حدیث نمبر: 8950
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ عُمَرُ : أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ " . وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” تم میں سے ایک فرد ایسا ہے جو قرآن کی تفسیر کے حوالے سے جنگ کرے گا جس طرح میں نے اس کے نزول کے حوالے سے جنگ کی ہے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میں ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میں ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وہ جوتوں کو گانٹھنے والا ہو گا راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جوتے دیے تھے اور وہ انہیں گانٹھ رہے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8950
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1086) اخرجه احمد فى المسند (33/3)»