کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: رزق کی طلب میں میانہ روی اختیار کرنا ، اور اس بارے میں احتیاط کرنا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْغِنَى لَيْسَ عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُوَفِّي عَبْدَهُ مَا كَتَبَ لَهُ مِنَ الرِّزْقِ فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرَّمَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ نِسْطَاسٍ مَوْلَى كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے لوگو ! خوشحالی سامان زیادہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اصل خوشحالی نفس کی خوشحالی ہے اور اللہ تعالیٰ بندے کو وہ پورا رزق عطا کرتا ہے ، جو اس نے بندے کے لئے طے کیا ہوتا ہے ، تو تم رزق کے حصول میں احتیاط سے کام لو وہ چیز حاصل کرو جو حلال ہے اور اسے چھوڑ دو جسے اس نے حرام قرار دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن نسطاس ہے ، جو کثیر بن صلت کا غلام ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6286
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6583)»
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا النَّاسَ ، فَقَالَ : " هَلُمُّوا إِلَيَّ " . فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ ، فَجَلَسُوا فَقَالَ : " هَذَا رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّهُ لَا تَمُوتُ نَفْسٌ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ رِزْقَهَا ، وَإِنْ أَبْطَأَ عَلَيْهَا ، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَأْخُذُوهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ - تَعَالَى - ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُنَالُ مَا عِنْدَهُ إِلَّا بِطَاعَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قُدَامَةُ بْنُ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے لوگوں کو بلایا اور فرمایا : میری طرف آ جاؤ لوگ آپ کی طرف آ کر بیٹھ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : یہ تمام جہانوں کے پروردگار کے قاصد سیدنا جبرائیل نے مجھے یہ بتایا ہے کہ کوئی بھی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک وہ اپنا رزق مکمل حاصل نہیں کر لیتا خواہ وہ تاخیر سے اسے ملے تو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رزق حاصل کرتے ہوئے احتیاط سے کام لو رزق کا تاخیر سے آنا تمہیں اس بات پر مجبور نہ کرے کہ تم اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ہمراہ حاصل کرو کیونکہ اس کے پاس جو چیز موجود ہے وہ صرف اس کی فرمانبرداری کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قدامہ بن زائدہ بن قدامہ ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6287
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1253)»
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : اشْتَرَيْتُ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ سِهَامِ خَيْبَرَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا ذِئْبَانِ عَادِيَانِ ظَلَّا فِي غَنَمٍ أَضَاعَهَا رَبُّهَا فِي طَلَبِ الْمُسْلِمِ الْمَالَ وَالشَّرَفَ لِدِينِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : خیبر کے حصوں میں سے ایک سو حصے میں نے خرید لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” دو بھیڑیے جو بکریوں پر حملہ آور ہوں تو ان بکریوں کے مالک کا اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا مال اور شرف کا حصول مسلمان کے دین کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6288
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (173/17 و174)»
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَعْجَلَنَّ إِلَى شَيْءٍ تَظُنُّ أَنَّكَ إِنِ اسْتَعْجَلْتَ إِلَيْهِ أَنَّكَ مُدْرِكُهُ ، وَإِنْ كَانَ اللَّهُ لَمْ يُقَدِّرْ ذَلِكَ ، وَلَا تَسْتَأْخِرَنَّ عَنْ شَيْءٍ تَظُنُّ أَنَّكَ إِنِ اسْتَأْخَرْتَ عَنْهُ أَنَّهُ مَدْفُوعٌ عَنْكَ إِنْ كَانَ اللَّهُ قَدَّرَهُ عَلَيْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم کسی ایسی چیز کی طرف جلدی نہ کرو جس کے بارے میں تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم نے اگر اس کی طرف جلدی کی ، تو تم اس تک پہنچ جاؤ گے اگر وہ چیز اللہ تعالیٰ نے تمہارے مقدر میں نہ لکھی ہو اور نہ ہی تم کسی ایسی چیز کے حوالے سے تاخیر کرو کہ جس کے بارے میں تم یہ گمان رکھتے ہو کہ اگر تم نے اس سے تاخیر کی تو وہ تم سے پرے ہو جائے گی اگر اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے مقدر میں لکھا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن مجاہد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6289
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (348/19)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى تَمْرَةً غَائِرَةً فَأَخَذَهَا فَنَاوَلَهَا سَائِلًا فَقَالَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ لَمْ تَأْتِهَا لَأَتَتْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور پڑی ملاحظہ فرمائی ، تو اسے اٹھایا اور اسے ایک مانگنے والے کو دے دیا ، اور فرمایا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم اس تک نہ آتے تو اس نے تم تک آ جانا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں صرف عبداللہ بن أحمد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6290
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُرْضِيَنَّ أَحَدًا بِسُخْطِ اللَّهِ ، وَلَا تَحْمَدَنَّ أَحَدًا عَلَى فَضْلِ اللَّهِ ، وَلَا تَذُمُّنَّ أَحَدًا عَلَى مَا لَمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ ، فَإِنَّ رِزْقَ اللَّهِ لَا يَسُوقُهُ إِلَيْكَ حِرْصُ حَرِيصٍ ، وَلَا يَرُدُّهُ عَنْكَ كَرَاهِيَةُ كَارِهٍ ، وَإِنَّ اللَّهَ بِقِسْطِهِ وَعَدْلِهِ جَعَلَ الرَّوْحَ وَالْفَرَحَ فِي الرِّضَا وَالْيَقِينِ ، وَجَعَلَ الْهَمَّ وَالْحَزَنَ فِي السُّخْطِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَاتُّهِمَ بِالْوَضْعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم اللہ کی ناراضگی کے ہمراہ کسی کو راضی کرنے کی کوشش ہرگز نہ کرو اور اللہ تعالی کے فضل کے حوالے سے کسی شخص کی حمد بیان نہ کرو اور اس چیز کے حوالے سے تم کسی کی مذمت نہ کرو جو اللہ تعالی نے تمہیں نہیں دی ہے کیونکہ کسی لالچی شخص کا لالچ اس رزق کو تمہاری طرف نہیں لے آئے گا اور کسی ناپسندیدہ شخص کی ناپسندیدگی اس رزق کو تم سے پھیر نہیں دے گی بے شک اللہ تعالیٰ نے انصاف اور عدل کے مطابق ، آرام اور خوشی کو رضا اور یقین میں رکھا ہے اور غم اور پریشانی کو ناراضگی میں رکھا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے ، جس پر حدیث ایجاد کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6291
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10514)»
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ يَوْمَ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي [ وَاللَّهِ ] مَا آمُرُكُمْ إِلَّا مَا أَمَرَكُمْ بِهِ اللَّهُ ، وَلَا أَنْهَاكُمْ إِلَّا عَنْ مَا نَهَاكُمُ اللَّهُ عَنْهُ فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَطْلُبُهُ رِزْقُهُ كَمَا يَطْلُبُهُ أَجْلُهُ ، فَإِنْ تَعَسَّرَ عَلَيْكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَاطْلُبُوهُ بِطَاعَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ ؛ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے موقع پر منبر پر چڑھے آپ نے اللہ تعالی کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اللہ کی قسم میں تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہوں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے اور تمہیں اسی چیز سے منع کرتا ہوں جس اللہ تعالیٰ نے تمہیں منع کیا ہے ، تو تم ( رزق کے ) حصول میں احتیاط سے کام لو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے تم میں سے کسی ایک شخص کو اس کا رزق یوں طلب کرتا ہے ، جس طرح اس کی موت اس کا پیچھا کرتی ہے اگر اس رزق میں سے کسی چیز کے تم تک آنے میں دشواری ہو ، تو تم اسے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان حاطبی ہے ، جسے امام ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6292
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2737)»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نَفَثَ رُوحُ الْقُدُسِ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَخْرُجَ مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى تَسْتَكْمِلَ أَجَلَهَا وَتَسْتَوْعِبَ رِزْقَهَا ، فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، وَلَا يَحْمِلَنَّكُمُ اسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ أَنْ تَطْلُبُوهُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُنَالُ مَا عِنْدَهُ إِلَّا بِطَاعَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” روح القدس نے مجھے یہ بتایا ہے کہ کوئی بھی شخص دنیا سے اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک اس کا وقت مکمل نہیں ہو جاتا اور وہ اپنا پورا رزق حاصل نہیں کر لیتا اور تم اپنے ( رزق ) کے حصول میں احتیاط سے کام لو ! رزق کا تاخیر سے آنا تمہیں اس بات پر مجبور نہ کرے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ہمراہ اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو کیونکہ جو کچھ اس کے پاس موجود ہے اسے صرف اس کی فرمانبرداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6293
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7694)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ صَبَاحٍ يَعْلَمُ مَلَكٌ فِي السَّمَاءِ ، وَلَا فِي الْأَرْضِ بِمَا يَصْنَعُ اللَّهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَهُ رِزْقُهُ ، فَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ الثَّقَلَانِ الْجِنُّ وَالْإِنْسُ أَنْ يَصُدُّوا عَنْهُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ مَا اسْتَطَاعُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ لَيِّنُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی صبح پیدا کرتا ہے ، تو اس میں آسمان میں موجود ہر فرشتہ اور زمین میں موجود ہر فرشتہ یہ بات جانتا ہے کہ اس دن میں اللہ تعالیٰ کیا کرے گا اور بندے کو اس کا رزق نصیب ہوتا ہے خواہ تمام جنات اور انسان دونوں گروہ اس کے خلاف اکٹھے ہو کر اس کے رزق کو اس سے روکنے کی کوشش کریں تو بھی وہ ایسا نہیں کر سکتے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ حدیث میں کمزور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6294
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرِّزْقَ لَيَطْلُبُ الْعَبْدَ كَمَا يَطْلُبُهُ أَجَلُهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَكْثَرَ مِمَّا يَطْلُبُهُ أَجْلُهُ " . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رزق بندے کا یوں پیچھا کرتا ہے ، جس طرح موت اس کا پیچھا کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ اس سے زیادہ اس کا پیچھا کرتا ہے جتنا اس کی موت اس کا پیچھا کرتی ہے “ ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6295
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1254)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الرِّزْقَ لَا تُنْقِصُهُ الْمَعْصِيَةُ ، وَلَا تَزِيدُهُ الْحَسَنَةُ ، وَتَرْكُ الدُّعَاءِ مَعْصِيَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” رزق کو کوئی گناہ کم نہیں کرتا اور کوئی نیکی اس میں اضافہ نہیں کرتی اور دعا کو ترک کرنا معصیت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6296
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (708)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ فَرَّ أَحَدُكُمْ مِنْ رِزْقِهِ أَدْرَكَهُ كَمَا يُدْرِكُهُ الْمَوْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کوئی شخص اپنے رزق سے فرار اختیار کرے تو وہ رزق اس تک اسی طرح پہنچ جائے گا جس طرح موت اس تک پہنچ جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6297
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (611)»