عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَعَامٍ ، وَقَدْ حَسَّنَهُ صَاحِبُهُ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ ، فَإِذَا طَعَامٌ رَدِيءٌ فَقَالَ : " بِعْ هَذَا عَلَى حِدَةٍ ، وَهَذَا عَلَى حِدَةٍ فَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ ، وَهُوَ صَدُوقٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اناج کے پاس سے ہوا جسے اس کے مالک نے سجا کے رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس میں داخل کیا ، تو اس میں کچھ خراب اناج بھی موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے الگ سے فروخت کرو اور اسے الگ سے فروخت کرو کیونکہ جو شخص ہمارے ساتھ ملاوٹ کرے ( یا ہمیں دھوکہ دے ) وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور وہ صدوق ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور وہ صدوق ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ : انْطَلَقْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَقِيعِ الْمُصَلَّى ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي طَعَامٍ ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا ، فَإِذَا هُوَ مَغْشُوشٌ ، أَوْ مُخْتَلِفٌ ، فَقَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ ؛ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتے ہوئے ” بقیع مصلی “ کی طرف جا رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اناج میں داخل کیا پھر آپ نے اسے نکالا تو اس میں ملاوٹ ہوئی تھی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ مختلف قسم کا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو ہمیں دھوکہ دے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن عمیر ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن عمیر ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا ، وَالْمَكْرُ وَالْخِدَاعُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ نِزَاعُ كَلَامٍ لِسُوءِ حِفْظِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ، مکر اور دھوکہ جہنم میں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں عاصم بن بہدلہ کے بارے میں اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں عاصم بن بہدلہ کے بارے میں اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری صلی اللہ علیہ وسلم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سُوقِ الْنَقِيعِ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي غِرَارَةٍ ، فَأَخْرَجَ طَعَامًا مُخْتَلِفًا - أَوْ قَالَ : مَغْشُوشًا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْغِيرَازِ ، وَقَدْ قِيلَ : إِنَّهُ يَفْتَعِلُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نقیع کے بازار کی طرف جا رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ایک ڈھیر میں داخل کیا ، تو آپ نے مختلف قسم کا اناج نکالا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ملاوٹ والا اناج نکالا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو ہمیں دھوکہ دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوغیراز ہے ایک قول کے مطابق وہ شخص حدیث ایجاد کیا کرتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوغیراز ہے ایک قول کے مطابق وہ شخص حدیث ایجاد کیا کرتا تھا ۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا فَقَالَ : " يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ ، أَسْفَلُ هَذَا مِثْلُ أَعْلَاهُ ؟ " . فَقَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ غَشَّ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن ابوغرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اناج فروخت کر رہا تھا آپ نے ارشاد فرمایا : اے اناج والے شخص ! اس کا نیچے والا حصہ اس کے اوپر والے حصے کی مانند ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مسلمانوں کو دھوکہ دے وہ ان میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ رَمَانَا بِالنَّبْلِ فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص ہمیں تیر مارے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ فَقَالَ : " مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ہوا آپ نے اپنا دست مبارک ( اناج میں ) داخل کیا اور ارشاد فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمیں دھوکہ دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں قیس بن ربیع نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں قیس بن ربیع نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى السُّوقِ فَرَأَى طَعَامًا مُصْبَرًا ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ ، فَأَصَابَ طَعَامًا رَطْبًا قَدْ أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ ، فَقَالَ لِصَاحِبِهِ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟ " . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَطَعَامٌ وَاحِدٌ . قَالَ : " أَفَلَا عَزَلْتَ الرَّطْبَ عَلَى حِدَتِهِ وَالْيَابِسَ عَلَى حِدَتِهِ فَيَبْتَاعُونَ مَا يَعْرِفُونَ ؟ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار کی طرف تشریف لے گئے آپ نے اناج کا ڈھیر دیکھا آپ نے اپنا دست مبارک اس میں داخل کیا ، تو آپ کا ہاتھ ایسے اناج تک پہنچا جو تر تھا جسے بارش لاحق ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اناج کے مالک سے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے یہ ایک ہی قسم کا اناج ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر نے ترکو الگ کیوں نہیں رکھا اور خشک کو الگ کیوں نہیں رکھا ؟ تاکہ لوگ اسے پہچان کر خریدتے ، جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : أَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَنْهَى عَنْ بَيْعٍ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا مَعَايِشُنَا ؟ قَالَ : " لَا خِلَابَ إِذًا " . فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارادہ کیا کہ آپ سودا کرنے سے منع کر دیں لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ہمارا ذریعہ معاش ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر کوئی دھوکہ نہیں دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔