حدیث نمبر: 6680
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : حَضَرَ قِتَالُ أُحُدٍ فَدَعَانِي أَبِي فَقَالَ لِي : يَا جَابِرُ ، إِنِّي أَرَانِي أَوَّلَ مَقْتُولٍ يُقْتَلُ غَدًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَإِنِّي لَا أَدَعُ أَحَدًا أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيَّ دَيْنٌ ، وَلَكَ أَخَوَاتٌ ، فَاسْتَوْصِ بِهِنَّ خَيْرًا ، وَاقْضِ عَنِّي دَيْنِي ، فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَفَنْتُهُ ، وَآخَرَ فِي قَبْرٍ . فَكَانَ بِمَكَانٍ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْءٌ ، فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ دَفَنْتُهُ إِلَّا هَيْئَتَهُ عِنْدَ أُذُنِهِ ، فَلَمَّا رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ غَرِيمًا لِعَبْدِ اللَّهِ قَدْ أَلَحَّ عَلَى جَابِرٍ . فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ ، فَقَالَ : " خُذْ بَعْضًا ، وَأَنْسِئْ بَعْضًا إِلَى تَمْرِ عَامٍ قَابِلٍ " . فَأَبَى الرَّجُلُ ، فَأَغْلَظَ لَهُ عُمَرُ وَقَالَ : أَرَاكَ يَقُولُ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُذْ بَعْضًا وَأَنْسِئْ بَعْضًا فَتَأْبَى ؟ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَهْ يَا عُمَرُ ، لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالٌ " . قَالَ : فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّخْلِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَعْطِ الَّذِي لَهُ تَامًّا وَافِيًا ، وَإِذَا صَرَمْتَ فَأَعْلِمْنِي " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَرَاكَ إِلَّا قَدْ أَدْرَكَتْكَ الْقَائِلَةُ عِنْدَنَا سَائِرَ الْيَوْمِ . فَفَرَشْتُ لَهُ فِي عَرِيشٍ لَنَا وَعَمَدْتُ إِلَى عَنْزٍ لَنَا فَذَبَحْتُهَا فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَرُدَّانِ عَنْهُ النَّاسَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَّبْتُ إِلَيْهِ الطَّعَامَ فَأَصَابَ مِنْهُ ، فَلَمَّا قَرُبَ لِيَنْطَلِقَ أَخْرَجَتِ امْرَأَتِي رَأْسَهَا وَوَجْهَهَا مِنَ الْخِدْرِ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَذْهَبُ وَمَا تَدْعُو لَنَا أَوْ لَمَّا تَدْعُو لَنَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أَرَاهَا إِلَّا كَيِّسَةً أَوْ أَكْيَسَ مِنْكَ " . فَدَعَا لَنَا ، ثُمَّ انْصَرَفَ . فَلَمَّا صَرَمْتُ قَضَيْتُ الَّذِي كَانَ لَهُ تَامًّا وَافِيًا وَفَضَلَ لَنَا سَبْعَةُ أَوْسُقٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ : " ادْعُ لِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " . فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَلْهُ " فَقَالَ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا أَنَّكَ تَقُولُ : سَلْهُ إِنْ سَأَلْتُهُ ، لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ صَلَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَوَاتِهِ مُبَارَكَةٌ فِيهَا مُسْتَجَابٌ لَهَا . ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ عُمَرُ فَسَأَلَنِي ، فَحَدَّثْتُهُ . فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ الْخِلَافَةَ وَفَرَضَ الْفَرَائِضَ وَدَوَّنَ الدَّوَاوِينَ وَعَرَّفَ الْعُرَفَاءَ عَرَّفَنِي عَلَى أَصْحَابِي ، فَجَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَطْلُبُ الْفَرِيضَةَ فَقَصَّرَ بِهِ عُمَرُ عَمَّا كَانَ يَفْرِضُ لِأَصْحَابِهِ فَكَلَّمْتُهُ ، فَقَالَ : مَا تَذْكُرُ مَا صَنَعَ فِي دَيْنِ عَبْدِ اللَّهِ . فَلَمْ أَزَلْ أُكَلِّمُهُ حَتَّى أَلْحَقَهُ بِأَصْحَابِهِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ نَحْوَ رِوَايَةِ أَحْمَدَ الْمُتَقَدِّمَةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنگ اُحد کا وقت آیا ، تو میرے والد نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا : اپنے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ کل سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پہلے شہید ہونے والے افراد میں سے ، ایک میں ہوؤں گا اور میں کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑ کے جا رہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہو ، میرے ذمہ کچھ قرض ہے اور تمہاری بہنیں بھی ہیں ، تو تم ان کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو اور میری طرف سے میرا قرض ادا کر دینا ( سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) تو وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے شہید ہونے والے پہلے افراد میں شامل تھے ، میں نے انہیں دفن کر دیا اور ان کے ساتھ ایک اور صاحب کو ایک قبر میں دفن کیا ، ان کی قبر کے حوالے سے میرے ذہن میں کچھ الجھن تھی ، چھ ماہ گزرنے کے بعد میں نے ان کی میت نکالی ، تو وہ اسی دن کی طرح تھی ، جیسے اس دن میں نے انہیں دفن کیا تھا ، البتہ ان کے کان کے پاس کی جگہ کچھ تبدیل تھی ۔ جب ہم مدینہ منورہ واپس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ گزارش کی گئی کہ ( سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے والد ) سیدنا عبداللہ کے قرض خواہ نے جابر کے ساتھ سختی کی ہوئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے آگے پیدل چلتے ہوئے تشریف لائے آپ نے ( قرض خواہ سے ) فرمایا : تم کچھ وصولی کر لو اور کچھ ادھار کر لو ، جو اگلے سال کھجوریں آنے تک ہو ، اس شخص نے انکار کر دیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص پر سختی کی اور فرمایا : میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ کے رسول تمہیں ارشاد فرما رہے ہیں کہ کچھ وصولی کر لو اور کچھ ادھار کر لو اور تم پھر بھی انکار کر رہے ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! رک جاؤ ، حق دار کو بات کرنے کا بھی حق ہوتا ہے ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت کا چکر لگایا ، پھر آپ نے فرمایا : اسے پوری ادائیگی کر دو اور جب تم کھجوریں اتار لو ، تو مجھے بتا دینا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ آپ کو دوپہر کے وقت ہمارے ہاں آرام کرنا چاہیئے ، میں نے آپ کے لئے اپنے چھپر میں بچھونا بچھایا اور پھر اپنی بکری کی طرف بڑھا ، تاکہ اسے ذبح کر دوں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ، تاکہ لوگوں کو آپ کے پاس آنے سے روکیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو میں نے کھانا آپ کی خدمت میں پیش کیا ، آپ نے وہ کھانا کھایا جب آپ تشریف لے جانے لگے ، تو میری بیوی نے پردے کے پیچھے سے اپنا سر اور چہرہ باہر نکالا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ تشریف لے جانے لگے ہیں ، جبکہ آپ نے ہمارے لئے کوئی دعا ہی نہیں کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ عورت سمجھدار ہے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم سے زیادہ سمجھ دار ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعا دی اور پھر تشریف لے گئے ۔ جب میں نے کھجوریں اتاریں ، تو میں نے مکمل ادائیگی کر دی اور پھر بھی سات وسق ہمارے پاس بچ گئے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو بتایا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : عمر بن خطاب کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس سے پوچھو ! انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم یا رسول اللہ ! اگر آپ نے یہ بات ارشاد نہ فرمائی ہوتی کہ تم اس سے پوچھو ! تو میں نے اس سے نہیں پوچھنا تھا کیونکہ مجھے یہ بات پتہ چل گئی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا اس کے لئے برکت والی بھی ہو گی اور اس کے حق میں مستجاب بھی ہو گی ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تو میں نے انہیں پوری بات سنائی ۔ ( سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے اور انہوں نے ادائیگیاں مقرر کیں ، اور دیوان میں نام نوٹ کرنے شروع کیے ، اور مختلف لوگوں کو عریف مقرر کیا ، تو انہوں نے مجھے بھی میرے ساتھیوں کا عریف بنا دیا ، پھر وہ شخص آیا ، جس نے ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس کو اس کے دیگر ساتھیوں کی بہ نسبت کم حصہ دیا ، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں بات چیت کی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تمہیں یاد نہیں ہے ؟ کہ عبداللہ کے قرض کے سلسلے میں اس شخص نے کیا کیا تھا ؟ لیکن میں مسلسل اُن کے ساتھ بات چیت کرتا رہا ، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُس شخص کو بھی اس کے ساتھیوں کے ساتھ ملا دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے اسے ایک اور سند کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جو امام أحمد کی نقل کردہ روایت ہے اور پہلے گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6680
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح