عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدِمَ سَلْمَانُ مِنْ غِيبَةٍ لَهُ فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ فَقَالَ : أَرْضَاكَ اللَّهُ عَبْدًا . قَالَ : فَتَزَوَّجَ فِي كِنْدَةَ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَدْخُلُ فِيهَا عَلَى أَهْلِهِ إِذَا الْبَيْتُ مُنَجَّدٌ ، وَإِذَا فِيهِ نِسْوَةٌ قَالَ : أَتَحَوَّلَتِ الْكَعْبَةُ فِي كِنْدَةَ أَوْ هِيَ حُمْرَةٌ ؟ أَمَرَنَا خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا نَتَّخِذَ مِنَ الْمَتَاعِ إِلَّا أَثَاثًا كَأَثَاثِ الْمُسَافِرِ ، وَلَا نَتَّخِذَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا نَنْكِحُ . فَخَرَجَ النِّسْوَةُ وَدَخَلَ عَلَى أَهْلِهِ فَقَالَ : يَا هَذِهِ أَتُطِيعِينِي أَمْ تَعْصِينِي ؟ قَالَتْ : بَلْ أُطِيعُكَ فِيمَا شِئْتَ . قَالَ : إِنَّ خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا إِذَا دَخَلَ أَحَدُنَا بِأَهْلِهِ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ وَيَأْمُرَهَا أَنْ تُصَلِّيَ خَلْفَهُ وَيَدْعُوَ وَتُؤَمِّنَ . فَفَعَلَ وَفَعَلَتْ فَلَمَّا جَلَسَ فِي مَجْلِسِ كِنْدَةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ ، فَعَادَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ لَهُ : وَمَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَسْأَلُ عَمَّا وَارَتْهُ الْحِيطَانُ وَالْأَبْوَابُ إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْأَلَ عَنِ الشَّيْءِ أُجِيبَ أَمْ سَكَتَ عَنْهُ . ¤ هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ( طویل عرصہ ) غیر موجود رہنے کے بعد تشریف لائے ان کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو راضی کرے راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے کندہ میں شادی کر لی تھی جب وہ رات آئی جس میں ان کی بیوی کی رخصتی ہوئی ، تو گھر بھرا ہوا تھا اس میں خواتین موجود تھیں انہوں نے دریافت کیا : کعبہ منتقل ہو کے کندہ میں آ گیا ہے یا پھر میری یہ عورت سرخ فام ہے میرے خلیل سیدنا ، ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ ہم ساز و سامان میں سے صرف اتنا اثاثہ رکھیں جتنا مسافر کا سامان ہوتا ہے ، اور خواتین میں سے صرف اتنی خواتین رکھیں جن کے ساتھ ہم نکاح کرتے ہیں ، تو خواتین گھر سے باہر چلی گئیں وہ اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لائے ، اور بولے : اے خاتون ! کیا تم میری اطاعت کرو گی یا میری نافرمانی کرو گی اس نے جواب دیا : آپ جیسے چاہیں گے میں آپ کی اطاعت کروں گی سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بتایا مجھے میرے خلیل نے یہ حکم دیا تھا کہ جب ہم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس جائے ، تو کھڑا ہو کر نماز ادا کرے اور عورت کو یہ ہدایت کرے کہ وہ اس کے پیچھے کھڑی ہو کر نماز ادا کرے وہ شخص دعا کرے اور عورت آمین کہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا اور ان کی اہلیہ نے بھی ایسا ہی کیا اگلے دن جب وہ کندہ میں لوگوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ، تو ایک شخص نے ان سے پوچھا: اے ابوعبداللہ ! آپ کا کیا حال ہے آپ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ؟ تو وہ خاموش رہے اس شخص نے دوبارہ پوچھا: تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم میں سے کسی ایک شخص کا کیا معاملہ ہے کہ وہ ایک ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرتا ہے ، جسے دیواروں اور دروازوں نے چھپایا ہوا تھا تم میں سے کسی ایک کے لئے یہ کافی ہے کہ اگر وہ کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتا ہے ، تو اگر اسے جواب دیدیا جاتا ہے ، تو ٹھیک ہے اگر جواب نہیں دیا جاتا ( تو وہ بھی ٹھیک ہے )
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح نقل کی ہے ۔
وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ فَقَالَ : عَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمْ فَكَانَتْ لَيْلَةُ الْبِنَاءِ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ وَلْيَأْمُرْهَا أَنْ تُصْلِيَ خَلْفَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي الْبَيْتِ خَيْرًا " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص شادی کر لے ، تو رخصتی کی رات اسے دو رکعت ادا کرنی چاہیں اور اپنی بیوی کو بھی یہ ہدایت کرنی چاہیے کہ وہ بھی اس کے پیچھے نماز ادا کرے ، تو اس طرح اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں بھلائی رکھ دے گا “ ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی حجاج بن فروخ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا دَخَلَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى زَوْجِهَا يَقُومُ الرَّجُلُ فَتَقُومُ مِنْ خَلْفِهِ فَيُصَلِّيَانِ رَكْعَتَيْنِ وَيَقُولُ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي وَبَارِكْ لِأَهْلِي فِيَّ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُمْ مِنِّي وَارْزُقْنِي مِنْهُمُ اللَّهُمَّ اجْمَعْ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ فِي خَيْرٍ وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى خَيْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَرْوَزِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب عورت رخصت ہو کر شوہر کے پاس آتی ہے ، تو آدمی کھڑا ہو اور عورت اس کے پیچھے کھڑی ہو اور وہ دونوں دو رکعت ادا کریں اور پھر یہ دعا کریں : ” اے اللہ ! میرے اہل خانہ میں میرے لئے برکت رکھ دے اور میرے اہل خانہ کے لئے مجھ میں برکت رکھ دے اے اللہ ! انہیں مجھ سے رزق عطا فرما اور مجھے ان سے رزق عطا فرما : اے اللہ ! تو ہمارے درمیان ہر قسم کی بھلائی رکھنا اور جب ، تو ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرے ، تو بھلائی کی طرف الگ کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ مروزی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ مروزی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فَقَالَ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ جَارِيَةً بِكْرًا ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَفْرَكَنِي . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَا إِنَّ الْإِلْفَ مِنَ اللَّهِ ، وَإِنَّ الْفِرْكَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُكْرِهَ إِلَيْهِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فَإِذَا دَخَلْتَ عَلَيْهَا فَمُرْهَا فَلْتُصَلِّ خَلْفَكَ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ الْأَعْمَشُ : فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ : فَقَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَقُلِ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي وَبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُمْ مِنِّي وَارْزُقْنِي مِنْهُمُ اللَّهُمَّ اجْمَعْ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ إِلَى خَيْرٍ وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى الْخَيْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : بجیلہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں نے ایک کنواری لڑکی کے ساتھ شادی کر لی ہے مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ مجھ سے جدا ہو جائے گی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خبردار الفت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ، اور علیحدگی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ، تاکہ وہ اس چیز کو انسان کے نزدیک پسندیدہ کروا دے جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دی ہے ، جب تم اس عورت کی رخصتی کروا لو ، تو تم اسے یہ ہدایت کرنا کہ وہ تمہارے پیچھے نماز ادا کرے ۔ اعمش بیان کرتے ہیں : میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم سے کیا تو انہوں نے فرمایا : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا : تم یہ دعا کرنا ” اے اللہ ! تو میرے لئے میرے اہل خانہ میں برکت رکھ دے اور ان کے لئے مجھ میں برکت رکھ دے ۔ اے اللہ ! تو ان کو مجھ سے رزق عطا فرما اور مجھے ان سے رزق عطا فرما ۔ اے اللہ ! جب تک ، تو ہمیں اکٹھا رکھے گا بھلائی کی طرف اکٹھا رکھنا اور جب ، تو ہمارے درمیان علیحدگی کروائے گا ، تو بھلائی کی طرف علیحدگی کروانا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے جال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے جال صحیح کے رجال ہیں ۔