کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: صحبت کرنے ، صحبت کے وقت پڑھی جانے والی دعا اور صحبت کے وقت پردہ کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 7548
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا آتِيَ أَهْلِي فِي غُرَّةِ الْهِلَالِ ، وَأَنْ لَا أَتَوَضَّأَ مِنَ النُّحَاسِ ، وَأَنْ أَسْتَنَّ كُلَمَّا قُمْتُ مِنْ سِنَتِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ حَسَّانٍ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہ کروں ، اور میں پیتل کے برتن سے وضو نہ کروں ، اور جب بھی میں نیند سے بیدار ہوؤں ، تو میں مسواک کر لوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن حسان ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7548
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (349/19)»
حدیث نمبر: 7549
وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَانَ شَيْءٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ وِقَايَةٌ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : " فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان تشریف لائے پھر تشریف لے گئے آپ نے غسل کیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی معاملہ در پیش ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں میرے پاس سے ایک عورت گزری ، تو میرے دل میں بیوی کے لئے خواہش پیدا ہوئی ، تو میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور میں نے اس کے ساتھ قربت کر لی تمہارے اعمال میں مثالی بچاؤ کا طریقہ یہی ہے کہ آدمی حلال طریقے سے ( خواہش پوری کر لے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو تم لوگ اسی طرح کر لو “ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7549
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (338/22) اخرجه احمد فى المسند (231/4)»
حدیث نمبر: 7550
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَتِ امْرَأَةٌ بِالْمَدِينَةِ عَطَّارَةً قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي فَضْلِ نِكَاحِ الرَّجُلِ أَهْلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجْلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مدینہ منورہ میں ایک عورت تھی ، جو عطر فروش تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پوری حدیث ذکر کی ہے جو آدمی کے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرنے کی فضیلت سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7550
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7551
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَأَلَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " عُدْتَ الْيَوْمَ مَرِيضًا ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " فَتَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " فَصَلَّيْتَ عَلَى جِنَازَةٍ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " فَأَصَبْتَ مِنْ أَهْلِكَ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " فَأَصِبْ مِنْهُمْ ، فَإِنَّهَا مِنْكَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً " وَذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ النَّصْرُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے آج کسی بیمار کی عیادت کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے کوئی چیز صدقہ کی ہے اس نے جواب دیا : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے نماز جنازہ پڑھی ہے اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کی ہے اس نے عرض کی : جی نہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے یہ کر لینا تھا یہ تمہاری طرف سے اس پر صدقہ ہونا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : یہ جمعہ کے دن کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن عاصم بن ہلال بارقی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7551
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7552
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَعْجِزَنَّ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَقُولَ : بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي وَجَنِّبْ مَا رَزَقْتَنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، فَإِنْ قُدِّرَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات سے عاجز آ جاتا ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے پاس جائے ، تو یہ پڑھ لے : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اے اللہ ! تو مجھے ، اور جو رزق ( یعنی اولاد ) تو مجھے عطا کرے گا اسے مردود شیطان سے الگ رکھنا“ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) اگر ان دنوں میاں بیوی کے نصیب میں اولاد ہوئی ، تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7552
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7839)»
حدیث نمبر: 7553
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : أُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَفِيتَ . قُلْتُ لِلْحَسَنِ : وَمَا الْكَفِيتُ ؟ قَالَ : الْبِضَاعُ . ¤ قَالَ ابْنُ الْأَثِيرِ : الْكِفَاتُ : الْجِمَاعُ . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَبْدَ السَّلَامِ بْنَ عَاصِمٍ الرَّازِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفیت عطا کیا گیا تھا ۔ رادی کہتے ہیں : میں نے حسن سے دریافت کیا : کفیت سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ٹکڑا ۔ ابن اثیر کہتے ہیں : کفات کا مطلب صحبت کرنا ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالسلام بن عاصم رازی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7553
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7554
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَقَدْ أُعْطِيتُ مِنْهُ شَيْئًا مَا أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أُعْطِيَهُ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي الْجِمَاعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مجھے اس حوالے سے جتنی صلاحیت عطا کی گئی ہے میرے علم کے مطابق کسی کو اتنی عطا نہیں کی گئی البتہ اللہ کے رسول کا معاملہ مختلف ہے ( راوی کہتے ہیں : ) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مراد صحبت کرنے کی صلاحیت تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7554
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1420) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13512)»
حدیث نمبر: 7555
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُعْطِيتُ قُوَّةَ أَرْبَعِينَ فِي الْبَطْشِ وَالنِّكَاحِ وَمَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا أُعْطِيَ قُوَّةَ عَشَرَةٍ وَجُعِلَتِ الشَّهْوَةُ عَلَى عَشَرَةِ أَجْزَاءٍ وَجُعِلَتْ تِسْعَةُ أَعْشَارٍ مِنْهَا فِي النِّسَاءِ وَوَاحِدَةٌ فِي الرِّجَالِ وَلَوْلَا مَا أُلْقِيَ عَلَيْهِنَّ مِنَ الْحَيَاءِ مَعَ شَهَوَاتِهِنَّ لَكَانَ لِكُلِّ رَجُلٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ مُغْتَلِمَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ قَيْسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گرفت اور نکاح کے حوالے سے مجھے چالیس آدمیوں جتنی قوت عطا کی گئی ہے ، اور ہر مومن کو دس افراد جتنی قوت دی جاتی ہے ، اور شہوت کے دس اجزا کیے گئے ہیں ، جن میں سے نو اجزاء خواتین میں ہوتے ہیں اور ایک جزء مردوں میں ہے ، اگر خواتین پر حیاء نہ ڈالی گئی ہوتی ، جو ان کی خواہش کے ساتھ ہوتی ہے ، تو ہر آدمی کے ساتھ نو ، بیویاں ہونی تھیں ، جن میں نکاح ( یعنی ازدواجی تعلق قائم رکھنے کی ) شدید خواہش ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن قیس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7556
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَضْلُ مَا بَيْنَ لَذَّةِ الْمَرْأَةِ وَلَذَّةِ الرَّجُلِ كَأَثَرِ الْمَخِيطِ فِي الطِّينِ إِلَّا أَنَّ اللَّهَ يَسْتُرُهُنَّ بِالْحَيَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَوْذَبٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورت کی لذت اور مرد کی لذت کے درمیان اتنا فرق ہے جس طرح مٹی میں سوئی کا نشان ہوتا ہے ، البتہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں پر حیاء کے ذریعے پردہ ڈال دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن علی بن شوذب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7556
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7557
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ ، فَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يَسْتَتِرِ اسْتَحْيَتِ الْمَلَائِكَةُ فَخَرَجَتْ فَإِذَا كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ كَانَ لِلشَّيْطَانِ فِيهِ نَصِيبٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعَّفَهُ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَبُو الْمُنِيبِ صَاحِبُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس جائے ، تو اسے پردہ کر لینا چاہیے اگر وہ پردہ نہیں کرے گا ، تو فرشتے اس سے حیا کرتے ہوئے باہر چلے جائیں گے ، اور اگر ان دونوں کے ہاں اولاد ہو گی ، تو شیطان کا اس میں سے حصہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی سند کو انہوں نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابومنیب ہے ، جو یحیی بن ابوکثیر کا شاگرد ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7557
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1448) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (178)»
حدیث نمبر: 7558
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ ، وَلَا يَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَيْرَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَقَالَ الْبَزَّارُ : أَخْطَأَ مِنْدَلٌ فِي رَفْعِهِ وَالصَّوَابُ أَنَّهُ مُرْسَلٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس آئے ، تو اسے پردہ کر لینا چاہیے ، اور اسے مکمل طور پر برہنہ نہیں ہونا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ امام بزار کہتے ہیں : مندل نے اس روایت کو ” مرفوع “ حدیث کے طور پر نقل کرنے میں غلطی کی ہے ، درست یہ ہے کہ
یہ روایت ” مرسل “ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7558
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1449) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10443)»
حدیث نمبر: 7559
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ ، وَلَا يَتَعَرَّيَانِ تَعَرِّيَ الْحَمِيرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی بیوی کے پاس آئے ، تو اسے اپنے اوپر ، اور اپنی بیوی پر پردہ کر لینا چاہیے ، اور گدھوں کی طرح مکمل برہنہ نہیں ہونا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7559
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7683)»
حدیث نمبر: 7560
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا جَالِسٌ ، وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ إِذْ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَأَحْسَبُكُنَّ تُخْبِرْنَ مَا يَفْعَلُ بِكُنَّ أَزْوَاجُكُنَّ " قَالَتْ : إِي وَاللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَفْعَلْنَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ " قَالَ : " لَأَحْسَبُ أَنَّ إِحْدَاكُنَّ إِذَا أَتَاهَا زَوْجُهَا لَيَكْشِفَانِ عَنْهُمَا اللِّحَافَ يَنْظُرُ أَحَدُهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ ؟ " قَالَتْ : إِي وَاللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَلَا تَفْعَلْنَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، آپ کے پاس ایک خاتون موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: تم خواتین کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم ایک دوسرے کو یہ بات بتا دیتی ہو کہ تمہارے شوہروں نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، یا رسول اللہ ! ہم ( خواتین ) ایسا کرتی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کیا کرو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے والے پر ناراض ہوتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا خیال ہے تم خواتین میں سے کسی ایک کا شوہر جب اس کے پاس آتا ہے ، تو وہ اوپر سے لحاف ہٹا دیتے ہیں تاکہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھ لیں ، یوں جیسے وہ دونوں گدھے ہوں ، اس خاتون نے عرض کی : جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! ہم ایسا کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ایسا نہ کرو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر ناراض ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7560
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7844)»
حدیث نمبر: 7561
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ : أَتَى عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْتَحِي أَنْ يَرَى أَهْلِي عَوْرَتِي . قَالَ : " وَلِمَ ، وَقَدْ جَعَلَكَ اللَّهُ لَهُنَّ لِبَاسًا وَجَعَلَهُنَّ لَكَ لِبَاسًا ؟ " قَالَ : أَكْرَهُ ذَلِكَ . قَالَ : " فَإِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ مِنِّي وَأَرَاهُ مِنْهُمْ " قَالَ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَنَا " ، قَالَ : أَنْتَ فَمَنْ بَعْدَكَ إِذًا ؟ قَالَ : فَلَمَّا أَدْبَرَ عُثْمَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ ابْنَ مَظْعُونٍ لَحَيِيٌّ سِتِّيرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن مسعود لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے اس بات سے حیاء آتی ہے کہ میری بیوی میری شرمگاہ دیکھ لے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کا لباس بنایا ہے ، اور اسے تمہارا لباس بنایا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن میری بیویاں میری شرمگاہ کو دیکھ لیتی ہیں اور میں ان کی شرمگاہ کو دیکھ لیتا ہوں ان صاحب نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ہوں ۔ انہوں نے کہا: آپ کے بعد کیا ہو سکتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ چلے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن مظعون شرمیلا اور پردے والا شخص ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن العلاء ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7561
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8318)»