کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ایسے میاں بیوی کا بیان ، جن میں سے کوئی ایک اسلام قبول کر لیتا ہے
حدیث نمبر: 7826
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ هَرَبَ عَكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ فَرَكِبَ الْبَحْرَ ، فَخَبَّ بِهِمُ الْبَحْرُ ، فَجَعَلْتِ الصَّرَارِيُّ وَمَنْ فِي الْبَحْرِ يَدْعُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيَسْتَغِيثُونَ بِهِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقِيلَ : مَكَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إِلَّا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ : فَهَذَا إِلَهُ مُحَمَّدٍ الَّذِي يَدْعُونَا إِلَيْهِ ، ارْجِعُوا بِنَا ، فَرَجَعُوا ، فَرَجَعَ وَأَسْلَمَ ، وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ قَدْ أَسْلَمَتْ قَبْلَهُ فَكَانَا عَلَى نِكَاحِهِمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : جب مکہ فتح ہوا تو عکرمہ بن ابوجہل بھاگ کر سمندری سفر پر چلے گئے سمندر میں طغیانی آ گئی تو ملاحوں اور سمندر میں موجود لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارنا شروع کیا اور اس سے مدد مانگنا شروع کی ، عکرمہ بن ابوجہل نے کہا: یہ کیا معاملہ ہے ؟ ان لوگوں نے کہا: یہ ایسی جگہ ہے ، جہاں صرف اللہ تعالیٰ نفع دے سکتا ہے ، تو عکرمہ نے کہا: وہ ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معبود ہے جس کی طرف وہ ہمیں دعوت دیتے ہیں ، تم لوگ ہمیں واپس بھیج دو ! پھر وہ لوگ واپس آ گئے انہوں نے واپس آ کے اسلام قبول کر لیا ان کی اہلیہ پہلے ہی اسلام قبول کر چکی تھیں ، تو وہ دونوں اپنے نکاح پر برقرار ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7827
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْلَمَتْ وَزَوْجُهَا مُشْرِكٌ : أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ ثُمَّ أَسْلَمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِحِينٍ فَلَمْ يُجَدِّدَا نِكَاحًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا تھا ان کے شوہر ابوالعاص بن ربیع مشرک تھے پھر بعد میں انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا تو ان دونوں نے نکاح کی تجدید نہیں کی ۔ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔