مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ رُقْيَةِ الْجُنُونِ . باب: جنون کا دم
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ أَخِي وَجِعَ ، قَالَ : " مَا وَجَعُ أَخِيكَ ؟ " قَالَ : بِهِ لَمَمٌ ، قَالَ : " فَابْعَثْ إِلَيَّ بِهِ " قَالَ : فَجَاءَهُ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ : فَقَرَأَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَأَرْبَعَ آيَاتٍ مَنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةً مِنْ وَسَطِهَا : ( وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ) حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ وَقَالَ : عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ سُورَةِ الصَّفِّ وَلَمْ يَقِلْ : مِنْ أَوَّلِهَا . وَقَالَ : وَثَلَاثُ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ ، وَأَبُو جَنَابٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ لِتَدْلِيسِهِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤عبدالرحمن بن ابولیلی ایک شخص کے حوالے سے ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میرے بھائی کو تکلیف ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اسے کیا تکلیف ہے ؟ اس نے عرض کی : اسے جنون ( یا مرگی ) ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے میری طرف بھیجواؤ ! جب وہ شخص آپ کے پاس آیا تو وہ شخص آپ کے پاس بیٹھ گیا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سورۃ فاتحہ ، سورہ بقرہ کی ابتدائی چار آیات ، اور اس کے درمیان میں سے ایک یہ آیت : ” اور تمہارا معبود ، ایک معبود ہے اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے ، اور وہ بہت مہربان نہایت رحم والا ہے ، بے شک آسان اور زمین کی تخلیق میں ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہاں تک کہ آپ نے اس آیت کو مکمل پڑھا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے تاہم اس روایت میں انہوں نے ” سورہ صف “ کی دس آیات کا ذکر کیا ہے ، یہ نہیں کہا: ” اس کی ابتدائی دس آیات “ اور یہ کہا: ہے : ” سورہ حشر کی آخری تین آیات پڑھیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا اور ایک راوی ابوجناب ہے جو اپنی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔