اطاعت کرنا اور اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں ، تو تم میری نافرمانی کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سلیمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور ایک راوی عیسیٰ بن عطیہ ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8939
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8940
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ وَفَاتِهِ بِشَهْرٍ - قَالَ : فَذَكَرَ قِصَّةً - فَنُودِيَ فِي النَّاسِ : إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ وَهِيَ أَوَّلُ صَلَاةٍ فِي الْمُسْلِمِينَ نُودِيَ فِي النَّاسِ أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ - شَيْئًا صُنِعَ لَهُ كَانَ يَخْطُبُ عَلَيْهِ ، وَهِيَ أَوَّلُ خُطْبَةٍ فِي الْإِسْلَامِ - قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ وَلَوَدِدْتُ أَنَّ هَذَا كَفَانِيهِ غَيْرِي ، وَلَئِنْ أَخَذْتُمُونِي بِسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ مَا أُطِيقُهَا إِنْ كَانَ لَمَعْصُومًا مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَإِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ . . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو اللہ کے رسول کے خلیفہ تھے ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے ایک ماہ بعد کی بات ہے اس کے بعد راوی نے پورا واقعہ ذکر کیا ہے جس میں یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان اعلان کیا گیا نماز اکٹھا کرنے والی ہے یہ مسلمانوں میں پہلی نماز تھی جس کے لئے لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ نماز اکٹھا کرنے والی ہے لوگ اکٹھے ہو گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے وہ ایک ایسی چیز تھی ، جو ان کے لئے تیار کی گئی تھی جس پر وہ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے یہ اسلام میں پہلا خطبہ تھا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میری یہ خواہش ہے کہ یہ کام میری بجائے کوئی اور کر لے اگر تم اپنے نبی کی سنت کے حوالے سے میری گرفت کرتے ہو تو میں اس کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شیطان سے محفوظ تھے پھر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آسمان سے وحی بھی نازل ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8940
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (80)»
حدیث نمبر: 8941
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ : يَا خَلِيفَةَ اللَّهِ . قَالَ : أَنَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا رَاضٍ بِهِ [ وَأَنا رَاضٍ بِهِ ، وَأَنَا رَاضٍ بِهِ ] . . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكِ الصِّدِّيقَ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : اے اللہ کے خلیفہ ! تو انہوں نے فرمایا : میں اللہ کے رسول کا خلیفہ ہوں ، اور میں اس بات سے راضی ہوں میں اس بات سے راضی ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ابن ابوملیکہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8941
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (59)»
حدیث نمبر: 8942
وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ وَبِيَدِهِ عَسِيبُ نَخْلٍ وَهُوَ [ يُجْلِسُ النَّاسَ ] يَقُولُ : اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِخَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ مَوْلًى لِأَبِي بَكْرٍ - يُقَالُ لَهُ : سَدِيدٌ - بِصَحِيفَةٍ فَقَرَأَهَا عَلَى النَّاسِ قَالَ : يَقُولُ أَبُو بَكْرٍ : اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِمَنْ فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فَوَاللَّهِ مَا أَلَوْتُكُمْ ، قَالَ قَيْسٌ : فَرَأَيْتُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى الْمِنْبَرِ . . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کے ہاتھ میں کھجور کی شاخ تھی اور وہ لوگوں کو بٹھا رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول کے خلیفہ کی بات سنو اور فرمانبرداری کرو ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا غلام آیا جس کا نام سدید تھا وہ ایک صحیفہ لے کے آیا وہ اس نے لوگوں کے سامنے پڑھا اور کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں : اس صحیفے میں جس کا نام مذکور ہے تم نے اس کی بات سننی ہے ، اور اطاعت کرنی ہے اللہ کی قسم ! میں نے تم لوگوں کے بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ، قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : اس کے بعد میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8942
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (259)»
حدیث نمبر: 8943
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا " . قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ؟ فَسَكَتَ ثُمَّ قَالَ : " لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مَنْ يُحَدِّثُنَا " . قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَبْعَثُ إِلَى عُمَرَ ؟ فَسَكَتَ قَالَتْ : ثُمَّ دَعَا وَصِيفًا بَيْنَ يَدَيْهِ فَسَارَّهُ فَذَهَبَ ، قَالَتْ : فَإِذَا عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ، فَنَاجَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَوِيلًا ثُمَّ قَالَ " " يَا عُثْمَانُ إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا ، فَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ وَلَا كَرَامَةَ " يَقُولُهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! کاش ہمارے پاس کوئی ایسا فرد ہوتا جو ہمارے ساتھ بات چیت کرتا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجوا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کاش ہمارے پاس کوئی فرد ہوتا جو ہمارے ساتھ بات چیت کرتا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام نہ بھیجوا دوں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملازم کو بلوایا اور اس کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات چیت کی وہ چلا گیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی وہ اندر آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاصی دیر تک پست آواز میں ان کے ساتھ بات چیت کی پھر آپ نے فرمایا : اے عثمان ! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا منافقین اسے اتروانے کا ارادہ کریں گے ، تو تم اسے نہ اتارنا اس میں کوئی کرامت نہیں ہے یہ بات آپ نے دو مرتبہ یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی
۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرج بن فضالہ ہے جس کی ، توثیق کی گئی ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8943
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (75/6)»
حدیث نمبر: 8944
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ لِلسِّتَّةِ الَّذِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ قَالَ : بَايِعُوا لِمَنْ بَايَعَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَإِنْ أَبَى فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ . . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَزَيْدٌ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ ، وَوَلَدُهُ عَبْدُ اللَّهِ وَثَّقَهُ مَعْنُ بْنُ عِيسَى وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان چھ افراد کے بارے میں یہ فرمایا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تھے ، تو آپ ان سے راضی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ جس کی بیعت کر لے تم اس کی بیعت کر لینا اگر کوئی انکار کرے ، تو اس کی گردن اڑا دینا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ زید نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس کے بیٹے عبداللہ کو معن بن عیسیٰ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8944
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 8945
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : كَيْفَ بَايَعْتُمْ عُثْمَانَ وَتَرَكْتُمْ عَلِيًّا ؟ قَالَ : مَا ذَنْبِي ؟ قَدْ بَدَأْتُ بِعَلِيٍّ فَقُلْتُ : أُبَايِعُكَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ وَسِيرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : فِيمَا اسْتَطَعْتُ ؟ قَالَ : ثُمَّ عَرَضْتُهَا عَلَى عُثْمَانَ فَقَبِلَهَا . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں نے کیسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا ؟ انہوں نے فرمایا : میرا کیا قصور ہے ؟ میں نے علی سے آغاز کیا اور میں نے کہا: میں آپ کی اس شرط پر بیعت کروں گا کہ آپ اللہ کی کتاب اس کے رسول کی سنت اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے پر عمل پیرا رہیں گے ، تو انہوں نے کہا: جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا ( میں عمل کروں گا ) سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر میں نے اسی بات کی پیشکش سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کی ، تو انہوں نے اسے قبول کر لیا ( یعنی یہ کہا: میں ایسا ہی کروں گا ) ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8945
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 8946
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ - وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي مَرَضٍ أَصَابَهُ ثَقُلَ مِنْهُ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : مَا يُقِيمُكَ بِمَنْزِلِكَ هَذَا ؟ لَوْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ لَمْ تَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ ، تُحْمَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَإِنْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ وَصَلَّوْا عَلَيْكَ ، قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَيَّ أَنِّي : " لَا أَمُوتُ حَتَّى أُؤَمَّرَ ، ثُمَّ تُخْضَبَ هَذِهِ - يَعْنِي لِحْيَتَهُ - مِنْ هَذِهِ - يَعْنِي هَامَتَهُ - " فَقُتِلَ وَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ مَعَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ [ يَوْمَ صِفِّينَ ] . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
فضالہ بن ابوفضالہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ کا شمار اہل بدر میں ہوتا ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد ( سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گیا یہ ان کی اس بیماری کے دوران کی بات ہے جو شدید ہو چکی تھی میرے والد نے ان سے کہا: اس جگہ پر آپ کی دیکھ بھال کون کرے گا ، اگر آپ کا انتقال ہو گیا تو جہینہ قبیلے کے بدوہی آپ کی دیکھ بھال کریں گے وہ آپ کو اٹھا کر مدینہ منورہ لے جائیں گے لیکن اگر آپ کا وصال مدینہ میں ہوا تو آپ کے ساتھی آپ کی دیکھ بھال کریں گے اور آپ کی نماز جنازہ ادا کریں گے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد لیا تھا کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا ، جب تک میں امیر نہیں بن جاتا اور پھر اس کو ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی داڑھی کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ) اس سے ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی یعنی میری داڑھی کو میرے سر کے خون سے ) رنگین کر دیا جائے گا ( راوی کہتے ہیں : ) ( بعد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے ، اور سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ بھی جنگ صفین کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ۔ یہ راوی حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8946
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (802)»