مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب النكاح— نکاح کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي نِسَاءِ قُرَيْشٍ . باب: قریش کی خواتین کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْأَفَهُ بِزَوْجٍ عَلَى قِلَّةِ ذَاتِ يَدِهِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَقَدْ عَلِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ ابْنَةَ عِمْرَانَ لَمْ تَرْكَبِ الْإِبِلَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : وَقَدْ عَلِمَ إِلَى آخِرِهِ . فَإِنَّهُ مَوْقُوفٌ فِي الصَّحِيحِ ، وَهُنَا مَرْفُوعٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین میں ، سب سے بہتر قریش کی خواتین ہیں ، جو اپنی اولاد کے لئے ان کی کمسنی میں سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں ، اور اپنے شوہر کی غربت کے باوجود اس پر سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں ( یا اس سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہیں ) “ ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے تھے کہ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” آپ یہ بات جانتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس سے لے کر آخر تک کے کلمات نہیں ہیں ” صحیح “ میں
یہ روایت موقوف ہے اور یہاں ” مرفوع “ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔