وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَنَّ سَلْمَانَ بْنَ صَخْرٍ الْبَيَاضِيَّ جَعَلَ امْرَأَتَهُ عَلَيْهِ كَظَهْرِ أُمِّهِ إِنْ غَشِيَهَا حَتَّى يَمْضِيَ رَمَضَانُ ، فَلَمَّا مَضَى النِّصْفُ مِنْ رَمَضَانَ سَمِنَتْ وَتَرَبَّعَتْ حَتَّى أَعْجَبَتْهُ فَغَشِيَهَا لَيْلًا ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ : " أَعْتِقْ رَقَبَةً " قَالَ : لَا أَجِدُ ، قَالَ : " صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ : لَا أَجِدُ ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا ، أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ عَلَى سِتِّينَ مِسْكِينًا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ غَيْرَ قَوْلِهِ : إِنْ غَشِيَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ابوسلمہ اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان بیان کرتے ہیں : سلمان بن صخر بیاضی نے اپنی بیوی کو اپنے لئے اپنی ماں کی پشت کی مانند قرار دیدیا اگر وہ اس کے ساتھ صحبت کریں ( تو ان کی بیوی ان کے لئے ماں کی پشت کی مانند ہو ) اور ایسا اس وقت تک رہے ، جب تک رمضان گزر نہیں جاتا جب نصف رمضان گزر گیا تو اسی دوران وہ خاتون صحت مند ہو گئی ایک دن وہ انہیں اچھی لگی ، تو انہوں نے رات کے وقت اس خاتون کے ساتھ صحبت کر لی پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم غلام آزاد کرو اس نے کہا: میرے پاس نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو انہوں نے کہا: میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اس نے عرض کی : مجھے اس کی گنجائش نہیں ملتی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک برتن آیا جس میں پندرہ صاع یا شاید سولہ صاع کھجوریں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ لو ! اور یہ ساٹھ مسکینوں کو صدقہ کر دو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور ان کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے ۔ تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اگر وہ اس کے ساتھ صحبت کر لیں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔