وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ الظِّهَارُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُحَرِّمُ النِّسَاءَ ، فَكَانَ أَوَّلَ ظِهَارٍ فِي الْإِسْلَامِ أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ خُوَيْلَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ ، وَكَانَ الرَّجُلُ ضَعِيفًا ، وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ جَلْدَةً ، فَلَمَّا أَنْ تَكَلَّمَ بِالظِّهَارِ ، قَالَ : لَا أُرَاكِ إِلَّا قَدْ حَرُمْتِ عَلَيَّ ، فَانْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَلَّكِ تَبْتَغِي شَيْئًا يَرُدُّكِ عَلَيَّ ، فَانْطَلَقَتْ ، وَجَلَسَ يَنْتَظِرُهَا عِنْدَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَاشِطَةٌ تُمَشِّطُ رَأْسَهُ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَوْسَ بْنَ الصَّامِتِ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ فِي ضَعْفِ رَأْيِهِ ، وَعَجْزِ مَقْدِرَتِهِ ، وَقَدْ ظَاهَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَحَقُّ مَنْ عَطَفَ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ إِنْ كَانَ أَنَا أَوْ عَطَفَ عَلَيْهِ بِخَيْرٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ ، وَهُوَ بَعْدُ ظَاهَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَبْتَغِي شَيْئًا يَرُدُّنِي إِلَيْهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ : " يَا خُوَيْلَةُ ، مَا أُمِرْنَا بِشَيْءٍ مِنْ أَمْرِكِ ، وَإِنْ نُؤْمَرْ فَسَأُخْبِرُكِ " فَبَيْنَا مَاشِطَتُهُ قَدْ فَرَغَتْ مِنْ شِقِّ رَأْسِهِ ، وَأَخَذَتْ فِي الشِّقِّ الْآخَرِ ، أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَرْبَدُّ لِذَلِكَ وَجْهُهُ ، حَتَّى يَجِدَ بَرَدَهُ ، فَإِذَا سُرِّيَ عَنْهُ عَادَ وَجْهُهُ أَبْيَضَ كَالْقَلْبِ ، ثُمَّ تَكَلَّمَ بِمَا أُمِرَ بِهِ مِنَ الْوَحْيِ ، فَقَالَتْ مَاشِطَتُهُ : يَا خُوَيْلَةُ إِنِّي لَأَظُنُّهُ الْآنَ فِي شَأْنِكِ ، فَأَخَذَهَا أَفْكَلُ اسْتَقْبَلَتْهَا رِعْدَةٌ ، ثُمَّ قَالَتِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُعُوذُ بِكَ أَنْ تُنْزِلَ بِي إِلَّا خَيْرًا ، فَإِنِّي لَمْ أَبْغِ مِنْ رَسُولِكَ إِلَّا خَيْرًا ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ : " يَا خُوَيْلَةُ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكِ وَفِي صَاحِبِكِ " فَقَرَأَ : ( قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ) إِلَى قَوْلِهِ : ( ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا ) فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا لَهُ خَادِمٌ غَيْرِي ، وَلَا لِي خَادِمٌ غَيْرُهُ ، قَالَ : ( فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ) فَقَالَتْ : وَاللَّهِ إِنَّهُ إِذَا لَمْ يَأْكُلْ فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ يَسْدَرُ بَصَرُهُ ، قَالَ : ( فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ) فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا لَنَا الْيَوْمَ وُقِيَّةٌ ، قَالَ : " فَمُرِيهِ فَلْيَنْطَلِقْ إِلَى فُلَانٍ فَلْيَأْخُذْ مِنْهُ شَطْرَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا وَلْيُرَاجِعْكِ " قَالَتْ : فَجِئْتُ ، فَلَمَّا رَآنِي قَالَ : مَا وَرَاءَكِ ؟ قُلْتُ : خَيْرًا وَأَنْتَ دَمِيمٌ ، أُمِرْتَ أَنْ تَأْتِيَ فُلَانًا فَتَأْخُذَ مِنْهُ شَطْرَ وَسْقٍ فَتَصَّدَّقَ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا ، وَتُرَاجِعَنِي ، فَانْطَلَقَ يَسْعَى حَتَّى جَاءَ بِهِ ، قَالَتْ : وَعَهْدِي بِهِ قَبْلَ ذَلِكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى ظَهْرِهِ خَمْسَةَ آصُعٍ مِنَ التَّمْرِ لِلضَّعْفِ . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ فِي الظِّهَارِ غَيْرُ هَذَا رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ظہار یہ ہوتا تھا کہ عورت کو آدمی حرام قرار دیدیتا تھا اسلام میں سب سے پہلا ظہار سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے کیا ان کی اہلیہ خویلہ بنت خویلد تھی وہ ایک کمزور شخص تھے اور وہ خاتون مضبوط جسم کی مالک تھیں جب ان صاحب نے ظہار کے بارے میں کلام کیا ، تو انہوں نے یہ کہا: میں یہ سجھتا ہوں کہ اب تم مجھ پر حرام ہو چکی ہو تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ ہو سکتا کہ تم کوئی ایسی صورت پا لو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں میری طرف واپس کر دیں وہ خاتون چلی گئی اور وہ صاحب کنویں کے دونوں کناروں کے پاس بیٹھ کر اس خاتون کی واپسی کا انتظار کرنے لگے وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت کوئی خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی پھیر رہی تھیں اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی رائے کی کمزوری اور ان کی عاجزی جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں یا رسول اللہ ! اس کی وجہ سے انہوں نے میرے ساتھ ظہار کر لیا ہے وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ان کے ساتھ بھلائی کی جائے ، لیکن یا رسول اللہ ! وہ میرے ساتھ ظہار کر چکے ہیں ، تو اب میں کوئی ایسی صورت چاہتی ہوں جس کے ذریعے میں واپس ان کے پاس چلی جاؤں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے خویلہ ! تمہارے معاملے میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا گیا اگر ہمیں حکم دیا جائے گا ، تو میں تمہیں بتا دوں گا ابھی وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے ایک حصے کی کنگھی کر کے فارغ ہوئی تھیں اور دوسرے حصے کی کنگھی کرنی شروع کی تھی کہ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کرنا شروع کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ اس کی وجہ سے تبدیل ہو جاتا تھا یہاں تک کہ آپ اس کی ٹھنڈک محسوس کرتے تھے جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوتی ، تو آپ کا چہرہ مبارک ، چاندی کے کنگن کی طرح سفید ہو جاتا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ کلام کرتے جو آپ کو وحی میں حکم دیا گیا ہوتا تھا کنگھی کرنے والی خاتون نے کہا: اے خویلہ ! میرا خیال ہے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تمہارے بارے میں وحی نازل ہو رہی ہے ، تو خویلہ پریشان ہو گئیں اور وہ گھبرا گئیں پھر انہوں نے کہا: اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتی ہوں کہ ، تو بھلائی کے علاوہ کچھ نازل کرے ، کیونکہ میں تیرے رسول سے صرف بھلائی حاصل کرنا چاہتی ہوں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوئی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے خویلہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہارے شوہر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو اپنے شوہر کے بارے میں تمہارے ساتھ بات چیت کر رہی تھی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کر رہی تھی اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو کو سن رہا تھا “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” پھر وہ پلٹنا چاہیں اس چیز سے ، جو انہوں نے کہا: ہے ، تو ان دونوں کے ایک دوسرے کے مس کرنے سے پہلے غلام آزاد کرنا ہو گا “ ۔ اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان صاحب کے پاس میرے علاوہ اور کوئی خدمت گزار نہیں ہے ، اور میرے پاس بھی ان کے علاوہ اور کوئی خدمت گزار نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : ” تو جو شخص یہ گنجائش نہ پائے وہ دو ماہ مسلسل روزے رکھے “ ۔ اس خاتون نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! اگر وہ ایک دن میں دو مرتبہ کھانا نہ کھائیں ، تو ان کی بینائی کمزور ہو جاتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حصہ تلاوت کیا ” جو اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے “ ۔ اس خاتون نے عرض کی : اللہ کی قسم ! آج ہمارے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس شخص سے کہو کہ وہ فلاں شخص کے پاس جائے ، اور اس سے کھجوروں کا نصف وسق وصول کر کے اسے ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دے اور پھر تم سے رجوع کر لے وہ خاتون کہتی ہیں : میں واپس آئی جب ان صاحب نے مجھے دیکھا تو دریافت کیا : کیا بنا ؟ میں نے کہا: بہتر ہے ، آپ غریب ہیں ، تو آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے آپ فلاں شخص کے پاس جائیں اور اس سے نصف وسق لے کر ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دیں اور پھر مجھ سے رجوع کر لیں ، تو وہ صاحب تیزی سے چلتے ہوئے گئے ، اور وہ کھجوریں اٹھا کے لے آئے وہ خاتون بیان کرتی ہیں حالانکہ اس سے پہلے ان کی یہ صورت حال تھی کہ وہ کمزوری کی وجہ سے اپنی پشت پر کھجوروں کے پانچ صاع بھی نہیں اٹھا سکتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ظہار کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اور حدیث بھی منقول ہے جو اس کے علاوہ ہے اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحمزہ ثمالی ہے وہ ضعیف ہے ۔