کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قریش کی خواتین کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا : سَوْدَةُ - ، وَكَانَتْ مُصْبِيَةً لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ مَاتَ - فَقَالَ [ لَهَا ] رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي ؟ " . قَالَتْ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ أَنْ لَا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ ، وَلَكِنْ أُكْرِمُكَ أَنْ يَضْغُوَ هَؤُلَاءِ [ الصِّبْيَةُ ] عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً . قَالَ : " فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ ؟ " . قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَرْحَمُكِ اللَّهُ إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی ایک خاتون کو شادی کا پیغام بھیجا ، جن کا نام سیدہ سودہ رضی اللہ عنہ تھا ، وہ خاتون بیوہ تھیں ، اُن کے پانچ ، یا شاید چھ بچے تھے ، ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے کہا: تم میرے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتی ہو ؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھ شادی کرنے میں یہ چیز رکاوٹ نہیں ہے کہ آپ میرے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں ، بلکہ میں اس چیز سے بچنا چاہ رہی ہوں کہ بچے صبح و شام آپ کے سرہانے موجود ہوں گے اور چیخ و پکار کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اس کے علاوہ کوئی اور چیز رکاوٹ ہے ؟ انہوں نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم پر رحمت کرے ، خواتین جو اونٹوں کی پشت پر سوار ہوتی ہیں ، ان میں سب سے بہتر قریش کی عورتیں ہیں ، جو اپنی اولاد کے لئے اُن کی کمسنی میں سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں ، اور اپنے شوہر کی سب سے زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7425
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2686) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (13014) اخرجه احمد فى المسند (319,318/1)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْأَفَهُ بِزَوْجٍ عَلَى قِلَّةِ ذَاتِ يَدِهِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَقَدْ عَلِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ ابْنَةَ عِمْرَانَ لَمْ تَرْكَبِ الْإِبِلَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَقَدْ عَلِمَ إِلَى آخِرِهِ . فَإِنَّهُ مَوْقُوفٌ فِي الصَّحِيحِ ، وَهُنَا مَرْفُوعٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین میں ، سب سے بہتر قریش کی خواتین ہیں ، جو اپنی اولاد کے لئے ان کی کمسنی میں سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں ، اور اپنے شوہر کی غربت کے باوجود اس پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں ( یا اس سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہیں ) “ ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے تھے کہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” آپ یہ بات جانتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس سے لے کر آخر تک کے کلمات نہیں ہیں ” صحیح “ میں
یہ روایت موقوف ہے اور یہاں ” مرفوع “ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7426
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ بِطَرِيقِ مَكَّةَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کے راستے میں ، یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اونٹ پر سوار ہونے والی خواتین میں ، سب سے بہتر قریش کی خواتین ہیں ، جو بچوں پر زیادہ مہربان ہوتی ہیں ” اور شوہر کی زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابوسبرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7427
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1411)»
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ : خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : مَا بِي عَنْكَ رَغْبَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لَا أُحِبُّ أَنْ أَتَزَوَّجَ وَبَنِيَّ صِغَارٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ لِمَ ؟ ] خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " . ¤ قُلْتُ : لَهَا عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے بے رغبت نہیں ہوں ، لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں شادی کر لوں ، جبکہ میرے بچے چھوٹے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین میں سب سے بہتر قریش کی خواتین ہیں ، جو بچوں پر ان کی کم سنی میں سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں اور شوہر کی سب سے زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7428
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (269/2)»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْعَتَّابِ قَالَ : قَامَ مُعَاوِيَةُ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ وَأَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَفِي الْمَنَاقِبِ أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
زید بن ابوعتاب بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے ، انہوں نے یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین میں ، سب سے بہتر قریش کی عورتیں ہیں ، جو اپنے شوہر کی سب سے زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں اور اپنی اولاد پر ، ان کی کمسنی میں ، سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک حدیث کے درمیان میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ مناقب سے متعلق باب میں اس نوعیت کی دیگر احادیث آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7429
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (342/19) اخرجه احمد فى المسند (101/4)»