حدیث نمبر: 8899
عَنْ مَوْلًى لِعَائِشَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُودُ بِهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا سَمِعَتْ صَوْتَ الْجَرَسِ أَمَامَهَا قَالَتْ : قِفْ بِي ، فَيَقِفُ حَتَّى لَا تَسْمَعَهُ ، وَإِذَا سَمِعَتْهُ وَرَاءَهَا قَالَتْ : أَسْرِعْ بِي حَتَّى لَا أَسْمَعَهُ ، قَالَتْ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لَهُ تَابِعًا مِنَ الْجِنِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَمَوْلَى عَائِشَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے غلام جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کو لے کر چلا کرتے تھے وہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آگے گھنٹی کی آواز سنتی تھیں ، تو فرماتی تھیں : ٹھہر جاؤ ! اور وہ اس وقت تک ٹھہری رہتی تھیں جب تک وہ آواز سنائی دینا بند نہیں ہو جاتی تھی اور جب وہ اپنے پیچھے آواز سنتی تھی ، تو کہتی تھیں : مجھے تیزی سے لے کے چلو ! یہاں تک کہ میں اس کی آواز نہ سنوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ( یعنی گھنٹی ) کے پیچھے تابع کے طور پر ایک جن ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 8900
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِالْأَجْرَاسِ أَنْ تُقْطَعَ مِنْ أَعْنَاقِ الْإِبِلِ يَوْمَ بَدْرٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں غزوہ بدر کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ اونٹوں کی گردنوں میں موجود گھنٹیوں کو کاٹ دیا جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8901
وَعَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى - وَقَالَ بَعْضُهُمْ : حُوَيْطٌ وَالصَّحِيحُ حُوَيْطِبٌ - أَنَّهُ رَأَى رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حويطب بن عبدالعزی رضی اللہ عنہ ، بعض حضرات نے ان کا نام حویط نقل کیا ہے ، لیکن صحیح لفظ حویطب ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے کچھ سواروں کو دیکھا جن میں گھنٹی موجود تھی ، تو یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” فرشتے ایسے سواروں کے ساتھ نہیں رہتے جن میں گھنٹی موجود ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8902
وَعَنْ حَوْطِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِقَطْعِ الْجَرَسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حوط بن عبدالعزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کاٹ دینے کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8903
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا بِالْأَجْرَاسِ أَنْ تُقْطَعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ کے دوران گھنٹیوں کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ انہیں کاٹ دیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8904
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعَ صَوْتَ جَرَسٍ فَقَالَ : " الْمَلَائِكَةُ لَا تَتْبَعُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹی کی آواز سنی ، تو ارشاد فرمایا : فرشتے ایسے سواروں کے ساتھ نہیں جاتے جن میں گھنٹی موجود ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن میمون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8905
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقْرَبُ الْمَلَائِكَةُ عِيرًا فِيهَا جَرَسٌ ، وَلَا بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ راویت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” فرشتے ایسے قافلے کے قریب نہیں جاتے جس میں گھنٹی موجود ہو اور اپنے گھر کے قریب نہیں جاتے جس میں گھنٹی موجود ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8906
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِقَطْعِ الْأَجْرَاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ الْمُسْلِمِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عُمَرَ فِي بَابِ التَّمَاثِيلِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھنٹیوں کو کاٹ دینے کا حکم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن مسلم ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” تماثیل “ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن مسلم ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” تماثیل “ سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔