مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْغِشِّ . باب: دھوکہ دینا ( یا ملاوٹ کرنا )
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ : انْطَلَقْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَقِيعِ الْمُصَلَّى ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي طَعَامٍ ، ثُمَّ أَخْرَجَهَا ، فَإِذَا هُوَ مَغْشُوشٌ ، أَوْ مُخْتَلِفٌ ، فَقَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ ؛ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ ، وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتے ہوئے ” بقیع مصلی “ کی طرف جا رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اناج میں داخل کیا پھر آپ نے اسے نکالا تو اس میں ملاوٹ ہوئی تھی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ مختلف قسم کا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے ، جو ہمیں دھوکہ دے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن عمیر ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔