مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ حُسْنِ الطَّلَبِ . باب: اچھے طریقے سے مطالبہ کرنا
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ عَجْوَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِي نَخْلِي وَفَاءٌ فَأَتَيْتُهُ فَكَلَّمْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُأَخِّرَ عَنِّي أَوْ يَأْخُذَ بِحِسَابِ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَتَى هُوَ وَعُمَرُ ، فَكَلَّمَهُ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانُ ، خُذْ مِنْ جَابِرٍ ، وَأَخِّرْ عَنْهُ " . فَأَبَى فَكَادَ عُمَرُ أَنْ يَبْطِشَ بِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عُمَرُ مَهْ ؛ هُوَ حَقُّهُ " . ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ : " اذْهَبْ بِنَا إِلَى نَخْلِكَ " . فَانْطَلَقْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ النَّخْلَ فَجَعَلَ يَنْظُرُ فِي رُءُوسِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " يَا جَابِرُ ، إِذَا جَدَّدْتَ نَخْلَكَ فَأَعْلِمْنِي " قَالَ : فَصَرَمْتُ نَخْلِي وَوَفَّيْتُهُ تَمْرَهُ ، وَبَقِيَ لِي عَشَرَةُ أَوْسُقٍ ، أَوْ خَمْسَةَ عَشَرَ وَسْقًا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤انہوں نے یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں : ( وہ روایت یہ ہے : ) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کی عجوہ کھجوریں دینی تھیں اور میرے کھجور کے درخت میں پوری ادائیگی کی جتنی کھجوریں نہیں تھیں ، میں اس شخص کے پاس گیا اور اس کے بارے میں بات چیت کی ، تو اس نے مجھے مہلت دینے سے انکار کر دیا ، یا اس حساب سے وصولی کرنے سے انکار کر دیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے ساتھ بات چیت کی ، آپ نے فرمایا : اے فلاں ! تم جابر سے ( کچھ ) وصولی کر لو اور کچھ مؤخر کر دو ، اس نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو مارنا چاہا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رک جاؤ ! یہ اس کا حق ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم ہمیں ساتھ لے کر اپنے کھجوروں کے باغ کی طرف جاؤ ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا آیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے باغ میں داخل ہوئے ، آپ نے کھجور کے درختوں کا جائزہ لینا شروع کیا ، پھر ارشاد فرمایا : اے جابر ! جب تم اپنی کھجور کے درخت سے پھل اتار لو گے تو مجھے بتا دینا ، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے کھجوروں کے درختوں سے پھل اتارا ، اور اس شخص کو پوری ادائیگی کر دی ، پھر بھی میرے پاس دس وسق ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) پندرہ وسق باقی بچ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔