حدیث نمبر: 6286
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْغِنَى لَيْسَ عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُوَفِّي عَبْدَهُ مَا كَتَبَ لَهُ مِنَ الرِّزْقِ فَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ ، خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرَّمَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ نِسْطَاسٍ مَوْلَى كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے لوگو ! خوشحالی سامان زیادہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اصل خوشحالی نفس کی خوشحالی ہے اور اللہ تعالیٰ بندے کو وہ پورا رزق عطا کرتا ہے ، جو اس نے بندے کے لئے طے کیا ہوتا ہے ، تو تم رزق کے حصول میں احتیاط سے کام لو وہ چیز حاصل کرو جو حلال ہے اور اسے چھوڑ دو جسے اس نے حرام قرار دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن نسطاس ہے ، جو کثیر بن صلت کا غلام ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6286
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6583)»