کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص تنگ دست کو آسانی فراہم کرے ، یا اسے مہلت دے ، یا وصولی ترک کر دے
حدیث نمبر: 6664
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُهُ ، وَأَنْ تُكْشَفَ كُرْبَتُهُ ، فَلْيُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ مستجاب الدعوات بن جائے اور اس کی پریشانی ختم ہو جائے ، اُسے تنگدست کو آسانی فراہم کرنی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص تنگدست کو آسانی فراہم کرتا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص تنگدست کو آسانی فراہم کرتا ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6665
وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَظَلَّ اللَّهُ عَبْدًا فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ ؛ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، أَوْ تَرَكَ لِغَارِمٍ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي الْمُسْنَدِ ، وَفِيهِ عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ ؛ وَنُسِبَ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ ، اس بندے کو اپنے سائے میں رکھے گا ، جس دن اُس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا ، جس ( بندے نے ) تنگدست کو مہلت دی ہو گی ، یا مقروض کو چھوڑ دیا ہو گا “ ۔
یہ روایت عبداللہ نے ” مسند “ میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے ، جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے ” مسند “ میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباس بن فضل انصاری ہے ، جس کی نسبت جھوٹ کی طرف کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 6666
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَسْجِدِ ، وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ هَكَذَا - وَأَوْمَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ - : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، أَوْ وَضَعَ لَهُ وَقَاهُ اللَّهُ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعُوبَةَ السُّلَمِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف تشریف لے گئے ، آپ اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے اس طرح فرما رہے تھے ، یہاں ابوعبدالرحمن نامی راوی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے زمین کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” جو شخص تنگدست کو مہلت دیتا ہے ، یا اُسے ادائیگی معاف کر دیتا ہے ، اللہ تعالی اسے جہنم کی تپش سے بچائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعوبہ سلمی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعوبہ سلمی ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6667
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، أَوْ يَسَّرَ عَلَيْهِ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِيُ الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتَّبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص تنگدست کو مہلت دیتا ہے ، یا اُسے آسانی فراہم کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس دن اپنے سائے میں رکھے گا ، جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن معتب ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن معتب ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6668
وَعَنْ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ فَلْيُيَسِّرْ عَلَى مُعْسِرٍ ، أَوْ لِيَضَعْ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَسْعَدَ . وَعَاصِمٌ ضَعِيفٌ ، وَلَمْ يُدْرِكْ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو اس دن سایہ نصیب کرے ، جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا ، تو اسے تنگدست کو آسانی فراہم کرنی چاہیے ، یا اسے ادائیگی معاف کر دینی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عاصم بن عبیداللہ کے حوالے سے ، سیدنا اسعد رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، عاصم نامی راوی ضعیف ہے ، اُس نے سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں عاصم بن عبیداللہ کے حوالے سے ، سیدنا اسعد رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، عاصم نامی راوی ضعیف ہے ، اُس نے سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 6669
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص تنگ دست کو مہلت دے ، یا اسے ادائیگی معاف کر دے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُسے اپنا سایہ عطا کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن عبدالرحمن مخزومی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن عبدالرحمن مخزومی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 6670
وَعَنْ أَبِي الْيَسَرِ قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يَسْتَظِلُّ فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ أَنْظَرَ مُعْسِرًا حَتَّى يَجِدَ شَيْئًا ، أَوْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا يَطْلُبُهُ ، يَقُولُ : مَا لِي عَلَيْكَ صَدَقَةٌ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَيَخْرِقُ صَحِيفَتَهُ " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي الْيَسَرِ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لوگوں میں سے سب سے پہلے ، جو شخص قیامت کے دن اللہ کے سائے میں آئے گا ، وہ ایسا شخص ہو گا ، جس نے تنگدست کو اتنی مہلت دی ہو گی ، جب تک اسے گنجائش نہیں ملتی ، یا جو چیز اس سے لینی تھی ، وہ چیز اس پر صدقہ کر دی ہو گی ، اور یہ کہا: ہو گا : کہ میرا مال تم پر صدقہ ہے ، اور یہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے ہے ، اور پھر اس نے ( لین دین کے ) صحیفے کو پھاڑ دیا ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 6671
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، أَوْ تَصَدَّقَ عَلَيْهِ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَامٍ الْأَفْرِيقِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص تنگدست کو مہلت دے ، یا ( لازم ادائیگی کو ) اُس پر صدقہ کر دے گا ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُسے اپنے سائے میں رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلام افریقی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلام افریقی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6672
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى حِبِّي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يُظِلُّ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، أَوْ أَعَانَ أَخْرَقَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے محبوب ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں : کہ میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنے سائے میں رکھے گا ، جو تنگدست کو مہلت دے گا ، یا اپاہج شخص کی مدد کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید مقبری ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید مقبری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6673
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُنْجِيَهُ اللَّهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَأَنْ يُظِلَّهُ تَحْتَ عَرْشِهِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کی پریشانیوں سے نجات عطا کرے ، اور اسے اپنے عرش کے سائے میں رکھے اُسے تنگدست کو مہلت دینی چاہیئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6674
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَكُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا ، اللہ تعالی قیامت کے دن اُسے اپنے سائے میں رکھے گا اور ہر بھلائی صدقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یزید بن عبدالملک نوفلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6675
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا إِلَى مَيْسَرَتِهِ أَنْظَرَهُ اللَّهُ بِذَنْبِهِ إِلَى نَوْبَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ الْجَارُودِ ؛ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ . وَشَيْخُ الْحَكَمِ ، وَشَيْخُ شَيْخِهِ لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تنگدست کو گنجائش ملنے تک کی مہلت دے گا ، اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کے گناہ کے حوالے سے اس کی نوبت تک کی مہلت دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن جارود ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور حکم کا استاد ، اور اس کے استاد کا استاد ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن جارود ہے ، جسے ازدی نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور حکم کا استاد ، اور اس کے استاد کا استاد ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 6676
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَهٌ " . قَالَ : ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُكَ تَقُولُ : مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ . ثُمَّ سَمِعْتُكَ تَقُولُ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ " . قَالَ : " لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الدَّيْنُ ، فَإِذَا حَلَّ فَأَنْظَرَهُ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا ، تو اسے ہر ایک دن ، اتنی رقم جتنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا ، اُسے روزانہ اُس سے دُگنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا “ ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے پہلے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا تو اسے روزانہ اتنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا “ ۔ پھر میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص تنگدست کو مہلت دے گا اسے روزانہ دگنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب قرض کی واپسی کا وقت نہ آیا ہو ، اس سے پہلے روزانہ اتنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ، اور جب وہ وقت گزر جائے اور وہ پھر بھی اسے مہلت دے ، تو اسے روزانہ اُس سے دُگنی رقم صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6677
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ ، فَأَخَّرَهُ إِلَى أَجَلِهِ كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ ، فَإِنْ أَخَّرَهُ بَعْدَ أَجَلِهِ كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی شخص کا ، کسی دوسرے شخص پر حق ہو ، اور وہ اس کو متعین مدت تک مؤخر کر دے ، تو اسے صدقہ کرنے کا اجر ملے گا ، اور اگر وہ متعین مدت کے بعد بھی اس کو مؤخر کر دے ، تو اُسے روازنہ اتنی رقم صدقہ کرنے کا اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔