عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ لِي أَخًا وَبِهِ وَجَعٌ ، قَالَ : " وَمَا وَجَعُهُ ؟ " قَالَ : بِهِ لَمَمٌ . قَالَ : " فَأْتِنِي بِهِ " قَالَ : فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَعَوَّذَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ ( وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ ) ، وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ ، وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ : ( شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ) ، وَآيَةٍ مِنَ الْأَعْرَافِ : ( إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ ) ، وَآخَرِ آيَةِ الْمُؤْمِنِينَ : ( فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ) ، وَآيَةٍ مِنْ سُورَةِ الْجِنِّ : ( وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا ) ، وَعَشْرِ آيَاتٍ مَنْ أَوَّلِ سُورَةِ الصَّافَّاتِ ، وَثَلَاثِ آيَاتٍ مَنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْحَشْرِ ، ( وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ . فَقَامَ الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَشْتَكِ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ; لِكَثْرَةِ تَدْلِيسِهِ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، ایک دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرا ایک بھائی ہے ، جسے تکلیف لاحق ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اسے کیا تکلیف ہے ؟ اس نے عرض کی : اسے جنون ( یا مرگی ) ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے میرے پاس لے آؤ ! سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس نے آپ کے سامنے اس کو بٹھایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دم کیا ، آپ نے سورۂ فاتحہ پڑھی ، سورہ بقرہ کی ابتدائی چار آیات پڑھیں اور یہ آیت پڑھی : ” اور تمہارا معبود ایک معبود ہے ، اور آیت الکرسی اور سورہ بقرہ کی آخری تین آیات پڑھیں ، اور سورہ آل عمران کی یہ آیت پڑھی : ” اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتا ہے اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔ سورہ اعراف کی یہ آیت پڑھی : ” بے شک تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے “ ۔ سورہ مومنون کی یہ آخری آیات پڑھیں : ” تو اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے ، جو بادشاہ ہے ، اور حق ہے “ ۔ سورہ جن کی یہ آیت پڑھی : ” بے شک وہ بلند و برتر ہے ، وہ ہمارا پروردگار بزرگی والا ہے “ ۔ سورہ صافات کی ابتدائی دس آیات پڑھیں ، سورہ حشر کی ابتدائی تین آیات پڑھیں ، سورۂ اخلاص اور معوذتین ( یہ سب آیات پڑھ کر اس کو دم کیا ) تو وہ شخص یوں کھڑا ہو گیا ، جسے اسے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، کیونکہ وہ بکثرت تدلیس کرتا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، کیونکہ وہ بکثرت تدلیس کرتا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ أَخِي وَجِعَ ، قَالَ : " مَا وَجَعُ أَخِيكَ ؟ " قَالَ : بِهِ لَمَمٌ ، قَالَ : " فَابْعَثْ إِلَيَّ بِهِ " قَالَ : فَجَاءَهُ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ : فَقَرَأَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَأَرْبَعَ آيَاتٍ مَنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةً مِنْ وَسَطِهَا : ( وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ) حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الصَّفِّ وَلَمْ يَقِلْ : مِنْ أَوَّلِهَا . وَقَالَ : وَثَلَاثُ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ ، وَأَبُو جَنَابٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ لِتَدْلِيسِهِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلی ایک شخص کے حوالے سے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میرے بھائی کو تکلیف ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اسے کیا تکلیف ہے ؟ اس نے عرض کی : اسے جنون ( یا مرگی ) ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میری طرف بھیجواؤ ! جب وہ شخص آپ کے پاس آیا تو وہ شخص آپ کے پاس بیٹھ گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورۃ فاتحہ ، سورہ بقرہ کی ابتدائی چار آیات ، اور اس کے درمیان میں سے ایک یہ آیت : ” اور تمہارا معبود ، ایک معبود ہے اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے ، اور وہ بہت مہربان نہایت رحم والا ہے ، بے شک آسان اور زمین کی تخلیق میں ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہاں تک کہ آپ نے اس آیت کو مکمل پڑھا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے تاہم اس روایت میں انہوں نے ” سورہ صف “ کی دس آیات کا ذکر کیا ہے ، یہ نہیں کہا: ” اس کی ابتدائی دس آیات “ اور یہ کہا: ہے : ” سورہ حشر کی آخری تین آیات پڑھیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابوجناب ہے جو اپنی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابوجناب ہے جو اپنی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَرَأَ فِي أُذُنِ مُبْتَلًى ، فَأَفَاقَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا قَرَأْتَ فِي أُذُنِهِ ؟ " قَالَ : قَرَأَتُ : ( أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا ) ، حَتَّى فَرَغَ آخِرُ السُّورَةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا مُوقِنًا قَرَأَ بِهَا عَلَى جَبَلٍ لَزَالَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَفِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ أَحَادِيثُ فِي الْعَافِيَةِ مِنَ الْجِنِّ مِنْ غَيْرِ رُقْيَةٍ بِبَرَكَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤
محمد محی الدین
حنش صنعانی نے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : انہوں نے ایک بیہوش شخص کے کان میں تلاوت کی ، تو اسے ہوش آ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم نے اس کے کان میں کیا پڑھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : میں نے یہ پڑھا ہے : ” کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں عبث پیدا کیا ہے ؟ “ ۔ اسے سورت کے آخر تک پڑھا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کوئی شخص یقین رکھتے ہوئے ، اسے کسی پہاڑ پر پڑھ دے ، تو وہ اپنی جگہ سے ہل جائے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ” نبوت کی علامات “ سے متعلق باب میں ، ایسی احادیث آئیں گی ، جن میں یہ ذکر ہو گا کہ کسی دم کے بغیر ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی وجہ سے ، جنون سے عافیت نصیب ہو گئی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ” نبوت کی علامات “ سے متعلق باب میں ، ایسی احادیث آئیں گی ، جن میں یہ ذکر ہو گا کہ کسی دم کے بغیر ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی وجہ سے ، جنون سے عافیت نصیب ہو گئی ۔