عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ : أَنْتَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي حُرِّمَتْ عَلَيْهِ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ ظَاهَرَ فِي الْإِسْلَامِ رَجُلٌ كَانَ تَحْتَهُ ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهَا : خُوَيْلَةُ ، فَظَاهَرَ مِنْهَا ، فَأُسْقِطَ فِي يَدِهِ ، وَقَالَ : أَلَا قَدْ حَرُمْتِ عَلَيَّ ، وَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَانْطَلِقِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلِيهِ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَتْ تَشْتَكِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : ( قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ) فَقَالَتْ : أَنَا رَقَبَةٌ ، مَا لَهُ غَيْرِي ، قَالَ : فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ إِنَّهُ لَيَشْرَبُ فِي الْيَوْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : ( فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ) قَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي مَا هِيَ إِلَّا أَكْلَةٌ إِلَى مِثْلِهَا ، لَا نَقْدِرُ عَلَى غَيْرِهَا ، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَطْرِ وَسْقٍ ثَلَاثِينَ صَاعًا ، وَالْوَسْقُ : سِتُّونَ صَاعًا ، فَقَالَ : " لِيُطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَلْيُرَاجِعْكِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہتا تھا : تم میرے لئے میری ماں کی پشت کی مانند ہو ، تو وہ عورت اس شخص پر حرام ہو جاتی تھی اسلام میں سب سے پہلا ظہار ایک شخص نے کیا جس کی بیوی اس کی چچازاد تھی اس کی بیوی کا نام خویلہ تھا ، اس شخص نے اس خاتون کے ساتھ ظہار کر لیا ، پھر اس سے خلاف ورزی ہو گئی ، اس نے کہا: یہ عورت مجھ پر حرام ہو چکی ہے اس عورت نے بھی اس سے اس کی مانند کہا: تو اس شخص نے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کرو وه خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں شکایت کی ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : تو اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو تمہارے ساتھ اپنے شوہر کے بارے میں بات کر رہی ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے شکایت کر رہی ہے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” تم دونوں کے ایک دوسرے کو مس کرنے سے پہلے غلام آزاد کرنا ہو گا “ ۔ اس خاتون نے کہا: صرف میں ہی ہوں ۔ اس کے علاوہ ان صاحب کے پاس کوئی ( غلام یا کنیز ) نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے جائیں گے اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ دن میں تین مرتبہ پانی پیتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اس کی استطاعت نہیں رکھتا ہے ، تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اس خاتون نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ان کے پاس صرف ضرورت کا کھانا ہوتا ہے ہمیں اس سے زیادہ اور کچھ نصیب نہیں ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف وسق یعنی تیسں صاع منگوائے کیونکہ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے چاہیے کہ وہ یہ کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے اور پھر وہ تم سے رجوع کر لے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمز ثمالی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمز ثمالی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ صَخْرٍ الْبَيَاضِيَّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ غَشِيَهَا حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ ، فَلَمَّا مَضَى النِّصْفُ مِنْ رَمَضَانَ سَمِنَتْ وَتَرَبَّعَتْ حَتَّى أَعْجَبَتْهُ فَغَشِيَهَا لَيْلًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " قَالَ : لَا أَجِدُ ، قَالَ : " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ : لَا أَجِدُ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا ، أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ غَيْرَ قَوْلِهِ : إِنْ غَشِيَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان بیان کرتے ہیں : سلمان بن صخر بیاضی نے اپنی بیوی کو اپنے لئے اپنی ماں کی پشت کی مانند قرار دیدیا اگر وہ اس کے ساتھ صحبت کریں ( تو ان کی بیوی ان کے لئے ماں کی پشت کی مانند ہو ) اور ایسا اس وقت تک رہے ، جب تک رمضان گزر نہیں جاتا جب نصف رمضان گزر گیا تو اسی دوران وہ خاتون صحت مند ہو گئی ایک دن وہ انہیں اچھی لگی ، تو انہوں نے رات کے وقت اس خاتون کے ساتھ صحبت کر لی پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غلام آزاد کرو اس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو انہوں نے کہا: میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے عرض کی : مجھے اس کی گنجائش نہیں ملتی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن آیا جس میں پندرہ صاع یا شاید سولہ صاع کھجوریں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لو ! اور یہ ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور ان کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ۔ تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اگر وہ اس کے ساتھ صحبت کر لیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ الظِّهَارُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُحَرِّمُ النِّسَاءَ ، فَكَانَ أَوَّلَ ظِهَارٍ فِي الْإِسْلَامِ أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خُوَيْلَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ ، وَكَانَ الرَّجُلُ ضَعِيفًا ، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ جَلْدَةً ، فَلَمَّا أَنْ تَكَلَّمَ بِالظِّهَارِ ، قَالَ : لَا أُرَاكِ إِلَّا قَدْ حَرُمْتِ عَلَيَّ ، فَانْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَلَّكِ تَبْتَغِي شَيْئًا يَرُدُّكِ عَلَيَّ ، فَانْطَلَقَتْ ، وَجَلَسَ يَنْتَظِرُهَا عِنْدَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَاشِطَةٌ تُمَشِّطُ رَأْسَهُ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَوْسَ بْنَ الصَّامِتِ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ فِي ضَعْفِ رَأْيِهِ ، وَعَجْزِ مَقْدِرَتِهِ ، وَقَدْ ظَاهَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَحَقُّ مَنْ عَطَفَ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ إِنْ كَانَ أَنَا أَوْ عَطَفَ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ، وَهُوَ بَعْدُ ظَاهَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَبْتَغِي شَيْئًا يَرُدُّنِي إِلَيْهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ : " يَا خُوَيْلَةُ ، مَا أُمِرْنَا بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِكِ ، وَإِنْ نُؤْمَرْ فَسَأُخْبِرُكِ " فَبَيْنَا مَاشِطَتُهُ قَدْ فَرَغَتْ مِنْ شِقِّ رَأْسِهِ ، وَأَخَذَتْ فِي الشِّقِّ الْآخَرِ ، أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَرْبَدُّ لِذَلِكَ وَجْهُهُ ، حَتَّى يَجِدَ بَرَدَهُ ، فَإِذَا سُرِّيَ عَنْهُ عَادَ وَجْهُهُ أَبْيَضَ كَالْقَلْبِ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ بِمَا أُمِرَ بِهِ مِنَ الْوَحْيِ ، فَقَالَتْ مَاشِطَتُهُ : يَا خُوَيْلَةُ إِنِّي لَأَظُنُّهُ الْآنَ فِي شَأْنِكِ ، فَأَخَذَهَا أَفْكَلُ اسْتَقْبَلَتْهَا رِعْدَةٌ ، ثُمَّ قَالَتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُعُوذُ بِكَ أَنْ تُنْزِلَ بِي إِلَّا خَيْرًا ، فَإِنِّي لَمْ أَبْغِ مِنْ رَسُولِكَ إِلَّا خَيْرًا ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ : " يَا خُوَيْلَةُ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ " فَقَرَأَ : ( قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ) إِلَى قَوْلِهِ : ( ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ) فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا لَهُ خَادِمٌ غَيْرِي ، وَلَا لِي خَادِمٌ غَيْرُهُ ، قَالَ : ( فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ) فَقَالَتْ : وَاللَّهِ إِنَّهُ إِذَا لَمْ يَأْكُلْ فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ يَسْدَرُ بَصَرُهُ ، قَالَ : ( فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ) فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا لَنَا الْيَوْمَ وُقِيَّةٌ ، قَالَ : " فَمُرِيهِ فَلْيَنْطَلِقْ إِلَى فُلَانٍ فَلْيَأْخُذْ مِنْهُ شَطْرَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا وَلْيُرَاجِعْكِ " قَالَتْ : فَجِئْتُ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : مَا وَرَاءَكِ ؟ قُلْتُ : خَيْرًا وَأَنْتَ دَمِيمٌ ، أُمِرْتَ أَنْ تَأْتِيَ فُلَانًا فَتَأْخُذَ مِنْهُ شَطْرَ وَسْقٍ فَتَصَّدَّقَ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا ، وَتُرَاجِعَنِي ، فَانْطَلَقَ يَسْعَى حَتَّى جَاءَ بِهِ ، قَالَتْ : وَعَهْدِي بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ خَمْسَةَ آصُعٍ مِنَ التَّمْرِ لِلضَّعْفِ . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ فِي الظِّهَارِ غَيْرُ هَذَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ظہار یہ ہوتا تھا کہ عورت کو آدمی حرام قرار دیدیتا تھا اسلام میں سب سے پہلا ظہار سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے کیا ان کی اہلیہ خویلہ بنت خویلد تھی وہ ایک کمزور شخص تھے اور وہ خاتون مضبوط جسم کی مالک تھیں جب ان صاحب نے ظہار کے بارے میں کلام کیا ، تو انہوں نے یہ کہا: میں یہ سجھتا ہوں کہ اب تم مجھ پر حرام ہو چکی ہو تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ ہو سکتا کہ تم کوئی ایسی صورت پا لو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں میری طرف واپس کر دیں وہ خاتون چلی گئی اور وہ صاحب کنویں کے دونوں کناروں کے پاس بیٹھ کر اس خاتون کی واپسی کا انتظار کرنے لگے وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت کوئی خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی پھیر رہی تھیں اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی رائے کی کمزوری اور ان کی عاجزی جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں یا رسول اللہ ! اس کی وجہ سے انہوں نے میرے ساتھ ظہار کر لیا ہے وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ بھلائی کی جائے ، لیکن یا رسول اللہ ! وہ میرے ساتھ ظہار کر چکے ہیں ، تو اب میں کوئی ایسی صورت چاہتی ہوں جس کے ذریعے میں واپس ان کے پاس چلی جاؤں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خویلہ ! تمہارے معاملے میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا گیا اگر ہمیں حکم دیا جائے گا ، تو میں تمہیں بتا دوں گا ابھی وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے ایک حصے کی کنگھی کر کے فارغ ہوئی تھیں اور دوسرے حصے کی کنگھی کرنی شروع کی تھی کہ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کرنا شروع کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ اس کی وجہ سے تبدیل ہو جاتا تھا یہاں تک کہ آپ اس کی ٹھنڈک محسوس کرتے تھے جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوتی ، تو آپ کا چہرہ مبارک ، چاندی کے کنگن کی طرح سفید ہو جاتا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کلام کرتے جو آپ کو وحی میں حکم دیا گیا ہوتا تھا کنگھی کرنے والی خاتون نے کہا: اے خویلہ ! میرا خیال ہے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تمہارے بارے میں وحی نازل ہو رہی ہے ، تو خویلہ پریشان ہو گئیں اور وہ گھبرا گئیں پھر انہوں نے کہا: اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتی ہوں کہ ، تو بھلائی کے علاوہ کچھ نازل کرے ، کیونکہ میں تیرے رسول سے صرف بھلائی حاصل کرنا چاہتی ہوں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے خویلہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہارے شوہر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو اپنے شوہر کے بارے میں تمہارے ساتھ بات چیت کر رہی تھی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کر رہی تھی اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو کو سن رہا تھا “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” پھر وہ پلٹنا چاہیں اس چیز سے ، جو انہوں نے کہا: ہے ، تو ان دونوں کے ایک دوسرے کے مس کرنے سے پہلے غلام آزاد کرنا ہو گا “ ۔ اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان صاحب کے پاس میرے علاوہ اور کوئی خدمت گزار نہیں ہے ، اور میرے پاس بھی ان کے علاوہ اور کوئی خدمت گزار نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : ” تو جو شخص یہ گنجائش نہ پائے وہ دو ماہ مسلسل روزے رکھے “ ۔ اس خاتون نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! اگر وہ ایک دن میں دو مرتبہ کھانا نہ کھائیں ، تو ان کی بینائی کمزور ہو جاتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حصہ تلاوت کیا ” جو اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے “ ۔ اس خاتون نے عرض کی : اللہ کی قسم ! آج ہمارے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس شخص سے کہو کہ وہ فلاں شخص کے پاس جائے ، اور اس سے کھجوروں کا نصف وسق وصول کر کے اسے ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دے اور پھر تم سے رجوع کر لے وہ خاتون کہتی ہیں : میں واپس آئی جب ان صاحب نے مجھے دیکھا تو دریافت کیا : کیا بنا ؟ میں نے کہا: بہتر ہے ، آپ غریب ہیں ، تو آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے آپ فلاں شخص کے پاس جائیں اور اس سے نصف وسق لے کر ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دیں اور پھر مجھ سے رجوع کر لیں ، تو وہ صاحب تیزی سے چلتے ہوئے گئے ، اور وہ کھجوریں اٹھا کے لے آئے وہ خاتون بیان کرتی ہیں حالانکہ اس سے پہلے ان کی یہ صورت حال تھی کہ وہ کمزوری کی وجہ سے اپنی پشت پر کھجوروں کے پانچ صاع بھی نہیں اٹھا سکتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ظہار کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور حدیث بھی منقول ہے جو اس کے علاوہ ہے اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے وہ ضعیف ہے ۔