کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اچھے طریقے سے مطالبہ کرنا
عَنْ جَرِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِصَاحِبِ الْحَقِّ : " خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ وَافٍ ، أَوْ غَيْرَ وَافٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حق دار سے یہ فرمایا : تم اپنا حق احتیاط سے ( یعنی اچھے طریقے سے ) لو ! خواہ پورا ملے ، یا پورا نہ ملے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن عبدالجبار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6678
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2295)»
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْمُشْرِكِينَ لِيُقَاتِلَهُمْ . قَالَ لِي أَبِي : يَا جَابِرُ ، لَا عَلَيْكَ أَنْ تَكُونَ فِي نَظَّارِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَتَّى تَعْلَمَ إِلَى مَا يَصِيرُ أَمْرُنَا ، فَإِنِّي وَاللَّهِ لَوْلَا [ أَنِّي ] أَتْرُكُ بَنَاتٍ لِي بَعْدِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَيْنَ يَدَيَّ . قَالَ : فَبَيْنَا أَنَا فِي النَّظَّارِينَ إِذْ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي وَخَالِي عَادِلَتَهُمَا عَلَى نَاضِحٍ ، فَدَخَلَتْ بِهِمَا الْمَدِينَةَ لِنَدْفِنَهُمَا فِي مَقَابِرِنَا إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ يُنَادِي : [ أَلَا ] إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعُوا بِالْقَتْلَى فَيُدْفَنُوا فِي مَصَارِعِهِمَا ، حَيْثُ قُتِلُوا ، فَرَجَعْنَاهُمَا ، فَدَفَنَّاهُمَا حَيْثُ قُتِلَا . فَبَيْنَا أَنَا فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ إِذْ جَاءَنِي رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، لَقَدْ أَثَارَ أَبَاكَ عُمَّالَ مُعَاوِيَةَ [ فَبَدَا ] ؛ فَخَرَّجَ طَائِفَةً مِنْهُ ، فَأَتَيْتُهُ ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي دَفَنْتَهُ لَمْ يَتَغَيَّرْ إِلَّا مَا لَمْ يَدَعِ الْقَتْلُ أَوِ الْقَتِيلُ . فَوَارَيْتُهُ . قَالَ : وَتَرَكَ أَبِي دَيْنًا عَلَيْهِ مِنَ التَّمْرِ فَاشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي أُصِيبَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مِنَ التَّمْرِ ، وَقَدِ اشْتَدَّ عَلَيَّ بَعْضُ غُرَمَائِهِ فِي التَّقَاضِي فَأُحِبُّ أَنْ تُعِينَنِي عَلَيْهِ لَعَلَّهُ أَنْ يُنْظِرَنِي طَائِفَةً مِنْ نَخْلِهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ . قَالَ : " نَعَمْ آتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ النَّهَارِ " . فَجَاءَ ، وَجَاءَ مَعَهُ حَوَارِيُّوهُ ، وَقَدِ اسْتَأْذَنَ ، وَدَخَلَ ، وَقَدْ قُلْتُ لِامْرَأَتِي : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ الْيَوْمَ فَلَا أَرَيْتُكِ ، وَلَا تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي فِي شَيْءٍ ، وَلَا تُكَلِّمِيهِ ، فَدَخَلَ ، فَفَرَشَتْ لَهُ فِرَاشًا وَوِسَادَةً ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ . ¤ قَالَ : وَقُلْتُ لِمَوْلًى لِي : اذْبَحْ هَذِهِ الْعَنَاقَ وَهِيَ دَاجِنٌ سَمِينَةٌ ، وَالْوَحَاءَ وَالْعَجَلَ ، افْرُغْ مِنْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَيْقِظَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَأَنَا مَعَكَ . فَلَمْ يَزَلْ فِيهَا حَتَّى فَرَغْنَا ، وَهُوَ نَائِمٌ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَيْقَظَ يَدْعُو بِالطَّهُورِ ، وَإِنِّي أَخَافُ إِذَا فَرَغَ أَنْ يَقُومَ فَلَا يَفْرَغَنَّ مِنْ وُضُوئِهِ إِلَّا وَالْعَنَاقُ بَيْنَ يَدَيْهِ . فَلَمَّا قَامَ قَالَ : " يَا جَابِرُ ، ائْتِنِي بِطَهُورٍ " . فَلَمْ يَفْرُغْ مِنْ طَهُورِهِ حَتَّى وُضِعَتِ الْعَنَاقُ عِنْدَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ : " كَأَنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ حُبَّنَا اللَّحْمَ ، ادْعُ إِلَيَّ أَبَا بَكْرٍ " . قَالَ : ثُمَّ جَاءَ حَوَارِيُّوهُ الَّذِينَ كَانُوا عِنْدَهُ ، فَدَخَلُوا فَضَرَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ كُلُوا " . فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَفَضَلَ لَحْمٌ كَثِيرٌ قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّ مَجْلِسَ بَنِي سَلَمَةَ لَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ، وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَعْيُنِهِمْ مَا يَقْرَبُهُ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْذُوهُ ، فَلَمَّا فَرَغُ قَامَ وَقَامَ أَصْحَابُهُ ، فَخَرَجُوا بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَكَانَ يَقُولُ : " خَلُّوا ظَهْرِي لِلْمَلَائِكَةِ " . وَاتَّبَعْتُهُمْ حَتَّى بَلَغُوا أُسْكُفَّةَ الْبَابِ قَالَ : وَأَخْرَجَتِ امْرَأَتِي صَدْرَهَا ، وَكَانَتْ مُسْتَتِرَةً بِسَفِيفٍ فِي الْبَيْتِ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ . فَقَالَ : " صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ " . ثُمَّ قَالَ : " ادْعُ لِي فُلَانًا " لِغَرِيمِي الَّذِي اشْتَدَّ عَلَيَّ فِي الطَّلَبِ قَالَ : فَجَاءَ ، فَقَالَ : " أَيْسِرْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي إِلَى الْمَيْسَرَةِ - طَائِفَةً مِنْ دَيْنِكَ الَّذِي عَلَى أَبِيهِ إِلَى هَذَا الصِّرَامِ الْمُقْبِلِ " . قَالَ : مَا أَنَا بِفَاعِلٍ . وَاعْتَلَّ ، وَقَالَ : إِنَّمَا هُوَ مَالُ يَتَامَى . فَقَالَ : " أَيْنَ جَابِرٌ ؟ " . فَقَالَ : أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كُلٌّ لَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ " . فَنَظَرْتُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَإِذَا الشَّمْسُ قَدْ دَلَكَتْ قَالَ : " الصَّلَاةَ يَا أَبَا بَكْرٍ " ، فَانْدَفَعُوا إِلَى الْمَسْجِدِ ، قُلْتُ : قَرِّبْ أَوْعِيَتَكَ . فَكِلْتُ لَهُ مِنَ الْعَجْوَةِ ، فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا ، فَجِئْتُ أَسْعَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فِي مَسْجِدِهِ ] كَأَنِّي شَرَارَةٌ ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَرَ أَنِّي كِلْتُ لِغَرِيمِي تَمْرَهُ ، فَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : أَيْنَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ؟ " . فَجَاءَ يُهَرْوِلُ ، فَقَالَ : " سَلْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَتَمْرِهِ " . فَقَالَ : مَا أَنَا بِسَائِلِهِ ، قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ إِذْ أَخْبَرْتَ [ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يُوَفِّيهِ ] ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ الْكَلِمَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ : مَا أَنَا بِسَائِلِهِ . وَكَانَ لَا يُرَاجَعُ بَعْدَ الْمَرَّةِ الثَّالِثَةِ . فَقَالَ : " يَا جَابِرُ ، مَا فَعَلَ غَرِيمُكَ وَتَمْرُكَ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : وَفَّاهُ اللَّهُ وَفَضَلَ لَنَا مِنَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا . فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ ، وَقَالَ : أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تُكَلِّمِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : كُنْتَ تَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُورِدُ رَسُولَهُ بَيْتِي ، ثُمَّ يَخْرُجُ ، وَلَا أَسْأَلُهُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ ، وَعَلَى زَوْجِي قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ ؟ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکل کر مشرکین کی طرف گئے ، تاکہ ان کے ساتھ لڑائی کریں ، میرے والد نے مجھ سے فرمایا : اے جابر ! تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر تم مدینہ میں رہ کر اس بات کا جائزہ لو ، یہاں تک کہ تمہیں اس بات کا پتہ چل جائے کہ ہمارا انجام کیا ہوا ؟ اللہ کی قسم ! اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنے بعد بیٹیاں چھوڑ کے جا رہا ہوں ، تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ تم میرے سامنے شہید ہو جاتے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں منتظر لوگوں میں شامل تھا ، اسی دوران میری پھوپھی ، میرے والد اور میرے ماموں کی لاشیں لے کے آئیں ، ان دونوں کی میتیں ایک اونٹنی پر موجود تھیں ، وہ ان دونوں کو لے کر مدینہ منورہ آ گئی تھیں ، تاکہ ہم ان دونوں کو اپنے قبرستان میں دفن کریں ، اسی دوران ایک شخص آیا اور اس نے یہ اعلان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ مقتولین کو واپس لے جاؤ اور جہاں وہ شہید ہوئے ہیں ، انہیں وہاں دفن کیا جائے ، تو ہم انہیں واپس لے گئے اور ہم نے ان دونوں کو وہاں دفن کیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے ۔ ( سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) سیدنا معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا: اے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اہلکاروں نے آپ کے والد کی قبر کو خراب کیا ہے ، جس سے ان کا جسم ظاہر ہو گیا ہے ، راوی کہتے ہیں : میں وہاں آیا تو میں نے یہ صورت حال پائی کہ وہ بالکل ویسے ہی تھے جیسے میں نے انہیں دفن کیا تھا ، ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی ، البتہ اس چیز کا معاملہ مختلف ہے ، جو قتل چھوڑ جاتا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) پھر میں نے انہیں ڈھانپ دیا ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے اپنے ذمہ کچھ کھجوریں قرض کے طور پر چھوڑی تھیں ، ان کے قرض خواہوں نے تقاضا کرتے ہوئے میرے ساتھ سختی کی ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے والد فلاں موقع پر جام شہادت نوش کر گئے تھے ، ان کے ذمہ کچھ کھجوروں کی ادائیگی قرض کے طور پر لازم تھی ، تو ان کے بعض قرض خواہوں نے تقاضا کرتے ہوئے میرے ساتھ سختی کی ہے ، میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اس حوالے سے میری مدد کریں ، ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ مجھے اتنی مہلت دے دیں کہ جب تک اگلی دفعہ کھجوریں اتارنے کا وقت نہیں آ جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے اگر اللہ نے چاہا ، تو میں دوپہر کے قریب تمہارے پاس آ جاؤں گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، آپ کے ساتھ آپ کے حواری بھی تھے ، آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی ، پھر اندر تشریف لے آئے ، میں نے اپنی بیوی سے کہا: آج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف لانا ہے ، تو میں یہ نہ دیکھوں کہ تم نے میرے گھر میں کسی حوالے سے اللہ کے رسول کو اذیت پہنچانے والا کوئی کام کیا ہو ، اور تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بات بھی نہ کرنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اس عورت نے آپ کے لئے چٹائی بچھائی اور تکیہ رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر رکھا اور سو گئے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اپنے غلام سے کہا: کہ تم اس بکری کے بچے کو ذبح کر دو ، جو موٹا تازہ تھا ، اور تم یہ کام جلدی اور سرعت کے ساتھ کرنا ، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے اس کام سے فارغ ہو جانا ، میں تمہارا ساتھ دیتا ہوں وہ ایسا کرتا رہا ، یہاں تک کہ ہم اس سے فارغ ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران سوئے رہے ، میں نے اس سے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوں گے تو وضو کے لئے پانی طلب کریں گے اور میری یہ خواہش ہے کہ جب آپ اٹھ کر فارغ ہوں ، تو آپ کے وضو سے فارغ ہونے تک کھانا آپ کے سامنے ہونا چاہیے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، تو آپ نے فرمایا : اے جابر ! میرے وضو کا پانی لے کے آؤ ! ابھی آپ وضو کر کے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ اسی دوران وہ گوشت آپ کے سامنے رکھ دیا گیا تھا ، آپ نے میری طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : تمہیں یہ پتہ تھا کہ ہمیں گوشت پسند ہے ، تم ابوبکر کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ ساتھی بھی تشریف لے آئے ، جو آپ کے ساتھ پہلے موجود تھے ، وہ حضرات اندر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے ارشاد فرمایا : اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو ، ان حضرات نے کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور پھر بھی بہت سا گوشت بچ گیا ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! بنو سلمہ کی محفل میں لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے تھے اور آپ ان لوگوں کے نزدیک ان کی آنکھوں سے زیادہ محبوب تھے ، لیکن اس کے باوجود کوئی آپ کے قریب نہیں آتا تھا ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں آپ کو اذیت نہ پہنچا دے ، جب آپ فارغ ہوئے ، تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے اصحاب بھی اٹھ کھڑے ہوئے ، وہ حضرات آپ سے آگے نکل گئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میرے پیچھے والی جگہ فرشتوں کے لئے چھوڑ دو “ ۔ میں اُن حضرات کے پیچھے چلتا ہوا آیا ، یہاں تک کہ جب یہ حضرات دروازے کی چوکھٹ پر پہنچے ، تو میری بیوی نے گھر کے پردے کے پیچھے سے منہ نکال کر عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعائے رحمت کر دیں ! اللہ تعالیٰ آپ پر درود نازل کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم پر اور تمہارے شوہر پر رحمت نازل کرے ! پھر آپ نے فرمایا : میرے پاس فلاں شخص کو بلا کر لاؤ ! یہ اس قرض خواہ کے بارے میں تھا ، جس نے مطالبہ کرتے ہوئے میرے ساتھ سختی کی ہوئی تھی ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : وہ شخص آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جابر بن عبداللہ کو آسانی فراہم کرو ! جب تک اسے گنجائش میسر نہیں آ جاتی ، جو اس قرض کے حوالے سے ہو ، جو اس کے والد کے ذمہ تھا ، یہ آسانی اس وقت تک دو ، جب تک اگلی مرتب کھجوریں اتارنے کا وقت نہیں آتا ، اس شخص نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا ، اس نے علت پیش کی اور یہ کہا: کہ یہ یتیموں کا مال ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : جابر کہاں ہے ؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہاں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو ماپ کر دو ! اللہ تعالیٰ اسے ادائیگی کروا دے گا ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے آسمان کی طرف دیکھا ، سورج ڈھلنے والا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر ! نماز کا وقت ہو گیا ہے ، یہ حضرات مسجد تشریف لے گئے ، میں نے کہا: تم اپنا برتن آگے کرو ، پھر میں نے اسے ماپ کر عجوہ کھجوریں دینی شروع کیں ، تو اللہ تعالی نے اسے پوری ادائیگی کروا دی اور پھر بھی ہمارے پاس اتنی ، اتنی کھجوریں بچ گئیں ۔ میں دوڑتا ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد میں آیا ، یوں جیسے میں کوئی شرارہ ہوں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی ؟ کہ میں نے اپنے قرض خواہ کو کھجوریں ماپ کر دیں ، تو اللہ تعالی نے پوری ادائیگی کروا دی ، اور پھر بھی ہمارے پاس اتنی ، اتنی کھجوریں بچ گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر بن خطاب کہاں ہے ؟ وہ تیزی سے چلتے ہوئے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جابر بن عبداللہ سے اس کے قرض خواہ اور اس کی کھجوروں کے بارے میں پوچھو ! انہوں نے کہا: میں اس سے نہیں پوچھوں گا ، کیونکہ مجھے یہ بات پتہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کی پوری ادائیگی کروا دے گا ، جب آپ نے یہ بات بیان کر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی پوری کروا دے گا ، یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہر مرتبہ یہی گزارش کی کہ میں اس سے نہیں پوچھوں گا ، تیسری مرتبہ کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مراجعت نہیں کی جاتی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے جابر ! تمہارے قرض خواہ اور کھجوروں کا کیا معاملہ ہوا ؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے پوری ادائیگی کروا دی اور پھر بھی ہمارے پاس اتنی ، اتنی کھجوریں باقی بچ گئیں ۔ پھر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے پاس واپس گئے اور فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا تھا کہ تم نے اللہ کے رسول کے ساتھ کلام نہیں کرنا ہے ؟ اس خاتون نے کہا: کیا آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اپنے رسول کو میرے گھر لے کے آئے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی واپس تشریف لے جائیں ، اور میں نے آپ سے یہ بھی درخواست نہ کی ہو کہ آپ تشریف لے جانے سے پہلے میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعائے رحمت کر دیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نبیج عنزی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6679
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (15281)»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : حَضَرَ قِتَالُ أُحُدٍ فَدَعَانِي أَبِي فَقَالَ لِي : يَا جَابِرُ ، إِنِّي أَرَانِي أَوَّلَ مَقْتُولٍ يُقْتَلُ غَدًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَإِنِّي لَا أَدَعُ أَحَدًا أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيَّ دَيْنٌ ، وَلَكَ أَخَوَاتٌ ، فَاسْتَوْصِ بِهِنَّ خَيْرًا ، وَاقْضِ عَنِّي دَيْنِي ، فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَفَنْتُهُ ، وَآخَرَ فِي قَبْرٍ . فَكَانَ بِمَكَانٍ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ ، فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ دَفَنْتُهُ إِلَّا هَيْئَتَهُ عِنْدَ أُذُنِهِ ، فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ غَرِيمًا لِعَبْدِ اللَّهِ قَدْ أَلَحَّ عَلَى جَابِرٍ . فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَقَالَ : " خُذْ بَعْضًا ، وَأَنْسِئْ بَعْضًا إِلَى تَمْرِ عَامٍ قَابِلٍ " . فَأَبَى الرَّجُلُ ، فَأَغْلَظَ لَهُ عُمَرُ وَقَالَ : أَرَاكَ يَقُولُ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُذْ بَعْضًا وَأَنْسِئْ بَعْضًا فَتَأْبَى ؟ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَهْ يَا عُمَرُ ، لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالٌ " . قَالَ : فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّخْلِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَعْطِ الَّذِي لَهُ تَامًّا وَافِيًا ، وَإِذَا صَرَمْتَ فَأَعْلِمْنِي " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ أَدْرَكَتْكَ الْقَائِلَةُ عِنْدَنَا سَائِرَ الْيَوْمِ . فَفَرَشْتُ لَهُ فِي عَرِيشٍ لَنَا وَعَمَدْتُ إِلَى عَنْزٍ لَنَا فَذَبَحْتُهَا فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَرُدَّانِ عَنْهُ النَّاسَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَّبْتُ إِلَيْهِ الطَّعَامَ فَأَصَابَ مِنْهُ ، فَلَمَّا قَرُبَ لِيَنْطَلِقَ أَخْرَجَتِ امْرَأَتِي رَأْسَهَا وَوَجْهَهَا مِنَ الْخِدْرِ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَذْهَبُ وَمَا تَدْعُو لَنَا أَوْ لَمَّا تَدْعُو لَنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَرَاهَا إِلَّا كَيِّسَةً أَوْ أَكْيَسَ مِنْكَ " . فَدَعَا لَنَا ، ثُمَّ انْصَرَفَ . فَلَمَّا صَرَمْتُ قَضَيْتُ الَّذِي كَانَ لَهُ تَامًّا وَافِيًا وَفَضَلَ لَنَا سَبْعَةُ أَوْسُقٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ : " ادْعُ لِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " . فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَلْهُ " فَقَالَ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا أَنَّكَ تَقُولُ : سَلْهُ إِنْ سَأَلْتُهُ ، لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ صَلَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَوَاتِهِ مُبَارَكَةٌ فِيهَا مُسْتَجَابٌ لَهَا . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ عُمَرُ فَسَأَلَنِي ، فَحَدَّثْتُهُ . فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ الْخِلَافَةَ وَفَرَضَ الْفَرَائِضَ وَدَوَّنَ الدَّوَاوِينَ وَعَرَّفَ الْعُرَفَاءَ عَرَّفَنِي عَلَى أَصْحَابِي ، فَجَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَطْلُبُ الْفَرِيضَةَ فَقَصَّرَ بِهِ عُمَرُ عَمَّا كَانَ يَفْرِضُ لِأَصْحَابِهِ فَكَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ : مَا تَذْكُرُ مَا صَنَعَ فِي دَيْنِ عَبْدِ اللَّهِ . فَلَمْ أَزَلْ أُكَلِّمُهُ حَتَّى أَلْحَقَهُ بِأَصْحَابِهِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ نَحْوَ رِوَايَةِ أَحْمَدَ الْمُتَقَدِّمَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنگ اُحد کا وقت آیا ، تو میرے والد نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا : اپنے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ کل سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پہلے شہید ہونے والے افراد میں سے ، ایک میں ہوؤں گا اور میں کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑ کے جا رہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہو ، میرے ذمہ کچھ قرض ہے اور تمہاری بہنیں بھی ہیں ، تو تم ان کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو اور میری طرف سے میرا قرض ادا کر دینا ( سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) تو وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے شہید ہونے والے پہلے افراد میں شامل تھے ، میں نے انہیں دفن کر دیا اور ان کے ساتھ ایک اور صاحب کو ایک قبر میں دفن کیا ، ان کی قبر کے حوالے سے میرے ذہن میں کچھ الجھن تھی ، چھ ماہ گزرنے کے بعد میں نے ان کی میت نکالی ، تو وہ اسی دن کی طرح تھی ، جیسے اس دن میں نے انہیں دفن کیا تھا ، البتہ ان کے کان کے پاس کی جگہ کچھ تبدیل تھی ۔ جب ہم مدینہ منورہ واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ گزارش کی گئی کہ ( سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے والد ) سیدنا عبداللہ کے قرض خواہ نے جابر کے ساتھ سختی کی ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آگے پیدل چلتے ہوئے تشریف لائے آپ نے ( قرض خواہ سے ) فرمایا : تم کچھ وصولی کر لو اور کچھ ادھار کر لو ، جو اگلے سال کھجوریں آنے تک ہو ، اس شخص نے انکار کر دیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص پر سختی کی اور فرمایا : میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ کے رسول تمہیں ارشاد فرما رہے ہیں کہ کچھ وصولی کر لو اور کچھ ادھار کر لو اور تم پھر بھی انکار کر رہے ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! رک جاؤ ، حق دار کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت کا چکر لگایا ، پھر آپ نے فرمایا : اسے پوری ادائیگی کر دو اور جب تم کھجوریں اتار لو ، تو مجھے بتا دینا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ آپ کو دوپہر کے وقت ہمارے ہاں آرام کرنا چاہیئے ، میں نے آپ کے لئے اپنے چھپر میں بچھونا بچھایا اور پھر اپنی بکری کی طرف بڑھا ، تاکہ اسے ذبح کر دوں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ، تاکہ لوگوں کو آپ کے پاس آنے سے روکیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے کھانا آپ کی خدمت میں پیش کیا ، آپ نے وہ کھانا کھایا جب آپ تشریف لے جانے لگے ، تو میری بیوی نے پردے کے پیچھے سے اپنا سر اور چہرہ باہر نکالا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ تشریف لے جانے لگے ہیں ، جبکہ آپ نے ہمارے لئے کوئی دعا ہی نہیں کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ عورت سمجھدار ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم سے زیادہ سمجھ دار ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی اور پھر تشریف لے گئے ۔ جب میں نے کھجوریں اتاریں ، تو میں نے مکمل ادائیگی کر دی اور پھر بھی سات وسق ہمارے پاس بچ گئے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو بتایا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : عمر بن خطاب کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس سے پوچھو ! انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! اگر آپ نے یہ بات ارشاد نہ فرمائی ہوتی کہ تم اس سے پوچھو ! تو میں نے اس سے نہیں پوچھنا تھا کیونکہ مجھے یہ بات پتہ چل گئی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اس کے لئے برکت والی بھی ہو گی اور اس کے حق میں مستجاب بھی ہو گی ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تو میں نے انہیں پوری بات سنائی ۔ ( سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے اور انہوں نے ادائیگیاں مقرر کیں ، اور دیوان میں نام نوٹ کرنے شروع کیے ، اور مختلف لوگوں کو عریف مقرر کیا ، تو انہوں نے مجھے بھی میرے ساتھیوں کا عریف بنا دیا ، پھر وہ شخص آیا ، جس نے ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس کو اس کے دیگر ساتھیوں کی بہ نسبت کم حصہ دیا ، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں بات چیت کی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تمہیں یاد نہیں ہے ؟ کہ عبداللہ کے قرض کے سلسلے میں اس شخص نے کیا کیا تھا ؟ لیکن میں مسلسل اُن کے ساتھ بات چیت کرتا رہا ، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس شخص کو بھی اس کے ساتھیوں کے ساتھ ملا دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے اسے ایک اور سند کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جو امام أحمد کی نقل کردہ روایت ہے اور پہلے گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6680
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ عَجْوَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِي نَخْلِي وَفَاءٌ فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُأَخِّرَ عَنِّي أَوْ يَأْخُذَ بِحِسَابِ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَتَى هُوَ وَعُمَرُ ، فَكَلَّمَهُ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانُ ، خُذْ مِنْ جَابِرٍ ، وَأَخِّرْ عَنْهُ " . فَأَبَى فَكَادَ عُمَرُ أَنْ يَبْطِشَ بِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عُمَرُ مَهْ ؛ هُوَ حَقُّهُ " . ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ : " اذْهَبْ بِنَا إِلَى نَخْلِكَ " . فَانْطَلَقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ النَّخْلَ فَجَعَلَ يَنْظُرُ فِي رُءُوسِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " يَا جَابِرُ ، إِذَا جَدَّدْتَ نَخْلَكَ فَأَعْلِمْنِي " قَالَ : فَصَرَمْتُ نَخْلِي وَوَفَّيْتُهُ تَمْرَهُ ، وَبَقِيَ لِي عَشَرَةُ أَوْسُقٍ ، أَوْ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں : ( وہ روایت یہ ہے : ) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کی عجوہ کھجوریں دینی تھیں اور میرے کھجور کے درخت میں پوری ادائیگی کی جتنی کھجوریں نہیں تھیں ، میں اس شخص کے پاس گیا اور اس کے بارے میں بات چیت کی ، تو اس نے مجھے مہلت دینے سے انکار کر دیا ، یا اس حساب سے وصولی کرنے سے انکار کر دیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے ساتھ بات چیت کی ، آپ نے فرمایا : اے فلاں ! تم جابر سے ( کچھ ) وصولی کر لو اور کچھ مؤخر کر دو ، اس نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو مارنا چاہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رک جاؤ ! یہ اس کا حق ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم ہمیں ساتھ لے کر اپنے کھجوروں کے باغ کی طرف جاؤ ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا آیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے باغ میں داخل ہوئے ، آپ نے کھجور کے درختوں کا جائزہ لینا شروع کیا ، پھر ارشاد فرمایا : اے جابر ! جب تم اپنی کھجور کے درخت سے پھل اتار لو گے تو مجھے بتا دینا ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے کھجوروں کے درختوں سے پھل اتارا ، اور اس شخص کو پوری ادائیگی کر دی ، پھر بھی میرے پاس دس وسق ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) پندرہ وسق باقی بچ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح