مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْغِشِّ . باب: دھوکہ دینا ( یا ملاوٹ کرنا )
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَعَامٍ ، وَقَدْ حَسَّنَهُ صَاحِبُهُ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ ، فَإِذَا طَعَامٌ رَدِيءٌ فَقَالَ : " بِعْ هَذَا عَلَى حِدَةٍ ، وَهَذَا عَلَى حِدَةٍ فَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ ، وَهُوَ صَدُوقٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اناج کے پاس سے ہوا جسے اس کے مالک نے سجا کے رکھا ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس میں داخل کیا ، تو اس میں کچھ خراب اناج بھی موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے الگ سے فروخت کرو اور اسے الگ سے فروخت کرو کیونکہ جو شخص ہمارے ساتھ ملاوٹ کرے ( یا ہمیں دھوکہ دے ) وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور وہ صدوق ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔