مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ إِذَا دَخَلَ بِأَهْلِهِ . باب: جب آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے، تو وہ کیا کرے ؟
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا دَخَلَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى زَوْجِهَا يَقُومُ الرَّجُلُ فَتَقُومُ مِنْ خَلْفِهِ فَيُصَلِّيَانِ رَكْعَتَيْنِ وَيَقُولُ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي وَبَارِكْ لِأَهْلِي فِيَّ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُمْ مِنِّي وَارْزُقْنِي مِنْهُمُ اللَّهُمَّ اجْمَعْ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ فِي خَيْرٍ وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى خَيْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَرْوَزِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب عورت رخصت ہو کر شوہر کے پاس آتی ہے ، تو آدمی کھڑا ہو اور عورت اس کے پیچھے کھڑی ہو اور وہ دونوں دو رکعت ادا کریں اور پھر یہ دعا کریں : ” اے اللہ ! میرے اہل خانہ میں میرے لئے برکت رکھ دے اور میرے اہل خانہ کے لئے مجھ میں برکت رکھ دے اے اللہ ! انہیں مجھ سے رزق عطا فرما اور مجھے ان سے رزق عطا فرما : اے اللہ ! تو ہمارے درمیان ہر قسم کی بھلائی رکھنا اور جب ، تو ہمیں ایک دوسرے سے الگ کرے ، تو بھلائی کی طرف الگ کرنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ مروزی ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔