حدیث نمبر: 7428
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ : خَطَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : مَا بِي عَنْكَ رَغْبَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لَا أُحِبُّ أَنْ أَتَزَوَّجَ وَبَنِيَّ صِغَارٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ لِمَ ؟ ] خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى طِفْلٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " . ¤ قُلْتُ : لَهَا عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے بے رغبت نہیں ہوں ، لیکن مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں شادی کر لوں ، جبکہ میرے بچے چھوٹے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اونٹوں پر سوار ہونے والی خواتین میں سب سے بہتر قریش کی خواتین ہیں ، جو بچوں پر ان کی کم سنی میں سب سے زیادہ مہربان ہوتی ہیں اور شوہر کی سب سے زیادہ دیکھ بھال کرتی ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب النكاح / حدیث: 7428
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (269/2)»