مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ إِذَا دَخَلَ بِأَهْلِهِ . باب: جب آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے، تو وہ کیا کرے ؟
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - فَقَالَ : إِنِّي تَزَوَّجْتُ جَارِيَةً بِكْرًا ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَفْرَكَنِي . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَا إِنَّ الْإِلْفَ مِنَ اللَّهِ ، وَإِنَّ الْفِرْكَ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيُكْرِهَ إِلَيْهِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فَإِذَا دَخَلْتَ عَلَيْهَا فَمُرْهَا فَلْتُصَلِّ خَلْفَكَ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ الْأَعْمَشُ : فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ : فَقَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَقُلِ : اللَّهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي وَبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ اللَّهُمَّ ارْزُقْهُمْ مِنِّي وَارْزُقْنِي مِنْهُمُ اللَّهُمَّ اجْمَعْ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ إِلَى خَيْرٍ وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى الْخَيْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابووائل بیان کرتے ہیں : بجیلہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں نے ایک کنواری لڑکی کے ساتھ شادی کر لی ہے مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ مجھ سے جدا ہو جائے گی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خبردار الفت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ، اور علیحدگی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ، تاکہ وہ اس چیز کو انسان کے نزدیک پسندیدہ کروا دے جو چیز اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دی ہے ، جب تم اس عورت کی رخصتی کروا لو ، تو تم اسے یہ ہدایت کرنا کہ وہ تمہارے پیچھے نماز ادا کرے ۔ اعمش بیان کرتے ہیں : میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم سے کیا تو انہوں نے فرمایا : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا : تم یہ دعا کرنا ” اے اللہ ! تو میرے لئے میرے اہل خانہ میں برکت رکھ دے اور ان کے لئے مجھ میں برکت رکھ دے ۔ اے اللہ ! تو ان کو مجھ سے رزق عطا فرما اور مجھے ان سے رزق عطا فرما ۔ اے اللہ ! جب تک ، تو ہمیں اکٹھا رکھے گا بھلائی کی طرف اکٹھا رکھنا اور جب ، تو ہمارے درمیان علیحدگی کروائے گا ، تو بھلائی کی طرف علیحدگی کروانا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے جال صحیح کے رجال ہیں ۔