حدیث نمبر: 8467
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ لِي أَخًا وَبِهِ وَجَعٌ ، قَالَ : " وَمَا وَجَعُهُ ؟ " قَالَ : بِهِ لَمَمٌ . قَالَ : " فَأْتِنِي بِهِ " قَالَ : فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَعَوَّذَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ ( وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ ) ، وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ ، وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ : ( شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ) ، وَآيَةٍ مِنَ الْأَعْرَافِ : ( إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ ) ، وَآخَرِ آيَةِ الْمُؤْمِنِينَ : ( فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ) ، وَآيَةٍ مِنْ سُورَةِ الْجِنِّ : ( وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا ) ، وَعَشْرِ آيَاتٍ مَنْ أَوَّلِ سُورَةِ الصَّافَّاتِ ، وَثَلَاثِ آيَاتٍ مَنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْحَشْرِ ، ( وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ . فَقَامَ الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَشْتَكِ قَطُّ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَفِيهِ أَبُو جَنَابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ; لِكَثْرَةِ تَدْلِيسِهِ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، ایک دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرا ایک بھائی ہے ، جسے تکلیف لاحق ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اسے کیا تکلیف ہے ؟ اس نے عرض کی : اسے جنون ( یا مرگی ) ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے میرے پاس لے آؤ ! سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس نے آپ کے سامنے اس کو بٹھایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دم کیا ، آپ نے سورۂ فاتحہ پڑھی ، سورہ بقرہ کی ابتدائی چار آیات پڑھیں اور یہ آیت پڑھی : ” اور تمہارا معبود ایک معبود ہے ، اور آیت الکرسی اور سورہ بقرہ کی آخری تین آیات پڑھیں ، اور سورہ آل عمران کی یہ آیت پڑھی : ” اللہ تعالیٰ یہ گواہی دیتا ہے اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔ سورہ اعراف کی یہ آیت پڑھی : ” بے شک تمہارا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے “ ۔ سورہ مومنون کی یہ آخری آیات پڑھیں : ” تو اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے ، جو بادشاہ ہے ، اور حق ہے “ ۔ سورہ جن کی یہ آیت پڑھی : ” بے شک وہ بلند و برتر ہے ، وہ ہمارا پروردگار بزرگی والا ہے “ ۔ سورہ صافات کی ابتدائی دس آیات پڑھیں ، سورہ حشر کی ابتدائی تین آیات پڑھیں ، سورۂ اخلاص اور معوذتین ( یہ سب آیات پڑھ کر اس کو دم کیا ) تو وہ شخص یوں کھڑا ہو گیا ، جسے اسے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجناب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، کیونکہ وہ بکثرت تدلیس کرتا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8467
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (128/5)»