حدیث نمبر: 7828
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَالَ لِامْرَأَتِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ : أَنْتَ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي حُرِّمَتْ عَلَيْهِ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ ظَاهَرَ فِي الْإِسْلَامِ رَجُلٌ كَانَ تَحْتَهُ ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهَا : خُوَيْلَةُ ، فَظَاهَرَ مِنْهَا ، فَأُسْقِطَ فِي يَدِهِ ، وَقَالَ : أَلَا قَدْ حَرُمْتِ عَلَيَّ ، وَقَالَتْ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَانْطَلِقِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلِيهِ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَتْ تَشْتَكِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى : ( قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ) فَقَالَتْ : أَنَا رَقَبَةٌ ، مَا لَهُ غَيْرِي ، قَالَ : فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ، قَالَتْ : وَاللَّهِ إِنَّهُ لَيَشْرَبُ فِي الْيَوْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : ( فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ) قَالَتْ : بِأَبِي وَأُمِّي مَا هِيَ إِلَّا أَكْلَةٌ إِلَى مِثْلِهَا ، لَا نَقْدِرُ عَلَى غَيْرِهَا ، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَطْرِ وَسْقٍ ثَلَاثِينَ صَاعًا ، وَالْوَسْقُ : سِتُّونَ صَاعًا ، فَقَالَ : " لِيُطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَلْيُرَاجِعْكِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہتا تھا : تم میرے لئے میری ماں کی پشت کی مانند ہو ، تو وہ عورت اس شخص پر حرام ہو جاتی تھی اسلام میں سب سے پہلا ظہار ایک شخص نے کیا جس کی بیوی اس کی چچازاد تھی اس کی بیوی کا نام خویلہ تھا ، اس شخص نے اس خاتون کے ساتھ ظہار کر لیا ، پھر اس سے خلاف ورزی ہو گئی ، اس نے کہا: یہ عورت مجھ پر حرام ہو چکی ہے اس عورت نے بھی اس سے اس کی مانند کہا: تو اس شخص نے کہا: تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کرو وه خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں شکایت کی ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : تو اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو تمہارے ساتھ اپنے شوہر کے بارے میں بات کر رہی ہے ، اور اللہ تعالیٰ سے شکایت کر رہی ہے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” تم دونوں کے ایک دوسرے کو مس کرنے سے پہلے غلام آزاد کرنا ہو گا “ ۔ اس خاتون نے کہا: صرف میں ہی ہوں ۔ اس کے علاوہ ان صاحب کے پاس کوئی ( غلام یا کنیز ) نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے جائیں گے اس خاتون نے کہا: اللہ کی قسم ! وہ دن میں تین مرتبہ پانی پیتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اس کی استطاعت نہیں رکھتا ہے ، تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اس خاتون نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ان کے پاس صرف ضرورت کا کھانا ہوتا ہے ہمیں اس سے زیادہ اور کچھ نصیب نہیں ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف وسق یعنی تیسں صاع منگوائے کیونکہ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے چاہیے کہ وہ یہ کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے اور پھر وہ تم سے رجوع کر لے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمز ثمالی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7828
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1513) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (616)»