مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْغِشِّ . باب: دھوکہ دینا ( یا ملاوٹ کرنا )
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى السُّوقِ فَرَأَى طَعَامًا مُصْبَرًا ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ ، فَأَصَابَ طَعَامًا رَطْبًا قَدْ أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ ، فَقَالَ لِصَاحِبِهِ : " مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟ " . قَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَطَعَامٌ وَاحِدٌ . قَالَ : " أَفَلَا عَزَلْتَ الرَّطْبَ عَلَى حِدَتِهِ وَالْيَابِسَ عَلَى حِدَتِهِ فَيَبْتَاعُونَ مَا يَعْرِفُونَ ؟ مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار کی طرف تشریف لے گئے آپ نے اناج کا ڈھیر دیکھا آپ نے اپنا دست مبارک اس میں داخل کیا ، تو آپ کا ہاتھ ایسے اناج تک پہنچا جو تر تھا جسے بارش لاحق ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اناج کے مالک سے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے یہ ایک ہی قسم کا اناج ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر نے ترکو الگ کیوں نہیں رکھا اور خشک کو الگ کیوں نہیں رکھا ؟ تاکہ لوگ اسے پہچان کر خریدتے ، جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔